ٹکراؤ کی سیاست اور بھارتی سماج-ڈاکٹر ایم اعجاز علی

(سابق رکن راجیہ سبھا)
9110102789
9431016479
ٹکراؤ کی سیاست نے ہمیشہ سماجی مشن کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سلسلہ میں ایکشن ان طبقات کی طرف سے شروع کیا جاتا ہے جن کو اقتدار حاصل کرنے کا ہوس ہے اور ان ایکشنوں کا ری ایکشن دیکھا جاتا ہے بھارتیہ سماج کے کمزور طبقات کے بیچ جن کے لیے تحفظ، تجارت اور تعلیم ہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ سماج کا دبنگ طبقہ چاہے وہ جس مذہب یا سماج کا ہو وہ تو چاہتا ہی ہے کہ مذہب اور کمیونٹی کے نام پر ٹکراؤ ہوتا رہے تاکہ بھارت کی کمزور آبادی اپنے تحفظ، تجارت (روزی روٹی) اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کو بھول کر بغیر کچھ سوال کئے، ان کے پیچھے چلتی رہے۔ سنگھ پریوار جو سماج کے دبنگ طبقات کا ہی گڑھ ہے، وہ ٹکراؤ کی سیاست،ہندوازم کے نام پر کرتا چلا آرہا ہے تو محمد علی جناح، سید شہاب الدین جیسے نمائندے اسلام کے نام پر اسی کام کو تاحیات کرتے رہے۔ بیچ میں عبیداللہ خاں اعظمی نے کمان سنبھالی تھی اور آج کل اویسی برادران کررہے ہیں۔ یہ بھی تو مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والے دبنگ طبقات سے ہی آتے ہیں۔ انہیں بھی تو اس بات کا احساس نہیں کہ صرف اقتدار پانے کی ان کی ہوس نے مسلمانوں کی بڑی آبادی کو حاشیے پر لاکر کھڑا کیا ہے اور فی الوقت ”تحفظ“ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہوچکا ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول کو دیکھتے ہوئے اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ ’سیکولرزم‘ کے بدلے جو ”ازم“ بھارت کے ماحول پر غالب ہوتا جارہا ہے،اس سے ملک و سماج کی حفاظت کیسے ہو۔ اب کسی کے انتظار کا وقت نہیں رہا ہے اور اس کام کے لیے عام مسلمانوں کے بیچ سے ہی نئی سوچ والے کو سامنے آنا ہوگا جو حالات کو سنبھالنے کی طرف قدم اٹھائیں۔ سنگھ پریوار والے اب کسی کی سننے والے نہیں ہیں۔ مذہب کے نام پر ایسے مسالے (فارمولے) ان کے پاس بہت ہیں جس کے ذریعہ وہ اکثریت اور اقلیت سماج کے درمیان تناؤ بڑھاتے چلے جائیں گے تاکہ ایک ایسا وقت آئے جب اقلیت سماج خود سمٹ کر کنارے ہوجائے اور اسے خود لگنے لگے کہ وہ دوئم درجہ کے شہری ہیں اور انہیں اکثریتی آبادی کے تابع رہ کر اپنی زندگی گذارنی چاہئے۔ ان کی کامیاب ہوتی اس مہم کی ابھی بھی ہوا نکالی جاسکتی ہے،کیوں کہ سنگھیوں کی تقریباً سو سالوں کی لگاتار نفرتی مہم کے باوجود برادران وطن کی بڑی آبادی (اچھی خاصی آبادی) خاص کر پچھڑے اور دلتوں میں ابھی بھی رواداری بچی ہوئی ہے۔ مہاتما پھولے، ستیہ پال جی مہاراج، ڈاکٹرامبیڈکر، نائیکر جیسے مہاپروشوں نے ان دبنگ طبقوں کی حرکتوں کی پول کھولنے کاجو کام کیا ہے اسے پچھڑا اور دلت سماج ابھی پوری طرح بھولا نہیں ہے۔ ان کے آباء واجداد کو جو اذیتیں ماضی میں دی گئی تھیں اور جس کا تذکرہ ان کے لٹریچر میں موجود ہیں، وہ ان دبنگ طبقات سے علیحدہ رہنے کی انہیں یاد دلاتا رہتاہے۔ سنگھ پریوار نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کے خلاف جانور (گائے)، جائیداد (وقف پروپرٹیاں) اور جلوس کے نام پر ان کمزور برادران وطن کو اکسانے کا لگاتار کام کیا اور ان مہاپروشوں کے اسباق کو بھلا دینے کی مہم چلائی اور انہیں گمراہ کیا، وہیں اس بات کو بھی افسوس کے ساتھ بتانے کی ہمت کررہا ہوں کہ مسلم سربراہ بھی حکمت سے کام لینے کے بجائے انہی ایشور کے خلاف مسلم سماج کو بھی ایک بیریر پر کھڑے ہوجانے کا جوش بھرتے رہے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ برادران وطن کے کمزور طبقات بھی سنگھیوں کی اسی چال میں پھر سے پھنستے چلے جارہے ہیں،جس چال سے بڑی مشکل سے انہیں باہر نکالنے کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ حکمت یہ ہونی چاہئے تھی کہ تحفظ، تعلیم اورعزت کے ایشو پر کامن پلیٹ فارم سے آندولن چلنا چاہئے تھا، جس میں استحصال زدہ برادران وطن کو ہی سامنے رکھ کر بیک سے سپورٹ کرتے رہیں۔ آج مہنگائی،بے روزگاری اور بدعنوانی سے ملک جتنا پریشان ہے اس پر تمام برادران وطن کو اکٹھا تو کیا ہی جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ ان کے بیچ عام بھارتیوں کی شکل و صورت میں جانا ہوگا۔ ہندوستانی زبان میں انہیں سمجھانا ہوگا اور کامن پلیٹ فارم سے جانا ہوگا۔ زرعی قوانین کے خلاف جس طرح سے متحد ہوکر سارا سماج سامنے آیا اور سرکار کو جھکادیا یہ ایک زبردست مثال ہے،جس میں نہ تو کوئی فساد ہوا اور نہ کوئی گولی ہی چلی، جبکہ سنگھیوں نے انہیں مذہبی لبادہ اڑھانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن اس تحریک کے کمانڈروں نے تحریک کے رخ کو موڑنے نہیں دیا۔ اچھا ہوا کہ اس تحریک میں کوئی مسلمان سامنے نہیں آیا ورنہ کھیل ہی بگڑ جاتا۔ سامنے نہ آنے کا فیصلہ (ٹکیت صاحب کے ساتھ بھی) اگر مسلمانوں نے خود نہیں لیا تو بہت اچھا فیصلہ تھا اور اگر تحریک کاروں نے نہیں لایا تو یہ بھی اچھا ہی ہوا۔ یہی تو میرا کہنا ہے کہ کم سے کم 10 برسوں تک کے لیے مسلمانوں کو ہر ایشو پر سامنے آنے سے پرہیز کرکے بھی دیکھنا چاہئے۔ ہمیں تو مسلم نمائندوں کی حرکتوں سے یہی شکوہ رہا ہے کہ نیشنل سطح پر اٹھنے والے کامن ایشوز کے رخ کو ہمیشہ مسلم سماج کی طرف مضبوطی سے موڑنے کا کام کرتے رہے ہیں۔ اپنی لیڈری کے چکر میں ”آبیل مجھے مار“ والی ان کی پالیسی نے ہی سارا کھیل بگاڑ رکھاہے۔ اپنی اسی ناعقلی کے تحت سنگھ پریوار کی طرف سے پھینکے گئے مسالوں کو یہ اس طرح سے لیتے ہیں کہ وہ مسالہ نہ رہ کر ایک حساس مسئلہ بن جاتا ہے اور اس طرح سنگھ پریوار اپنے مقصد (کمیونل پولرائزیشن) میں کامیاب ہوتا چلا گیا۔ این پی آر اور سی اے اے کے معاملے کو ہی دیکھئے کہ اس میں جس طرح سے پورے ملک میں مسلم محلوں کے ٹکڑوں پر بیٹھ کر تحریک (مخالفت میں) چلائی گئی، یہ صحیح ترکیب نہیں تھی۔ سی اے اے اور این پی آر کا مسئلہ صرف مسلمانوں سے متعلق تھوڑے ہی ہے۔ آسام کے رزلٹ نے یہ دکھا دیا کہ اس میں مسلمانوں سے تین گنا زیادہ پچھڑے، دلت اور آدیواسی طبقات پھنس گئے تھے، جس میں مرکزی حکومت بھی ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا تھا۔ یہ رزلٹ دیکھنے کے بعد انہیں طبقات کے لوگوں نے سنگھیوں کو نشانہ پر لینا شروع کردیا اور وہ بھاگتے نظر آرہے تھے۔ لیکن مسلمانوں میں جھوٹے فخر کا جذبہ اتنا بھر ہوا ہے کہ کنٹرول سے باہر ہے۔ سی اے اے کی نکڑ سبھاؤں میں یہ کہنے کی ضرورت کیا تھی کہ ”ہم نے یہاں 800 سالوں تک حکومت کی ہے، لہذا ہمیں یہاں سے کون باہر نکال دے گا۔“ اسی جھوٹے خمار کے ساتھ غریب مسلمانوں کو نکڑ پر بٹھالینا اور نام نہاد سیکولر سربراہوں کے ذریعے بھاشن دلوانا، اس سے کیا فائدہ۔ اس ترکیب سے بھلے ہی وارڈ کاؤنسلر کے چناؤ میں ہم فائدہ اٹھاسکتے ہیں، لیکن سماج گمراہی کا شکار ہی ہوتا ہے۔
اس معاملہ میں میرا سوال یہی رہا کہ جب این پی آر اور سی اے اے کے معاملے میں خراب اثر پچھڑے، دلتوں اور آدی واسیوں پر بھی پڑا اور مسلمانوں سے تین گنا زیادہ اثر پڑا ہے تو پھر ان کی بستیوں میں اس کے خلاف نکڑ سبھا کیوں نہیں کروائی گئی، صرف مسلم محلوں کے نکڑوں پر ہی کیوں۔ اگر پچھڑے اور دلت بھی تیار ہوکر مخالفت کرتے تو مرکزی سرکار ویسے ہی پیچھے ہٹتی جیسے ”زرعی قوانین“ میں ہٹی ہے۔ ابھی تو مرکزی سرکار جب چاہے گی پھر سے سی اے اے پر کارروائی شروع کرسکتی ہے اور اس کا سیاسی Milageطے ہے۔ وہ تو شکر منائیے اوپر والے کا کہ عین وقت میں ’کورونا‘ جیسے وائرس کو پوری دنیا میں دوڑایا۔ ورنہ دہلی میں تو فساد شروع ہوہی چکا تھا جو دھیرے دھیرے بڑھتا چلا جاتا اور پورے ملک میں پھیل سکتا تھا اور پھر نتیجہ وہی ہوتا جو بابری مسجد، پرسنل لاء کے ساتھ ہوا ہے۔ غور کیجئے تو پچھلے سو سالوں میں مسلم سربراہوں نے برادرانِ وطن کے دلوں کو توڑنے کا ہی کام کیا ہے جوڑنے کا نہیں۔ سنگھ پریوار تو اقتدار کی حصولیابی کی خاطر مسلمانوں کے دلوں کو توڑنے کا کام کرتا ہے لیکن ہماری کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ ہم برادران وطن کے دلوں کو جیتنے کا کام کریں۔
جمہوریت ہے تو چناؤ تو ہونا ہی ہے اور سنگھی ذہنیت سماج میں کمیونل پولرائزیشن کے لیے مذہبی ایشوز کو کھڑا کرے گا ہی ایسی صورت کو پیچھے ڈھکیلنے کے لیے ہمیں چاہئے کہ ’کامن ایشوز‘ پر لوگوں کو جوڑیں۔ یہ کام کسی نان کمیونل پلیٹ فام سے ہی ممکن ہے۔ اب وہ وقت نہیں رہا کہ مسلمانوں کی بنیاد پر قائم تنظیم سے ہم برادران وطن کے کسی بھی طبقہ کو اس سے جوڑلیں۔ مسلم لیگ، اتحاد المسلمین، مسلم مورچہ کے نام پر سیاست کرنا ٹھیک نہیں ہے، بلکہ اب ایسا کرنا غلط ثابت ہوگا۔ عام مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے سیاسی جلسوں میں جانے سے پرہیز کریں جہاں صرف مسلمانوں کی بات ہو اور برادران وطن کو چیلنج کیا جائے۔ حالات تو چیخ چیخ کر یہی بتارہے ہیں کہ ایسے سیاسی جلسوں میں بھیڑ لگانے والوں اور دھرم سنسد کی طرح تقریر کرنے والے ملک وسماج کے ہمدرد نہیں ہیں۔ اسی طرح ہمیں ووٹ جسے بھی دینا ہو دیں لیکن شور کیوں مچائیں۔ خاموشی میں ہی بڑی طاقت ہوتی ہے۔