تحریک بقائے اُردو کی طرف سے فیس بُک پر لائیو پروگرام کا انعقاد

 

بنارس: (پرتیما سنہا)
سال دو ہزار بیس کا آغازیو ں توہمیشہ کی طرح خوشحالی اور نیک دعاؤں کے ساتھ شروع ہو اتھا۔ لیکن اُس وقت ہم میں سے کسی کو بھی یہ اندا زہ نہیں تھا کہ یہ سال دو مہینے گزرتے گزرتے ہما رے سامنے کو ن سا منظر لانے والا ہے اور پھر ہم ہی نہیں یعنی ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا نے ایک ایسا منظر دیکھا جو پچھلے سو سال سے بھی زیادہ وقت میں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔یہی نہیں کہ صرف وہ منظر دیکھا بلکہ اس منظر کا حصہ بھی بن گئے اور یہ تھی ایک ایسی مہا ما ری، بیماری، ایک ایسی وبا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور سب سے بڑی بات کہ ساری دنیا کو قید کر کے رکھ دیا۔ اپنے اپنے گھروں میں،اپنی اپنی دہلیز کے اندر، اپنے اپنے دائروں میں لوگ سمٹ کر رہ گئے کیا اعلیٰ کیا ادنا، کیا امیر کیا غریب سبھی ایک ہی صف میں آ گئے۔کوئی کتنا ہی کما نے والا کیوں نہ ہو،کتنا بڑا امیر کیوں نہ ہو۔ کتنا بڑا فنکا ر کیوں نہ ہو، ملک کا شہزادہ ہی کیوں نہ ہو،مشہو ر کھلا ڑی ہو یا ایکٹر، پا رلیمنٹ کا ممبر ہو یا ڈاکٹر ہر کسی کو اپنے اپنے گھر میں قید ہو جا نا پڑا، کیوں کہ با ہر ایک مہا ما ری مو ت کی شکل میں ہم سب کا انتظار کر رہی تھی۔جسے کورونا وئرس (کووڈ 19-) کا نا م دیا گیا۔
ہمارا ملک ایسا ملک ہے جہاں ہر طرف لاک ڈاؤن لگایا گیا اور سب سے لمبا لاک ڈاؤن ہمارے یہاں ہی لگا۔ زندگی ایک طرح سے رک گئی تھی ٹھہر گئی تھی لیکن آخر کب تک؟ انسان کی فطرت ہے اور انسان کی یہ خاصیت بھی ہے کہ وہ گہرے سے گہرے اندھیرے میں بھی ایک دیا جلانے کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔ جتنے بھی خرا ب حالات ہوں وہ اس میں بھی اپنے لئے کچھ اچھا ڈھو نڈ نے کی کو شش کر ہی لیتا ہے۔اس با ر بھی یہی ہوا کہ کورونا جیسی وبا اور مہا ماری کے بیچ جب ہم ایک دوسرے سے مل پا نے کے لئے مجبو ر تھے،ایک دوسرے تک نہ پہنچ پا نے کے لئے مجبو ر ہوئے تھے۔ اور بہت سے ایسے بڑے بڑے پروگرام، تقریبیں، محفلیں، جشن جو ہما ری زندگی کا سرما یہ ہو ا کرتے تھے، زندگی کا مقصد ہوا کرتے تھے،جو ہمیں جینے کا نیا طریقہ سیکھاتے تھے وہ سب بند ہو گئے۔تو ہم نے ایک دوسرے تک پہنچنے کے لئے ایک نیا را ستہ ڈھو نڈ نکالا۔ جس میں ہما رے ڈیجیٹل پلیٹ فا رم نے ایک طرح سے آب زم زم کا کام کیا،امرت کا کام کیا اور ہمیں جینے کا ایک نیا طریقہ بتا یا۔ اس کے ذریعے گزشتہ دو تین مہینوں سے سارے بڑے بڑے ادارے، آرگنیزیشن،تنظیمیں، پبلشیر، ادیب، شاعر، گلوکار، نغمہ نگار، فلم ا سٹار، ادا کاریعنی جو پرفارمنگ آرٹ سے جڑے تھے، جو لکھنے پڑھنے والے تھے جن کی با تیں دنیا تک پہنچتی تھیں اور جن کی باتیں لوگوں تک پہنچنا ضروری بھی تھیں۔انہوں نے فیس بُک لا ئیو کے ذریعے یا دوسرے ایسے ہی دوسرے پلیٹ فا رموں کا سہا را لیا جو ورچیول میڈیا یا نیٹ کے ذرئع اپنی با ت لو گو ں تک پہنچا سکتے تھے، پہنچائی۔بہت ساری میٹنگیں ہو ئی، آن لا ئن کلا سوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مختلف پروگرام ہو تے رہے، ویبنا ر ہو نے لگے۔ سیمینا ر کی جگہ ویبنار نے لے لی۔ ان سب کے بیچ جو بڑے بڑے ادبی گروپ تھے، ادبی تنظیمیں، پبلیشر تھے، ادیب تھے انہوں نے براہ را ست لو گو ں سے جڑنا شروع کیا۔ بات کرنا شروع کی، جسے ہم لا ک ڈأون کی یہ ایک بڑی کا میا بی ما ن سکتے ہیں۔ جن کو ہم صرف پڑھتے تھے، دوسروں سے سنتے تھے، انہوں نے اپنے اپنے فیس بُک پیج سے،اپنے اپنے پرسنل اکا ؤنٹ سے سیدھے اپنے چا ہنے والوں سے باتیں کرنا شروع کی۔ ان سے مخاطب ہو ئے۔اور ایک دوسرے کے رو برو ہونا شروع ہو ئے، بڑے بڑے کتب خانے، مثلا ً وانی پرا کا شن۔ را ج پا ل،راج کمل،پاکھی، بو دھی پبلی کیشن یہ سارے فیس بک پر آتے رہے جو علم و ادب کی دنیا سے جڑے ہو ئے ہیں، ان سب کے بیچ اُردو زبا ن کی بقا، اس کے فروغ، اس کی ترقی اور ترویج کے پھیلتے رہنے کی بھی بہت ضرورت تھی۔ جس میں پوری دنیا بالخصوص ہندوستان کے لوگ جڑے رہے ہیں۔یہاں یہ کہنا بڑی کامیابی اور خوشی کا باعث ہے کہ گزشتہ دو مہینوں سے اس لاک ڈاؤن میں پورے ملک میں ”تحریک بقائے اردو“اُردو کا ایک ایسا پیج ہے، جس نے صرف اور صرف اردو پر بات کی ہے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ جب ہم اردو پر بات کرتے ہیں اردو کی محفلوں کی بات کرتے ہیں یا اردو میں اردو کی بات کرتے ہیں تو ہمیں شعر و شاعری (نظم وغزل) کی طرف دھیان جاتا ہے کیونکہ اس وقت بھی ہر طرف آن لائن مشاعرے ہو رہے ہیں۔ تحریک بقائے اردو کا فیس بُک پیج ایک ایسا انوکھا پیج رہا ہے۔ جس نے ادب کے گو شے گو شے سے لو گو ں کو نکال کرسامنے لا نے کی ذمہ داری اٹھا ئی ہے۔ وہ چا ہے ڈاکٹر، ادیب، شاعر، نا ظم، نقاد،محقق ہوں یا ماہر تعلیم استا د پروفیسر صاحبان،وہ چا ہے دانشور تھے یا تا ریخ نویس۔یہ سب چا ہے دنیا کی الگ الگ جگہوں سے تھے اور الگ الگ مہا رتیں رکھنے والے لو گ تھے ان کی بس ایک ہی خوبی ہو نی چا ہئے تھی کہ انہوں نے اپنی کمنیکیشن یعنی ترسیل کی زبا ن اردو کے لئے کچھ کیا ہو۔ اردو سے جڑے ہوں ان کو تحریک نے اپنے فیس بُک پیج پر لا یا ان کی زبا نی نا ظرین اور سامعین کرام کے روبرو لا یا اور بہترین، عمدہ،کا رآمد، دلچسپ لیکچر دیے۔ اسی چیز کو لیکر آج سے دس سال پہلے جموں کشمیر میں یہ تحریک شروع ہوئی تھی لیکن تحریک کے اس پیج نے لاک ڈاؤن میں خود کو ایک نیا رنگ دیا،صحیح معنوں میں سب کو جوڑنے کا کام کیا، اور ابھی جو منظر ہے وہ بڑے کمال کا ہے۔ یعنی کہ جموں کشمیر سے چلائی گئی اس تحریک جس کا مقصد ہی یہ تھا کہ اپنا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔ سب نے دیکھا اور سنا کہ محبت کا یہ پیغام تحریک نے دنیا کے ہر کونے تک پہنچایا ہے۔سچ میں اردو ادب و اخلا ق کی زبان ہے اور پچھلے دو مہینوں سے تحریک کے فیس بک پیج پر ایک سے بڑھ کر ایک نایاب ہیرے آ رہے ہیں۔اپنے وعدے کے مطابق پوری دنیا میں یہ تحریک پہنچ رہی ہے۔پاکستان، برطانیہ، متحدہ عرب اما رات،کناڈا، جاپا ن،نیو یا رک، دنیا کے ہر کونے سے لوگ آ رہے ہیں تحریک سے جڑ رہے ہیں۔ بے شک فیس بک لا ئیو کی شروعات جموں کشمیر سے ہی ہوئی اور سب سے پہلے خود عرفا ن عا رف صدرتحریک بقائے اردو لا ئیو آئے اور اس کے بعد یکے بعد دیگر سجادحسین پونچھی،ڈاکٹر لیاقت علی خان(راجوری)،ڈاکٹر مشتاق احمد وانی(بی جی ایس بی یو نی ورسٹی راجوری)، ڈاکٹر عاشق حسین(جموں)،پرتیما سنہا(بنا رس)ڈاکٹر امتیا ز احمد زرگر(ڈوڈہ) غلام حسین جعفری (پو نچھ)،کے۔ کے۔ کپور(پونچھ)، کے۔ ڈی۔ مینی(پونچھ)ڈاکٹر تجندر سنگھ راول (نا گپور)انو اتری یا د(اُدھم پور)،بلرا ج بخشی(اُدھم پور)،رحمت اللہ رونیال(رام بن)،محمد شا ہد خان پٹھان(راجستھان)،چشمہ فاروقی(دہلی)،ڈاکٹر خلیق انجم (پونچھ)،تری پراری(ممبئی)، پرویز شہریا ر (دہلی)،ملک زادہ جاوید(لکھنو)،پرنسپل انور خان (پونچھ)،خورشید بسمل (راجوری)،ذوالفقار نقوی (مہنڈر)،زیب النساء زیبی(پاکستان)،راشد الحق (پا کستان)،ڈاکٹر شبنم خاتون(بنا رس)،ڈاکٹر تقی عا بدی(کناڈا)،اشتیاق میر(یوکے)،ڈاکٹر صادقہ نواب سحر(مہا راشٹر)یعقوب تصور(متحدہ عرب امارات)،احمد علی برقی اعظمی(نئی دہلی)،امتیا ز احمد کریمی(بہار)،روحی جا ن(سرینگر)،پروفیسر سراج اجملی(علی گڑھ)،معید رشیدی (علی گڑھ)،ڈاکٹر طا رق چھتا ری (علی گڑھ)،مہ جبین غزل انصاری(برطا نیہ)،ڈاکٹر کے۔پی۔شمس الدین ترورکاڈ (کیرالا)،ڈاکٹر عنبر عابد (بھوپال)،پروین شیر(نیو یارک)،نوید امین (جا پا ن) جیسے لوگ شامل ہوتے گئے۔”ابھی کچھ لوگ با قی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں“ یعنی کچھ شخصیات کے پوسٹر تحریک نے اپ لوڈ کر دیے ہیں جن میں فا روق نا زکی (سرینگر)، مشتاق احمد نوری(بہار)،ڈاکٹر ایا ز رسول نا زکی، انیس نعیم (کولکتہ)،سجا د علی (پا کستان)،سعیدہ تبسم ناڈکر(ممبئی)صہبا شاذلی (نیو زی لینڈ)جیسے خواتین و حضرات شا مل ہیں۔ لوگ جڑتے جارہے ہیں اور کچھ لوگ سیدھے پیج پر آئے اور اتنا متاثر ہوئے کہ اردو کے لئے اس بے لوث کیے جا رہے کام کی سرا ہا نا کی،کچھ نے سیدھے تحریک کے صدر سے رابطہ کیا اور خود ہی اس پیج پر آنے کی تمنا ظاہر کی اور تحریک سے جڑنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ یہاں یہ با ت بھی قا بل ِ غور ہے کہ اس وبا کے بعد جب دنیا ایک دوسرے سے جڑ رہی ہے۔یہ ڈیجیٹل پلیٹ فا رم بہت بڑا رول ادا کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔تحریک کا یہ پیج اس وقت ایک نئی اڑان پر ہے اور آگے بھی اس سے بہتر کردار ادا کرے گا۔فی الحال اس وقت یہ با ت بولنے کی نہیں ہے کہ پورے ملک میں یہ ایک ہی اردو کا پیج ہے جو صرف اردو شعر و ادب کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کی بات کرتا ہے اردو میں ہی بولا جارہا ہے اردو میں ہی لکھا جا رہا ہے لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اس پیج پر صرف مسلمان ہی نہیں آرہے ہیں، غیر مسلم بھی آرہے ہیں کیونکہ اردو صرف مسلمانوں کی نہیں ہے اور صرف مسلمانوں کے آنے کا سوال ہی نہیں کیونکہ اردو ایک لشکری زبان ہے جو کسی ایک مذہب یا ملک کی نہیں ہے،اس کی مثال تو گنگا جمنی تہذیب کی ہے اور میں تحریک بقائے اردو کی چھوٹی سی پیادہ یا مہر ہ ہونے کی بنا پر بہت ہی خوشی محسوس کرتی ہوں اور اس پیج کے متحرک اور فعال ہونے کا پورا پورا کریڈٹ تحریک کے صدر جناب عرفان عارف کو دینا چاہوں گی وہ نہ صرف اچھے انسان ہیں بلکہ انھوں نے اردو کے لیے زندگی دی ہے کچھ لوگ تو پچا س ساٹھ سال بعد اس طرح کے کا م کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ ہیں کہ آج سے ہی اردو کی ترقی و ترویج کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں اور ابھی عرفان عارف کے لیے تمام زندگی پڑی میں کہہ سکتی ہوں کہ اب تک جو کچھ بھی انہوں نے کیا اردو کے لئے کیا ان کی پڑھائی اردو میں ہوئی۔ ٹاٹ پٹی پر بیٹھ کر انہوں نے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرکے ایک سے ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا، جس پر کوئی بھی فخرکر سکتا ہے گھر والے تو کریں گے ہی ماں باپ تو کریں گے ہی لیکن ان کے جاننے والے،ان کے دوست و احباب سب ان پر فخر کرتے ہیں اور کہیں بھی انھوں نے اردو کا سر نیچے نہیں ہونے دیا، وہ چا ہے طالب علمی کے زمانے میں، اسکالر اور استاد کے عہدے تک پہنچنا ہو، یا پروفیسر کے طور پر، بہت ساری کا میا بیا ں اور کا مرانیا ں ایسی ہیں جو ان کے ساتھ یہ جڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے بہت جلد یہ طے کرلیا کہ اردو صرف ان تک محدود نہیں رہے گی اردو کی بقا کا ذمہ ان تک ہی محدود نہ رہے ایک تحریک چلا ئی اور تحریک سے وہ جس خوبصورتی کے ساتھ لوگوں کو جوڑتے ہیں وہ کمال کی بات ہے ان کی شخصیت کی شائستگی اور مٹھاس ایسی ہے کہ لوگ ان سے ملتے ہی بات کرتے ہیں ان کی ایمانداری کو محسوس کرتے ہیں وہ ایک جگہ بیٹھے بیٹھے فی الحال ساری دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کی بات میں اثر ہے ابھی تک انہوں نے پورا وقت اردو کو دیا ہے اردو کے لیے انہوں نے نہ جانے کتنے طا لب علم تیار کیے ہیں جو نہ صرف بہترین روزگار حاصل کیے ہوئے ہیں بلکہ اردو کی خدمت بھی کر رہے ہیں جبکہ خود بھی عرفان صاحب ابھی اتنے بزرگ نہیں ہوئے ہیں ابھی تو وہ جوان ہیں اور ابھی انہوں نے اور بہت سارے کام کرنے ہیں بے شک ان کو جو ٹیم ملی ہے وہ بھی ہر کام میں بہتر ہیں ان بہترین ساتھیوں میں میں ذاکر ملک بھلیسی جنرل سیکریٹری ہوں، فاروق شاہ بخاری سرپرست اعلی یا پھر مشتاق احمد وانی جیسے اور بہت سارے لوگ ہیں جو بہت اہم رول ادا کر رہے ہیں تحر یک کو دور دور تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ہے بنارس سے میں نے بھی اس کار خیر میں خود کو پیش پیش رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ جب کو ئی بہت بڑا پُل بن رہا ہو تو چھو ٹی چھو ٹی چڑیا ں یا گلہریاںاس کی بنیا د میں کنکر ڈالتی رہتی ہیں اور پل کے بننے میں ان کا بھی حصہ مانا جا تا ہے اس طرح میں نے بھی یہ ذمہ اٹھا یا ہوا ہے کہ میں بنا رس میں رہ کر تحریک کے ساتھ اوروں کو جوڑ پاؤں،مجھے بڑی خوشی ہے کہ میں اس تحریک سے وابستہ ہوں اور یہ کہنے میں بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ جس طرح اس تحریک نے پوری دنیا کو ایک پلیٹ فا رم پر جوڑنے کا کام کیا ہے وہ نا یا ب ہے۔میں چاہتی ہوں کہ ابھی اور لوگ اس سے تحریک سے، اس پیج سے جڑیں،اسے دیکھیں، پورے ملک میں اس کا نام ہو جیسے ابھی کچھ لوگ اس پیج پر آنے کے لیے بے چین و بیتاب ہیں،جو اردو کے خدمت گا ر ہیں وہ آگے آئیں تاکہ ہر طرف یہی آواز گونجے کہ
اردو ہے جس کانا م ہمیں جا نتے ہیں داغؔ سارے جہاں میں دھوم ہما ری زباں کی ہے
میں چا ہتی ہوں کہ اردو کی طرح ہر طرف تحریک کی بھی دھوم ہواور یہ تحریک اردو کے لئے کام کرتی رہے ابھی بہت آگے جانا ہے اور اس کی بقاو فروغ کے لیے کام کرتے رہناہے۔آؤ اردو سیکھیں اور سیکھائیں۔ اردو پڑھیں اور پڑھا ئیں تحریک سے جڑ کر اردو ماحول بنا ئیں۔

احمد علی برقی اعظمی 
میں ہوں تحریک بقاٸے اردو کا منت گذار
جس کی بزم آراٸیاں ہیں باعث صد افتخار
اس کاادبی گفتگو کا سلسلہ ہے دلنشیں
ہے جو سوشل میڈیا پر کام اس کا شاندار
گفتگو کرتے ہیں اس میں سب مشاہیر ادب
سب کے منظور نظر ہیں جن کے ادبی شاہکار
اپنی ادبی کاوشوں کا کرتے ہیں سب تذکرہ
اس میں دہلی سے شریک بزم تھا یہ خاکسار
مجھ سے جو پوچھا گیا میں نے دیا اس کا جواب
ماحصل ہے جس کا ارباب نظر پر آشکار
پیز کرتا ہوں انھیں اس کی مبارکباد میں
ہیں جو اقصاٸے جہاں میں اردو کے خدمتگذار

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*