تخلیقی تنقید کی آبرو:حقانی القاسمی

ابرار احمد اجراوی
تخلیق اور تنقید کا جنم ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ دونوں کاباہمی رشتہ بڑا مضبوط ہے۔ دونوں کے مکمل ملن سے ہی ادب کا روشن چہرہ نکھر کر سامنے آتا ہے۔ تنقید کے بغیر تخلیق، خواہ وہ شعر ہو یا نثر،ادھوری رہتی ہے۔ تنقید ہی تخلیق کی تفسیر و توضیح اور اس کی توصیف و تحسین کرتی ہے۔ تخلیقی نگار خانے میں اس کی حیثیت اور مرتبے کا تعین تنقید ہی کرتی ہے۔تنقید اور تخلیق میں کون برتر اور بالاہے، یہ بحث بہت فرسودہ ہوچکی ہے۔ اور نہ ہی اس قسم کی بحث سے زبان وادب کی کوئی بھلائی متوقع ہے۔اردو میں تنقید نگاروں کی کمی نہیں،اردو تنقید کے بنیاد گزاروں مولانا حالی اور مولانا امداد اثر اما م سے لے کر اب تک تنقید نویسوں کی ایک بھیڑ نظر آتی ہے۔ایک ڈھونڈو ہزار ملیں گے۔ نام شماری کی جائے تو صرف ناموں کی بہت بڑی جلد تیار ہوسکتی ہے،مگر ایسے تنقید نگار جن کی تنقیداپنے اسلوب اور مافیہا کی وجہ سے تخلیقیت کا ترفع حاصل کرلے، ایسے تنقید نویس اردو میں بہت زیادہ نہیں۔تخلیقی تنقید لکھنے والے ناقدین انگلی پر شمار کیے جاسکتے ہیں۔ اردو میں تنقید کو سنجیدگی، وقار، طنز ومزاح سے پاک،متانت سے عبارت ایک صنف باور کرلیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں ایسی روکھی پھیکی،خشک اور سپاٹ تنقید لکھی گئی ہے کہ قاری انھیں پڑھنا تو کجا، بغیر کسی مجبوری کے انھیں ہاتھ بھی لگانا نہیں چاہتا۔ وہ ایسی خشک، بے جان اور بے مزہ تنقیدی تحریروں کو دیکھ کر اپنا زاوےۂ نظر تبدیل کرلیتا ہے۔
حقانی القاسمی کی تنقید کا یہی امتیاز ہے کہ انھوں نے تنقید کو اس سپاٹ پن کے عذاب سے نجات دلا دی ہے۔ وہ بڑی معنی خیز تنقید لکھتے ہیں۔ سادہ مگر پرکار۔ان کے الفاظ بھی نئے ہیں اور لہجہ بھی۔اظہار خیال کے لیے ان کے پاس الفاظ کی کثرت ہے۔ الفاظ و تراکیب، عمدہ استعارے اورمحاورے ان کے سامنے دست بستہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ مضمون کتنا بھی مشکل ہو ، اس کو وہ اپنے الفاظ کے سانچے میں سہل اندازمیں ڈھال دیتے ہیں۔ وہ نئے جملے جملے تراشتے اور اس کو تنقید کی دنیا میں متعارف کراتے ہیں۔ان کے بعض جملے تو زبان زد ہیں۔ان کی تنقیدی تحریروں میں غضب کی تازگی، سلاست، روانی اور شگفتگی ہوتی ہے۔وہ ندرت ، جدت اور طرز ادا سے مملو ہوتی ہے۔ صباحت و ملاحت کا پیکر۔انھوں نے تنقید کو انشا ئیہ کا درجہ دے دیاہے اور پھر بھی تنقید کی دھار کند نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اپنے منفرد تخلیقی اور انشائی اسلوب کی وجہ سے دھار دار ہوجاتی ہے۔ بہت سے تنقید نگار ان کے طرز تحریر پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اورمجھے حیرت ہوتی ہے کہ ان کے تخلیقی اسلوب نگارش کو کو تنقید کے لیے نامبارک و نامسعود قرار دیتے ہیں، مگرایسی بات کرنے والے، خواہ وہ اردو تنقید کے ستون ہی کہلاتے ہوں، ان کے اس نقطۂ نظر سے اختلاف کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔مشہور ناقد انور سدید تو ان کے اس اسلوب کویوں سراہتے ہیں:
’’حقانی القاسمی نے اپنی تنقید کو تخلیق قرار دیا ہے جو اس حقیقت کا اظہاریہ ہے کہ وہ فن پارے کا صرف تفریحی مطالعہ نہیں کرتے بلکہ مصنف کے باطن میں اترکر اس کرب کو بھی محسوس کرتے ہیں جو تخلیق کے لمحے میں اس نے محسوس کیا تھااور پھر حقانی القاسمی خود بھی تخلیق مکرر کے عمل سے گزرتے ہیں اور مصنف کے تخلیقی عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔‘‘
حقانی القاسمی کے علم و آگہی کا ہرگوشہ روشن اور منور ہے۔اور ذہن کی ساری کھرکیاں کھلی ہوئی ہیں۔وہ ادب و صحافت کے ساتھ سیاست و سماج کا بھی درک رکھتے ہیں۔ وہ عربی، فارسی، انگریزی اور اردو ہندی کے تخلیقی اور تنقیدی سرمایے پر گہری اور عمیق نگاہ رکھتے ہیں۔انھوں نے نثر و نظم کی تقریبا تمام اصناف پر تنقیدی مضامین لکھے ہیں، وہ فکشن اور شعر کسی بھی موضوع پر قلم اٹھائیں، پہلے متون کی گہرائی میں اترتے ہیں اور پھر اپنا رخش قلم کاغذ کے سینے پر دوڑاتے ہیں۔وہ زود نویس بھی ہیں اور بسیار نویس بھی۔ان کا تنقیدی اعمال نامہ اس کم عمری میں ہی بہت طویل ہوگیا ہے۔ لاتخف،فلسطین کے چار ممتاز شعراء،طواف دشت جنوں، دار العلوم دیوبند: ادبی شناخت نامہ،رینو کے شہر میں،خوشبو، روشنی اور رنگ،شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان، تنقیدی اسمبلاژ، ادب کولاژ ان کے تنقیدی سفر کے سنگ میل ہیں۔ یہ کتابیں مضامین کا مجموعہ ہیں، مگر ہر مضمون ایک متن کی حیثیت رکھتا ہے جس سے کئی تنقیدی متون تیار کیے جاسکتے ہیں۔
تنقید کی تعریف بہت سے ناقدین نے کی ہے، اس کی ماہیت اور اس کے عناصر کو جملوں میں قید کیا ہے، جامع اور مانع تعریف کرنے کی کوشش میں ایران توران کی ہانکی ہے۔ پھر بھی تنقید کی مکمل اور جامع تعریف کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ وجہ وہی ہے کہ ان کی نظر بہت محدود اور مشروط ہے۔ وہ فارمولائی حصار میں بند نظر آتے ہیں۔ادبی گروہ بندی کے اسیر ہیں۔ اپنے مفادات کے حصار میں قدی ہیں۔تنقید کیا ہے،اس کی ماہیت اور عناصر اربعہ کیا ہیں، حقانی القاسمی کے تخلیقی انداز میں اس کے حدود اربعہ اور اس کی ماہیت کا نقشہ یوں ہے:
’’تنقید، تجسس، تفحص اور تکشف کا عمل ہے۔ تنقید تخلیق کا کاشفہ بھی کرتی ہے اور محاسبہ بھی۔ تنقید در اصل ایک طرح سے تخلیق کی توسیع اور تفریج ہے۔ تنقید کوئی سائنسی طبعیاتی یا ریاضیاتی عمل نہیں۔ تنقید ہم ’کشف المحجوب‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ کیونکہ اس سے تخلیق میں مخفی معانی و مفاہیم کی تعبیر میں مدد ملتی ہے۔ تنقید میں ۲+۲=۴ نہیں ہوتا۔ قطعیت اور حتمیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…‘‘(واقیمو الوزن بالقسط، مشمولہ استعارہ، ج:۳، ش:۷، جنوری مارچ ۲۰۰۲ء، ص:۲۷۸)
حقانی تخلیقی ناقد ہیں۔ ان کے الفاظ، جملوں کی نشست و برخاست میں تنوع اور دل کشی ہے۔ان کی تنقید میں بھی تخلیق کا حسن اور جمال رچا ہوتا ہے۔وہ اپنی تنقید میں بے قافیہ اور ردیف کی شاعری کرتے ہیں۔ وہ تخلیق اور تنقید کے درمیان مماثلت کے قائل ہیں۔وہ دونوں میں فاصلہ کی دیوار کھڑی کرنے کے روا دار نہیں۔موہ تنقید اور تخلیق کو ایک دوسرے کا حریف اور مخالف باور نہیں کرتے۔انھوں نے تخلیق اور تنقید کے درمیان باہمی مشارکت و مماثلت پر بھی روشنی ڈالی ہے اور دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’تخلیق میں تنقید بھی مضمر ہوتی ہے اور تخلیق ہی سے تنقید منتج ہوتی ہے۔ ارسطو نے ہومر کی نظموں کو دیکھ کر ہی بوطیقا مرتب کی تھی اور عرب ناقد قدامہ بن جعفر نے بھی تخلیق سے ہی اصول نقد تشکیل دیے تھے۔ نقد الشعر کا بنیادی محور و مرکز عرب شعراء کا کلام ہی تھا۔ پس ثابت ہوا کہ تنقید، تخلیق ہی کا ایک انش ہے۔ اس کا ہی ایک انگ ہے اور اسی کے بطن سے یہ جنم لیتی ہے۔ ایسے میں چیخوف کی یہ بات کیسے مان لی جائے کہ نقاد وہ مکھی ہے جو گھوڑے کو ہل چلانے سے روکتی ہے اور فلابیر کا یہ کہنا کہ تنقید ادب کے جسم پر ایک کوڑھ ہے، کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ یہ در اصل تنقید اور تخلیق کے رشتے سے عدم آگہی کی دلیل ہے۔ تنقیدی شعور ہی در اصل تخلیقی جوہر کو جلا بخشتا ہے۔‘‘(واقیمو الوزن بالقسط، مشمولہ استعارہ، ج:۳، ش:۷، جنوری مارچ ۲۰۰۲، ص:۲۷۹)
ان کی تنقیدی تحریریں پڑھیے اور ان میں بے ساختہ در آنے والے ناموں اور کتابوں کے طویل سلسلے پر رک کر ذرا غور کیجیے،ان کے تنقیدی مضمون میں درج انگریزی پیراگرافس کو پرھیے تو معلوم ہوگا کہ حقانی القاسمی انگریزی ادبیات سے بخوبی آگاہ ہیں، اور یہ بجا ہے کہ انھیں مغربی علوم و افکار پر بھی درک حاصل ہے۔انھوں نے مغربی علمی سرمایے کو بھی پڑھا اور جدب کیا ہے،مگر وہ اصل الاصول مشرقی ادبیات کی طرف زیادہ مراجعت کرتے اور اسی مشرقی آفتاب سے تنقید کی تخلیقی ضیا تلاش کرتے ہیں اور اسی سے اپنی تنقیدی تحریر کو آب و رنگ عطا کرتے ہیں۔وہ نہ صرف خود مشرق کی طرف مراجعت کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں، بلکہ دوسرے فن کاروں اور تخلیق کاروں کو بھی ان مشرقی سرچشموں سے واقفیت حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔اپنی پہلی تنقیدی کتاب ’طواف دشت جنوں‘کے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
’’مجھے یہ کہنے میں کوئی تأمل نہیں کہ ہمارا تخلیقی ادب ابھی تک اوب العلا معری کی ’’الانسان ولحیوان‘‘ اور ابن طفیل کے ’’حی بن یقظان‘‘ جیسے عظیم تخلیقی اظہاریہ کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔ بغیرباپ کے پیدا ہونے والے ہرن کی آغوش میں پرورش پانے والے ایک ایسے بچے کی داستان ہے جو اپنی مسلسل جستجو سے ایک مافوق الفطرت ہستی کوتلاش کرلیتا ہے۔ الف لیلہ ولیلہ، کلیلہ و دمنہ اور مقامات روائی ادب کی اولین شناخت ہیں۔ صدیا ں گزر جائیں گی مگر یہ تحریریں زندہ رہیں گی۔‘‘(طواف دشت جنوں: حقانی القاسمی، ص:۱۴،استعارہ پبلی کیشنز، نئی دہلی ۲۰۰۳ء)
حقانی القاسمی ایک بے باک ناقد ہیں۔ وہ شخصیت، شاعر و ادیب اور تخلیق کار نہیں، بلکہ متن کے باطن کی سیاحت کرتے ہیں۔ اس کے معنی اور مفہوم کی پنہائیوں میں جھانکتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ کسی سہل انگاری سے کام نہیں لیتے۔وہ جب تخلیق کی گہرائی میں جھانکتے ہیں، تو بس متن سے مکالمہ اور مباحثہ تک محدود رہتے ہیں، وہ تنقید میں قرابت، مودت اور اخوت و ہمسائگی کے اثرات سے دور رہتے ہیں۔ وہ تنقید کی خرید و فروخت نہیں کرتے۔ وہ لگی بندھی سنانے اور لکھنے والے ناقد ہیں۔یہ تنقیدی اوصاف بھی مشرقیت کی دین ہیں، مغربی افکار و آثار کی نہیں۔ وہ کوئی بھی تنقیدی مضمون لکھنے سے پہلے مشرقی مراجع و ماخذ کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں اور وہ یہی مشورہ زیر بحث تخلیق کاروں کو بھی دیتے ہیں۔جن کہانیوں میں کتے کو اولیت اور مرکزیت دی گئی ہے، اس حوالے سے حیوان مطلق کی زبان، ان کے حرکات،اشارات، علامات سے بحث کرتے ہوئے اس بات پر بھی حقانی القاسمی نے حیرانگی ظاہر کی ہے کہ ہمارے جن افسانہ نگاروں اور کہانی نویسوں نے کتے کے سیاسی، سماجی، تہدیبی استعارے کی تخلیق کی ہے، انھوں نے ان موضوعات پر کہانیاں تو لکھی ہیں، مگر انھوں نے ان حیوان غیر ناطق کی اصل نفسیاتی کہانیوں پر واقع بنیادی کتابیں نہیں پڑھی ہیں جس کے سبب ان کی کہانیوں میں اصلیت کی خوبو ناپید ہے۔لکھتے ہیں:
’’دمیری نے ’حیاۃ الحیوان‘ لکھا اور جاحظ نے’کتاب الحیوان‘…گوکہ ہمارے افسانہ نگاروں نے نہ دمیری کو پڑھا اور نہ جاحظ کو…(طواف دشت جنوں، ص:۱۵)
حقانی القاسمی نے فکشن پر بہت زیادہ تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔ لیکن اردو کی افسانوی تنقیدکی کم مائگی پر حقانی نے بہت رنج و الم کا اظہار کیا ہے، کیوں کہ افسانوں کی فکری اور فنی جہات پر بہت کم لوگوں نے اپنی تنقید کی عمارت کھڑی کی ہے۔ وہ متن سے مکالمہ ہی قائم نہیں کرتے۔ بس سرسر ی اور تأثراتی قسم کے جملے لکھ کراس پر تنقیدی مصمون کا عنوان ٹانک دیتے ہیں۔ اکثر لوگ قدما اور اسلاف کی ہی بخیہ ادھیڑتے ہیں، انھی کے فکر و فن پر اپنی تنقیدی توانائی صرف کرتے ہیں، جب کہ نئی نسل کے افسانہ نگاروں کو مسلسل نظر انداز کیاجارہا ہے۔جوکوئی تنقید لکھتا بھی ہے تو وہ اصل تنقیدی منبع و ماخذ میں جھانکنے کے بجائے انگریزی کے چبائے ہوئے نوالوں کو ہی دوبارہ چباتا اور حلق سے اتارتا ہے۔حقانی ذرا رمزیہ انداز میں اس قسم کے تنقید نویسوں کو ان کی علمی کم مائگی کا آئینہ دکھاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مجھے اپنی بے بصاعتی اور کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے کبھی کوئی جھجھک نہیں ہوتی۔ میں نے مولوی محمد حسین آزاد کی آب حیات نہیں پڑھی اور نہ ہی خواجہ الطاف حسین حالی کی مقدمہ شعر و شاعری…میرے لیے تو جاحظ کی’البین والتبیین‘ ابن عبد ربہ کی ’العقد الفرید‘ مبرد کی ’الکامل‘ ابو علی قالی کی ’الامالی‘ ایسے سمندر ہیں جن کی عواصی کے لیے پوری حیات بھی ناکافی ہے۔ قدامہ بن جعفر، ابو ہلال عسکری، ابن رشیق، جرجانی، ابن خلدون اس کے ماسوا ہیں۔‘‘(طواف دشت جنوں، ص:۳۹)
ابھی ذکر آیا کہ حقانی القاسمی انگریزی ادبیات کا بھرپور علم و ادراک رکھنے کے باوجود دوسروں کے چبائے ہوئے نوالوں کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔وہ عربی اور فارسی کلاسیکی سرمایے سے اکتساب فیض کرنے کے علاوہ انگریزی مراجع و ماخذ کی طرف بھی بوقت ضرورت مراجعت کرتے ہیں ، مگر ترجموں کی مدد سے نہیں، بلکہ اصل متون کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ا ن کے اعماق میں اترتے ہیں۔اسی لیے حقانی تنقیدکی مغرب پرستی سے بھی بیزار ہیں۔جس میں بہت سے انگریزی کے فقرے اردو تنقید کی گردن میں مثل تعویذڈال دیے گئے ہیں۔ اس نقل و جعل کی روایت پر ناگواری کا اظہارکرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نقاد جب Parasiteبن جائیں تو تنقید اپنا اعتبار کھودیتی ہے اور طفلی تنقید جنم لیتی ہے۔ ایزرا، ایڈمنڈولسن یا ڈیوڈ لاج کے حوالے دیکر کوئی بڑا نقاد تو نہیں، ہاں بڑا نقال ضرور بن سکتا ہے۔ ‘‘(طواف دشت جنوں، ص:۳۹)
ایک جگہ اور مشرق کی فکری عظمتوں کے نشان کو ہی اپنی تخلیق و تنقید کا محور قرار دینے کی وکالت کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’مشرق کی فکری عظمت کے نشانوں کی تلاش و بازیافت اور ادب پر مشرق کے فکری اطلاقات کیا علط ہیں؟۔۔میرا خیال ہے کہ ثقافتی اور ادبی اعتبارات سے مشرق کو مغرب پر برتری اور تفوق حاصل ہے۔ مغرب سے محبت، مشرق سے بیزاری، نوآبادیاتی استعماری دہن کی دین ہے۔‘‘(طواف دشت جنوں، ص:۹۹)
حقانی نے ادب اور ادیب کے المیوں کی لمبی فہرست تیار کر رکھی ہے۔ انھیں یہ بھی شکایت ہے کہ ادیبوں نے ادب کی نوعیت و ماہیت کو محدود کردیا ہے۔ انھیں ادب کی وسعت اور اس کی گہرائیوں سے شناسائی نہیں۔ وہ ادب اور زندگی کے حقیقی رشتوں سے بھی واقف نہیں۔ ان کا فکری محور محدود اور تنگ ہے۔ وہ بس چند اوراق کو اپنے فکر کی پستی سے سیاہ کردینے کو ہی ادب سمجھ بیٹھے ہیں۔ انھیں یہ بھی شکایت ہے وہ ادب کے فکری مشرقی سرچشموں سے منحرف ہیں۔ ایک جگہ اور بانداز دیگر لکھتے ہیں:
’’مشرق کی تہذیبی فکر سے انحراف نے ہمارے لیے بہت سارے مسائل پیدا کردیے ہیں۔ در اصل ہمیں فکر کے اس نقطے کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو ہماری تخلیق اور تنقید کا محور بن سکے۔ کیا عبد الواحد یحیٰ(رینے گینوں) یا مولانا اشرف علی تھانوی نے ادب کی تفہیم اور تعبیر کے جوپیمانے وضع کئے ہیں وہ ناقص ہیں؟ کیاان سے انحراف ممکن ہے؟ در اصل مغربی خماریوں کے زیر اثر ان کی اترن پر اترانے والے ادیب و نقاد جب سے اردو ادب پر حاوی ہوئے ہیں، ادب کا حال نحیف و نزار ہوگیا ہے۔ آج ہماری تنقید کا حال یہ ہے کہ اقبال، میر، عالب کی تفہیم پر ہی سارا واقت ضائع ہوتا ہے اور وہ تفہیم بھی ناقص ہوتی ہے۔‘‘(طواف دشت جنوں، ص:۲۹۱)
حقانی تنقید کو مغربی آلائشوں اور اقتباسات کے بار سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ہماری تنقید اپنے قدموں پر ایستادہ رہے، وہ لکیر کی فقیر بن کر نہ رہے۔ اور دوسری زبانوں کے تنقیدی سرمایے کی فوٹو کاپی بن کر نہ رہ جائے۔ کیوں کہ اس سے ہماری تنقید کا قد اونچا نہیں ہوتا، اس کا قد چھوٹا ہوتا ہے۔ایک دوسری جگہ اسی مرعوبیت اور تتبع و پیروی کا مرثیہ پڑھتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ہمارے ادبی سانحات میں سے ایک سانحہ یہ بھی ہے کہ ہماری تنقید، تقبیس اور تصمین کا ایک مضحکہ خیز عکس بن کر رہ گئی ہے۔ ایک تنقیدی مضمون کا آغاز ایلیٹ سے ہوتا ہے تو اس کا اختتام بھی ایلیٹ کے ہی کسی اقتباس پرہوتا ہے اور بیچ میں دوچاراور نامی گرامی معربی نقاد کے حوالے آجاتے ہیں۔ اس سے مصمون کی اہمیت بڑھتی نہیں بلکہ گھٹتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے نقادوں کو علوم و فنون میں اتنا بھی درک حاصل نہیں ہے جنتا کہ مرزا رسوا کی ’امراؤ جان ادا‘ کو تھا۔ نہ ہی ان کی زبان اتنی شستہ ہے جتنی لکھنؤ کی طوائفوں کی ہوتی تھی۔‘‘(واقیمو الوزن بالقسط، مشمولہ استعارہ، ج:۳، ش:۷، جنوری مارچ ۲۰۰۲ء، ص:۲۸۰)
ہمارے دور میں ادب اور ادیبوں کی دنیا بہت محدود کردی گئی ہے۔ شہر میں رہنے والا چھوٹا اور معمولی قلم کار شہرت کے فلک الافلاک پر پہنچ جاتا ہے جب کہ معیاری اور جینوین تخلیق کار جو کسی گاؤں اور دیہات میں شہرت کے وسائل سے دور ہوتا ہے وہ گم نامی کی دھول پھانکتارہتا ہے۔ حقانی القاسمی نے اپنی مشہور کتاب’ رینو کے شہر میں‘ اسی علاقائی ادبی سیاست پر جم کر اپنا غصہ اتارا ہے اور ان فن کاروں کو ادب کی دنیا میں ان کا جائزمقام دلانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انھوں نے مزاح اور ہلکے پھلکے طنز میں ایسے ہی قدیم نسل کے ادیبوں پر طنز کیا ہے اور نئی نسل کو موجودہ ادبی منظر نامے پر نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’گذشتہ ایک دہائی کا جائزہ لیا جائے تو ادب میں نئی نسل نے جو تحرک اور طغیانی پیدا کی، وہ پرانی نسل کے بس کا روگ نہیں۔ گوکہ پرانے لوگوں کا عہدزریں رہا ہے مگر اب ان کے پاس صرف پرانی یادیں رہ گئی ہیں اور پرانی آنکھیں۔ آج کے اس دور میں ادب کو نئی آنکھوں کی ضرورت ہے۔ ادب تو در اصل آج گاؤں کے گرد و غبار میں ہے، وہاں کی ندیوں میں ہے، وہاں کے بنوں میں ہے، وہاں کے رمناؤں میں ہے۔ ان آنکھوں میں ہے جو شہر کی کثافت سے آلودہ نہیں ہوئی ہیں۔ ان ہونٹوں کی سلسبیل میں ہے جو کسی لمس سے آشنا نہیں ہیں۔ پان کی گمٹی میں بیٹھا ہوا گھنگھریالے بالوں والا ایک آدمی مجھے م۔ع سے زیادہ بڑا افسانہ نگار لگتا ہے اور چائے خانے کی ٹوٹی ہوئی گندی ٹپائی پر بیٹھا ہوا خیالوں میں گم ایک شخص مجھے عین۔صاد سے بڑا تخلیق کار نظرآتا ہے۔ پیپل کی چھاؤں کے نیچے بیٹھا ہوا ایک گنجا آدمی ز۔ر کو اپنی ایک جنبش سے زیر و زبر کرسکتا ہے۔ مگر سوال شناخت کے بحران کا ہے۔ در اصل یہ وہ رائٹرز ہیں جن کی کوئی شناخت نہیں ہے۔‘‘(طواف دشت جنوں، ص:۲۹۳)
دوسری زبانوں کی تنقید کی طرح ہمارے تنقید نگاروں پر بھی تعصب کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ تنقید نویسوں کے بھی اپنے ذہنی تحفظات اور تعصبات ہیں جن سے ان کی تنقید کا خمیر تیار ہوتا ہے۔ اب تنقید نہیں، بلکہ مدلل مداحی کے پیمانے میں تنقیدی تحریریں لکھی جارہی ہیں۔ تنقید بھی ادبی گروہ بندیوں کا شکار ہے۔ اپنے حواریوں کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جارہے ہیں اور دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف مخالفت کا طوفان کھڑا کیا جاتا ہے۔حقانی کو ایسی تنقیدی روایت سے بھی شکایت ہے۔ :
’’تنقید میں تعصبات کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ ہرکوئی اپنے ’حواریوں‘ کی تعریف و توصیف میں مصروف رہا ہے اور اسی وجہ سے تنقید کی وہ روایت جو کبھی روشن تھی، تاریکیوں کی زد میں آگئی ہے۔ تنقیدی تعصبات ان طرطبائیوں، مراغیوں، اتانیوں، حرقوصوں برغوثوں کی پیداوار ہیں جو ادب کو ایک تنگنائے میں قید کردینا چاہتے ہیں۔ ادب کے ابن علقمی اور ابن کیغلغ، ادب کو نخاس، مینا بازار بنانے پر تلے ہیں اور ادب کو’صمت القبور‘ میں قید کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘(طواف دشت جنوں، ص:۱۲۸)
نظموں پر تبصروں اور تنقیدی مضامین کی باڑھ آئی ہوئی ہے۔ ہر ادیب حاتم طائی کا قلم لے کر نظم نگاروں کی تعریف کے پل باندھتا ہے۔ کون سی نظمیں زندہ رہتی ہیں اور ایک نظم اپنے شاعر سے کن چیزوں کا مطالبہ کرتی ہیں، حقانی القاسمی کے قلم سے پڑھیے:
’’نظمیں وہی زندہ اور سدا سہاگن رہتی ہیں جنہیں ’پورا آدمی‘ میسر ہوتا ہے ایسا ’پورا آدمی‘ جو اس کاو سنگار کرے، اجلے سپنوں کی سروستی میں اشنان کرائے، سوچوں کی مکمل ساڑی لپٹا کر مخمل کی کنگھی سے بال سنوارے، پیشانی پہ جلتے سورج کی بندیا دہکائے اور عشق چنار آتش کے تھوڑے پیڑ اگادے…پھر چاہت کا منگل سوتر پہنائے۔ تب یہ عجیب سے محبوبہ نظم بدلے میں تاثیر اور زندگی عطا کرتی ہے۔‘‘(تنقیدی اسمبلاژکا پرولاگ، حقانی القاسمی، عرشیہ پبلی کیشنز ، نئی دہلی ۲۰۱۲ء)
حقانی القاسمی مشرقیت کا گہراعرفان اور ادراک رکھتے ہیں۔ انھوں نے اردو کے حقیر سرمایے میں دوسری زبانوں کے چراغ جلائے ہیں۔ دوسری مشرقی اور زرخیز زبانوں کے شہ پاروں کو اردو میں منتقل کیا ہے اور وہ ایسے شعراء اور ادباء ہیں جن سے اگر وہ واقف نہ کراتے تو عربی فارسی اور مشرقی زبانوں سے بیزارہمارے ادیب اور ناقد کبھی ان فن کاروں کا نام بھی سن نہ پاتے۔ فلسطین شعرا کا تعارف سب سے پہلے کس نے کرایا۔ حقانی القاسمی نے ہی فلسطین شعرا کی مزاحمتی شعرا کو اردو میں مالہ اور ماعلیہ کے ساتھ متعارف کرایا۔حقانی سے پہلے ابراہیم طوقان، فدوی طوقان، محمود درویش اور سلمی خضرا جیوسی کو ہندوستان میں کون اردو داں جانتاتھا۔ اور فلسطین کے چار ممتاز شعراء کے نام سے ایسی کتاب لکھی جس کو مشہور ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری نے یہ کہہ کرپوری اردو برادری کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا کہ:’’ایسی کتابیں اردو میں نہیں، انگریزی میں لکھی جاتی ہیں۔‘‘
لاتخف نامی کتاب میں اپنے مخصوص بے باک تخلیقی انداز میں ان موضوعات اور افکار کو نئے انداز میں لکھا کہ عصری آگہی کے مدیر بشیر احمد نے یہ لکھا:’’محسوس ہوامردوں اور منافقوں کی بستی میں کوئی غریب شہر پہونچ گیا ہے جو بے باک بھی ہے اور زندہ بھی۔ ‘‘ اور یعقوب سروش، مدیر بساط ذکر و فکر نے لکھا:’’ لاتخف۔۔ یہاں سے وہاں تک نیا ہے۔‘‘اور انور قمر نے لکھا:’’چونکہ آپ کا اسلوب نرالا ہے، آپ کی لفظیات بے پناہ ہے اور موضوعات کا انتخاب بھی آپ ہی سے مختص ہے۔ اس لیے لا تخف پڑھنے میں دقت بھی بھی ہوئی اور وقت بھی خاصا لگ گیا۔ ‘‘
طواف دشت جنوں میں بھی یہی مشرقیت کا عرفان قدم قدم پر حقانی کے ساتھ ہے۔ نئی لفظیات، نیا لہجہ، نیا زاوےۂ نظر۔ موضوعات کو برتنے کا نیا طریقہ۔جس پر تبصرہ کرتے ہوئے رضوان اللہ آروی نے لکھا:’’طواف دشت جنوں اکیسویں صدی کی پہلی کتاب ہے جس میں تخلیق کی شبنم فشاری بھی ہے اور تنقید کی گرم رفتاری بھی۔ حالی کے مقدمہ کے بعد یہ پہلی کتاب ہے جس میں مشرقی تنقید کی روح سمٹ آئی ہے۔ ورنہ اب تک ہمارے ناقدین انگلش، جرمن، فرنچ اور جانے کس کس جہاں کی سیر کراتے رہے ہیں۔‘‘
حقانی کی تحریریں بالکل صاف، شفاف اوبر واضح ہوتی ہیں۔ وہ اپنی علمیت کا طومار نہیں باندھتے کہ اس قسم کی تحریریں قاری کے علم میں اضافہ تو درکنار، انھیں گمرہی کے دلدلد ل میں دھکیل دیتی ہیں۔ ایسی بے معنی مجمل ا ور مبہم تحریر لکھنے والوں کے رویہ پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ہمارے کچھ نقاد صرف ہمزیاتی، لمزیاتی تحریریں لکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان تحریروں کا نہ کوئی معنی ہوتا ہے نہ کوئی مفہوم، بس صرف اپنی گھٹن باطنی کثافت اور اندرونی خباثت کا اظہار ہوتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ ہماری باوقار، بزرگ تر نسل، ادب کی نئی پود سے خوف زدہ ہے، ان کے باغیانہ رویے اور انحرافی رجحان سے بزرگوں پر لرزہ طاری ہے کیونکہ اس نسل میں سوچ ان سے کہیں زیادہ ہے اور احساس کی شکتی بھی۔‘‘(طواف دشت جنوں، ص:۲۹۲)
اردو میں اس پوسٹ ماڈرن ایج میں بھی تذکراتی قسم کی تنقید لکھی جارہی ہے۔ان میں نہ علمیت کی بو ہوتی ہے اونہ ر نقد کا کوئی اچھوتا علمی انداز۔ بس وہی فرسودہ قسم کے تنقیدی جملے لکھے جارہے ہیں۔ تنقید کی اس مقلدانہ اور نقلچی کی روش سے حقانی نالاں نظر آتے ہیں۔ اور تذکروں جیسی تنقید کو بھی ہدف ملامت بناتے ہیں:
’’اردو تذکروں میں ایسے تعصباتی طریق کار سب سے زیادہ فروزاں ہیں جن میں کسی بھی شاعر کی تعظیم اور تنقیص کا معیار صرف ذاتی تعلق اور نجی رابطہ رہا ہے۔ چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر تذکرے اس نقص سے مملو ہیں اور ہماری آج کی تنقید بھی ’تذکراتی تنقید‘ بن کر رہ گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اگر تذکروں کی روشنی میں کسی بھی تخلیق کار کا فنی اور فکری جائزہ لیاجائے تو یقیناًتنقید کی عمارت علط اینٹوں پر استوار ہوگی اور آنے والی نسلیں گمرہی کا شکار ہوجائیں گی۔‘‘(طواف دشت جنوں، ص:۱۲۸)
حقانی القاسمی کی تنقیدی تحریروں نے بہت سے گم نام اور مردہ متون میں دوبارہ نئی جان پھونکی۔ ادبی منظرنامے سے غائب کردیے گئے تخلیق کاروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کرایا۔ ان کے تنقیدی اعمال نامے پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اکثر انھوں نے اپنا تنقیدی سفر ان سنگلاخ راہوں پر کیا ہے، جس سے دوسرے لا علم رہے ہیں یا سرسری گزر گئے ہیں۔ حقانی القاسمی نے یہاں بھی کوہ کنی کی۔ دشت اور کوہ و بیاباں کی سیاحی کی۔ اکیلا چلو والی روش پر عمل کرتے ہوئے انھیں دوبارہ زندگی عطا کی۔دار العلوم دیوبند: ادبی شناخت نامہ میں شامل تحریروں کے ذریعے انھوں نے نہ صرف دار العلوم دیوبند کے ادبی چہرے سے نقاب کشائی کی اور علم و ادب کے حلقے میں ایک نئی سنجیدہ ادبی بحث کا آغاز کیا، بلکہ انھوں نے مولانا اشرف علی تھانوی کو اردو کے ایک نام ور نقاد کے طور پر بھی متعارف کرایا اور ان کی تنقیدی تحریروں کی روشنی میں انھیں اپنے عہد کا بڑا نقاد ثابت کیا۔ منٹو کے استاد علامہ تاجور نجیب آبادی کی ادبی تنقیدی خدمات سے نقاب کشائی کی اور حضرت داغ دہلوی کے شاگردناطق گلاؤٹھی کے فکر و فن سے گردو غبار جھاڑی۔ یہ سب حقانی القاسمی کے تنقیدی تفردات ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ اردو ادب کے تنقید میں ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔
حقانی القاسمی کی شخصیت جہان تنقید میں ایک منارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہے۔انھوں نے اپنی تنقیدی تحریروں سے شعر و ادب کے ہرگوشے کو منور کیا ہے، تاریکیوں کو روشنی میں بدلا ہے۔ اور انھیں نئی زندگی اور تابانی عطا کی ہے۔ انھیں توانائی اور تحرک عطا کیا ہے۔وہ بڑی سلیس اور شگفتہ تنقیدی نثر لکھتے ہیں۔ ان کے بہت سے جملے اتنے دل نشیں اور خوب صورت ہیں کہ ان میں شعر کی خوبی پیدا ہوگئی ہے اور وہ اشعار کے مصرعوں کی طرح دہرائے جاتے ہیں۔ بہت سے تخلیقات جو اپنے اصل متن کی اشاعت کے بعد قابل اعتنا نہیں سمجھے گئے، ان کی لا جواب اور شیریں تنقیدی تحریروں نے انھیں دوبارہ زندگی عطا کردی۔ وہ تحریریں پڑھنے کے بعد کسی اشتعال اور جذباتیت کا شکار نہیں ہوتے، بلکہ کھراپن ہے۔ خشک اور سپاٹ بیانیہ نہیں۔ وہ اپنی تنقید میں بھی طنز اور مزاح کا سہارا لیتے ہیں۔ کئی جملوں میں بڑی نشتریت ہوتی ہے۔اور اسی خوبی کی وجہ سے ان کی تنقیدیں تحریریں بھی تخلیق کا لطف دیتی ہیں۔ مشہور مزاح نگار مجتبی حسین قاسمی کا یہ جملہ دیکھیے:’’حقانی القاسمی ہمارے محبوب ادیب، تخلیقی ناقد اور کالم نگار ہیں اورہم ان کی تحریرں بڑے اشتیاق سے پرھتے ہیں۔…حقانی القاسمی اپنے منفرد لب و لہجہ اور اچھوتے اسلوب کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا مطالعہ نہایت وسیع اور زبان و بیان پر انہیں قدرت حاصل ہے۔‘‘حفیظ اللہ نیولپوری نے تو یہاں تک لکھا کہ ’’آپ نے اردو نثر کو ایک انفرادی اسلوب دیا ہے جہاں بھی آپ کی کوئی چیز شائع ہوتی ہے، میں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر پڑھتا رہتا ہوں۔‘‘قاری ایک بار جب پرھنا شروع کردے، تو پھر اس کی سانسیں دراز ہوتی جاتی ہیں۔ وہ آخری پیراگراف تک جاکر بھی بے مزہ نہیں ہوتا۔ بلکہ تحریر ختم کرتے ہی عش عش اور واہ واہ کے جملے اس کی زبان سے نکلتی ہیں۔
حقانی القاسمی بے ساختہ اور بے باک ہونے کے ساتھ، بڑے متواضع اور منکسر المزاج واقع ہوئے ہیں، وہ ہجوم، جلسے جلوس اور دربارداری سے بھی دور رہتے ہیں۔گویا اردو ادب و تنقید کا ایک قلندر۔درویش خدامست۔ مگرمیرے خیال میں اردو تنقید کی آبرو ایسے ہی بے نیازی اور درویشی کی زندگی جینے والے ناقدوں سے ہے۔ کیوں کہ ان کی تنقیدی تحریروں سے فکرو فن کے تفہیم کی نئی راہیں روشن ہوتی ہیں۔ ان کی تنقید کے دروں سے نئی جہتیں منکشف ہوتی ہیں۔ معینی اور مفاہیم کے نئے ابعاد سامنے آتے ہیں۔ نئے ادبی اور تنقیدی مباحث کے در واہوتے ہیں۔ ان کی منطقیت اور علمیت کے سایے میں بہت سے علمی اور فکری قافلے رواں ہوجاتے ہیں۔چھوٹے قد کا اتنا بڑاتخلیقی نقاد اس دور میں کہاں ملے گا۔