تحریر کا معیار یا اس کی قبولیت کا راز – مفاز شریف ندوی

تحصیل عشق و رندی آسان نمود اول

آخر بسوخت جانم در کسب این فضایل

حلاج بر سر دار این نکته خوش سراید

از شافعی نپرسند امثال این مسائل

 

میں نے اپنے مضمون کے آغاز کے لیے حافظ شیرازی کے ان دو اشعار کا انتخاب کیا ہے۔ ان میں دو نکات بیان کیے گئے ہیں:

  1. عشق و رندی کا حصول ابتدا میں بڑا آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن ان کمالات تک رسائی میں جان کھپ جاتی ہے۔
  2. ہر فن کا اپنا ماہر ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک شخص ایک فن میں امام ہو مگر دوسرے فن میں بالکل مبتدی۔

جب ایک مصنف میں کمال کے سارے لوازمات موجود ہوں اور باذوق قارئین بھی موجود ہوں تو اس کی کتابوں کو کبھی نہ کبھی بقائے دوام حاصل ہوگا۔ حافظ کا ایک شعر یوں ہی یاد آیا:

بگرفت کار حسنت چون عشق من کمالی

خوش باش زان که نبود این هر دو را زوالی

غالب نے اپنے ایک مکتوب میں اپنے کسی معاصر کا ذکر کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ ان کی بڑی دھوم دھام تھی۔ محبین و معتقدین کا حلقہ تھا۔ مگر وہ بہت جلد گمنامی کے خول میں بند ہوگئے۔ غالب کی زبانی وہ شہرت خشک کے طالب تھے۔ شہرت خشک کتنی بلیغ تعبیر ہے جس کے پیچھے آج کے مصنفین بے تحاشا بھاگ رہے ہیں۔

آج کل کی مریل اور مریض تحریریں لاغر دنبہ معلوم ہوتی ہیں، جس کا گودا سوکھ گیا ہو اور جس کا گوشت گل گیا ہو۔ اور وہ صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آئے۔ محسوس ہوتا ہے کہ مصنف مغز پاشی نہیں کررہا ہے بلکہ ہمارے زخموں پر نمک پاشی کررہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی تحریریں مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بکھر جائیں گی، جس طرح پھول آفتاب کی تمازت سے کملا جاتے ہیں اور پوری طرح مرجھا جاتے ہیں۔ ان کی پنکھڑیاں ادھر ادھر منتشر ہوجاتی ہیں۔ پھر کسی راہگیر کے قدم انھیں بڑی بے رحمی سے مسل دیتے ہیں۔

تحریر کا معیار اس لیے گھٹ گیا ہے کہ ہر کوئی ہر فن میں گل افشانی گفتار پر مصر ہے۔ نہ موضوع پر دسترس ہے نہ زبان میں رس۔ نہ مواد و مشمولات میں جدت و ندرت ہے نہ اسلوب پر گرفت۔ نہ مضمون میں موہنی نہ عنوان میں چاشنی۔ ظاہر میں اگر چمک دمک ہو بھی تو معنی کی کمک نہ ہونے کی وجہ سے کچھ سطریں پڑھ کر ہی ابکائی آنے لگتی ہے یا طبیعت اوب سی جاتی ہے۔ قاری اسے جھنجھلا کر طاق پر رکھ دیتا ہے۔

ماضی میں کتنے مصنفین موجود تھے جنھوں نے دسیوں نہیں سیکڑوں کتابیں لکھیں مگر اب وہ نابود ہیں، ان کی کتابیں ناپید ہیں۔ دونوں مزبلہ تاریخ میں سڑ گل گئے یا رل مل گئے۔ وجہ کیا ہے؟ یہی کہ ان کو احمد مشتاق کی زبانی یہ کہنے کا حق نہیں تھا:

خوشبو ہی اور ہے میرے آب و تراب میں

بعض کتابیں یقیناً اہم تھیں جن کی سیرت نگاروں نے زبردست تعریف کی ہے، مگر ان کی بدنصیبی کہیے یا ہماری؛ اب وہ مفقود ہیں۔

آج کتابوں کا ایک ریلا آرہا ہے۔ نئی نئی دیدہ زیب، خوش نما ورق، روشن طباعت، صاف سطریں اور تمام ظاہری اوصاف سے مزین کتابیں ہیں۔ اگر کسی چیز کی کمی ہے تو تحقیق کی نمی کی۔ کہیں سے معلوم نہیں ہوتا کہ مصنف نے اس کو اپنا خون جگر پلایا ہے۔ اس کے لکھنے میں اپنے دماغ کا تیل صرف کیا ہے۔ اپنے بدن کا پسینہ بہایا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف صاحب نرم نرم مسہری پر گاؤ تکیہ کے سہارے بیٹھے ہیں، صبح کی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں یا پنکھا یا ایئر کنڈیشن سے راحت کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔ اور مصنف صاحب سیب کی قاشیں کھا رہے ہیں یا شربت انگبیں سے محظوظ ہورہے ہیں۔ مواد کے لیے مختلف کتابوں سے قطع و برید کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ بھی آج نہیں تو کل بے اعتنائی اور لاپرواہی کی تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے۔

تحریر کا معیار گرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے گھسے پٹے موضوعات پر لکھنا اپنا شیوہ بنالیا ہے۔ ضروری ہے کہ ان موضوعات پر محنت کی جائے جو ابھی تک تشنۂ تحقیق ہوں۔ جن میں ندرت ہو۔ اقبال نے کہہ دیا تھا:

ندرت فکر و عمل کیا شے ہے ، ذوق انقلاب

ندرت فکر و عمل کیا شے ہے ، ملت کا شباب

ندرت فکر و عمل سے معجزات زندگی

ندرت فکر و عمل سے سنگ خارا لعل ناب

تحریر کا معیار اس پر گفتگو کو بڑھانے کے لیے شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کی ایک بات سناتا ہوں، آبروئے اردو شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کا لکھنے کے سلسلے میں یہ مشورہ دل کو چھوتا بلکہ چھیڑتا ہوا معلوم ہوا۔ وہ کہتے ہیں: کثرت سے لکھنا بے حد مفید ہے اور ہر لکھی ہوئی تحریر کو نہ چھاپنا اس سے زیادہ مفید اور دانشمندی کی بات ہے۔

اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے میرے پردۂ ذہن پر کئی نام ابھرتے ہیں، جن کے متعلق میرا خیال یہ ہے کہ اگر وہ اپنی ساری چیزیں نہ چھاپتے تو ان کا مقام  بلند ہوتا۔ بے مایہ تحریروں کی وجہ سے ان کے کمالات پر زد پڑگئی ہے۔ ابو حیان توحیدی نے اپنی کئی کتابیں ضائع کردیں، اس میں ان کے غصے کو بھی دخل ہے۔ مگر ان کے مقام میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کتنے ایسے ادبا اور مصنفین ہیں جنھوں نے ایک یا دو کتابیں چھوڑیں مگر وہ زندۂ جاوید ہوگئے۔

ایک مرتبہ مولانا نذر الحفیظ ندوی نے مجھے بتایا کہ مولانا علی میاں فرماتے تھے: ایک وقت تھا جب ہم بچپن میں کثرت سے مضامین لکھتے تھے اور انہیں ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے تھے۔

خود شمس الرحمٰن فاروقی صاحب نے اپنی داستان مطالعہ میں لکھا ہے کہ میں نے بالکل چھوٹی عمر سے مضامین لکھنا شروع کیا، مگر مجھے چھاپنے کی کبھی خواہش نہ ہوئی۔ مجھے اپنی حیثیت علمی اچھی طرح معلوم تھی۔ اسی لیے ان کی بیس سال پہلے کی تحریریں مفقود ہیں، یا دوسرے الفاظ میں انہوں نے تلف کردیں۔

تحریر کے معیاری ہونے کے لیے کئی لوازمات ہیں۔ سب سے پہلے زبان سرسبز و شاداب ہو۔ اسلوب تحریر جاذب قلب و نظر ہو۔ کبھی کبھار مواد کی کمی کے باوجود زبان کی چاشنی قاری کو گرفت میں لے لیتی ہے۔ مگر موتی کے طالب کو سیپی کب تک مسحور کر سکتی ہے۔ غالب نے تو کہہ دیا ہے:

وہ سحر مدعا طلبی میں کام نہ آئے

جس سِحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں

صرف الفاظ کے کاغذی پھول تیار کرنے سے آپ قاری کو دور اور دیر تک دھوکا نہیں دے سکتے۔

دوسری بات یہ کہ موضوع جو بھی ہو مصنف کی حس مزاح بیدار ہو۔ بیان میں کہیں بھی یبوست نہ آنے پائے۔ کئی مصنفین ایسے ہیں جو بالکل خشک موضوع پر بھی ایسی گفتگو کرتے ہیں؛ معلوم ہوتا کہ کسی ادبی یا تفریحی مضمون پر دلچسپ خیالات پیش کررہے ہیں۔ موضوع یا مواد متاثر نہیں ہونے دیتے۔ وہ غالب کے اس ہنر سے بخوبی واقف تھے:

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

یا حافظ کی زبانی:

ز زهد خشک ملولم کجاست باده ناب

که بوی باده مدامم دماغ تر دارد

حافظ کے اس مشورے پر انھوں نے توجہ دی:

صوفی گلی بچین و مرقع به خار بخش

وین زهد خشک را به می خوشگوار بخش

اقبال نے غالب کے مرثیے میں یہ بڑے پتے کی بات کہی ہے:

زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں

آخری بات مواد کی ہے جو کہ اصل ہے۔ کئی قارئین صرف مواد کے طالب ہوتے ہیں۔ انھیں زبان یا اسلوب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ کئی مصنفین ہیں جنھوں نے صرف جدید مواد سے جاودانی حاصل کی۔ ظاہری رونق کی انھیں حاجت ہی نہیں تھی۔ عرفی کی زبانی:

بی تربیت شمائل حسنت کمال یافت

بی آفتاب میوهٔ طوبی شود لذیذ

یا اقبال کی زبانی:

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو

کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

مواد کی فراہمی چینوٹی کے منہ سے شکر کے دانے اکٹھا کرنے کے مترادف ہے۔ صرف زبان کی رنگینی سے آپ قاری کا دل لبھا نہیں سکتے:

نہ ہو جلال تو حسن و جمال بے تاثیر

نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک

(اقبال)

اگر تحریر میں مواد کا جلال نہ ہو تو آپ طالب معنی کی آنکھ میں کھب نہیں سکتے۔

مواد کی ترتیب کے بعد اس پر نظر ثانی کی عادت ہونی چاہیے۔ بڑی عرق ریزی اور جگر کاوی کے ساتھ لکھنا چاہیے اور اس کے بعد دسیوں مرتبہ نظر ثانی کرنا چاہیے۔ کانٹ چھانٹ، حذف و اضافے کا عمل جاری رہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*