طلبہ کارکنوں کی ضمانت کا معاملہ:دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار

نئی دہلی :دہلی تشدد کیس میں طلبہ کارکنوں کی ضمانت کے خلاف دہلی پولیس کی درخواست پر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ دہلی تشدد کیس میں طالب علم کارکن نتاشا ناروال ، دیوانگنا کالیتا اور آصف اقبال کو جمعرات کی رات ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ وہ دہلی میں شہریت قانون کے خلاف فسادات سے متعلق گزشتہ ایک سال سے جیل میں تھے۔عدالت نے کہاکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑ سکتا ہے ، ہم اس معاملے میں نوٹس جاری کرنا چاہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی تینوں کارکن دیوانگانہ ، آصف ، نتاشا ناروال کی ضمانت برقرار رکھی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے ضمانت دینے سے متعلق فیصلے پر روکنے سے انکار کردیا ، تاہم سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تینوں کارکنوں کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔دہلی پولیس نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ حکم پر روک لگنی چاہئے ، اس حکم سے ایسا لگتا ہے کہ تینوں کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے ، اس میںکئی پولیس اہلکار شامل تھے اور 700 افراد زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ فسادات پر قابو پالیا گیا ہے ، لہٰذا یو اے پی اے نافذنہیں ہوتا ہے۔ کیا اس طرح کے سنگین جرم کو کمزور سمجھا جاسکتا ہے؟ حکم پر روک لگائی جانی چاہیے۔دہلی پولیس نے کہا کہ تینوں ملزموں کو جیل سے باہر رکھا جانا جائے لیکن حکم پر روک لگائی جائے ۔ ہائی کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ دہلی فسادات پر یو اے پی اے کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق ہائی کورٹ نے کہا کہ یو اے پی اے کو ملک کے دفاع سے متعلق معاملات میں استعمال کیا جانا چاہیے ، نہ ہی اس سے کم اور نہ ہی زیادہ یعنی اگر ہم اس معاملے میں یو اے پی اے لگاتے ہیں تو وہ غیر آئینی ہو گیا ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو مثال کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ہم تینوں کی ضمانت منسوخ نہیں کررہے ہیں ، تینوں ملزم جیل سے باہر رہیں گے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم دہلی ہائی کورٹ کے یو اے پی اے کے بارے میں دیے گئے فیصلے کی جانچ کریں گے۔ تینوں ملزمان کو نوٹس دیا گیاہے ، اس معاملے کی سماعت 19 جولائی کو ہوگی۔