ایشیا کی عظیم الشان تاج المساجد کی انتظامیہ کا ظالمانہ فیصلہ ـ شبلی اعجازی

مفتی زکریا صاحب قاسمی ہمارے سینئر ساتھی ہیں، وہ جید عالم دین اور مفتی ہونے کے ساتھ ایک خوش الحان قاری بھی ہیں، دارالعلوم دیوبند میں زمانہ طالب علمی کے دوران وہ مسجد قدیم کے امام اور مؤذن رہے اور بعد ازاں مسجد رشید میں بھی مؤذن رہے۔ طبعی طور پر وہ ایک خوش اخلاق، ملنسار اور شریف النفس شخصیت کے مالک ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ استحصال شریف لوگوں کا ہی کیا جاتا ہے۔

گزشتہ دو سال سے وہ ایشیا کی عظیم الشان ‘تاج المساجد’ میں مؤذنی کے فرائض انجام دے رہے تھے، ابھی گزشتہ دنوں انتظامیہ کی جانب سے اچانک انھیں ایک لیٹر پیڈ ملتا ہے کہ آپ کو اس خدمت سے بے دخل کیا جاتا ہے۔
حیرت انگیز بات ہے کہ ایشا کی اتنی بڑی مسجد کی انتظامیہ اس امر کی کوئی صراحت ہی نہیں کرتی کہ اتنا بڑا فیصلہ آخر کس بنیاد پر لیا جا رہا ہے؟ جس کا صاف صاف مطلب یہی ہے کہ یہ فیصلہ سرتاسر تانا شاہی پر مبنی ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد علما و ائمہ مساجد پر جو افتاد پڑی ہے وہ جگ ظاہر ہے، ایسی نازک صورت حال میں یہ فیصلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟
اگرچہ انتظامیہ اس کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کر رہی، لیکن جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ تاج المساجد کی انتظامیہ مفتی زکریا صاحب کی بڑھتی مقبولیت سے پریشان تھی، کیوں کہ اگرچہ وہ بنیادی طور پر مؤذنی کی خدمت پر مامور تھے، لیکن اساتذہ کی عدم موجودگی میں وہ نمازیں بھی پڑھاتے تھے، لوگوں کو ان کی آواز اور لہجہ بہت پسند آتا اور اس کی تعریف کرتےـ ساتھ ہی مغرب بعد تاج المساجد میں قائم مدرسے کے طلبہ کی نگرانی کی ذمے داری بھی ان کے سپرد تھی تاکہ طلبہ کو کوئی چیز سمجھنے میں دشواری ہو تو ان سے مراجعہ کر سکیں، طلبہ ان کے پاس آتے اور مراجعہ کرتے تھے، ایک با صلاحیت بندہ ہر جگہ اپنا لوہا منوا لیتا ہے، لہٰذا طلبہ ان کے قائل ہونے لگے اور انھیں بہت پسند کرنے لگے، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ طلبہ کو ان ہی کے پاس آ کر سبق سمجھ آتا۔ کیا یہی چیز انتظامیہ کو ہضم نہیں ہوئی اور ہٹلر بازی پر اتر آئی؟ یا کوئی اور وجہ ہے جسے بیان بھی نہیں کیا جا سکتا؟
وجہ جو بھی ہو، ہمارا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ بہر حال ظلم پر مبنی ہے اور اسے واپس لینا چاہیےـ