طلبئہ مدارس مثالی مدرس کیسے بنیں؟-یاسر ندیم الواجدی

طلبہ مدارس مثالی مدرس کیسے بنیں نامی کتاب اس وقت میرے سامنے ہے۔ کتاب کا نام ہی اپنے مشمولات کے بارے میں مکمل وضاحت کررہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ دور سخت انحطاط کا دور ہے۔ حالاں کہ نہ مدارس کی کمی ہے اور نہ طلبہ مدارس کی، بلکہ مالی وسائل کے اعتبار سے بھی بہت سے مدارس بڑی جامعات کو ٹکر دے رہے ہیں، لیکن عمومی اعتبار سے ہمارے نظام مدارس میں ان سب کے باوجود انحطاط کا دور دورہ ہے۔ صرف بھارت کے ہی مدارس سے ایک محتاط اندازے کے مطابق پندرہ ہزار کے قریب فضلاء تیار ہوتے ہیں، لیکن ان فضلائے مدارس میں رجال علم کی تعداد کا تناسب بہت کم ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں استعداد سازی میں طالب علم کا خود بنیادی کردار ہوتا ہے، وہیں استاذ کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر استاذ مثالی نہ ہو تو اس کا شاگرد کیسے مثالی بن سکتا ہے۔ جب تک طالب علم مدرسے کی چہار دیواری میں رہتا ہے، زندہ شخصیات میں اس کے اساتذہ ہی اس کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ وہ انھی کو دیکھ کر تابناک اسلامی تاریخ سے اپنے کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مدرسے سے ایسی عمر میں نکلتا ہے کہ اگر اس کے اساتذہ کی چھاپ اس پر پڑچکی ہو تو مخالف ماحول خواہ کتنا ہی منفی ہو اس پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے مدرس کا مثالی ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا طالب علم کا محنتی ہونا۔
مؤلف کتاب جناب مولانا صدیق احمد صاحب نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اس کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ انھوں نے ایک طالب علم کی نگاہ سے یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ دوران تعلیم ہی مثالی مدرس بننے کے لیے کیا جتن کیے جاسکتے ہیں۔ یہ کتاب اس موضوع پر ان کا حاصل مطالعہ ہے، بلکہ یہ ایک کشکول ہے جس میں آیات واحادیث، اکابر کے تجربات و ملفوظات اور ان کے واقعات کو بڑے خوبصورت انداز میں سجایا گیا ہے۔ کتاب کو جستہ جستہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے اختصار کے باوجود مواد کی کثرت کی بنا پر ممتاز ہے۔ دعا ہے کہ مؤلف کی یہ کتاب نوجوانوں کو راہ عمل دکھانے میں ممد ومعاون ہوگی اور موصوف کی یہ سعی دیگر بہت سی تالیفات کے لیے ان کو ترغیب دلاتی رہے گی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*