تبصرہ اور تبصرہ نگاری ـ ابو فہد

 

بس یوں سمجھ لیں کہ یہ قاعدۂ کلیہ ہےـ اگر تبصرہ ہم مسلک وہم خیال شخصیات یا تحریکا ت پرکیا جائے اوران کی علمی وفکری کاوشوں اور کمالات پر کیا جائے تو تبصرہ زیادہ ترمثبت ہی ہوگا، یعنی سرتاسر توصیفی اورتاثراتی۔ پھراس میں تبصرہ نگار کی طبیعت کی جولانیا آجائیں گی اور پھر کوزے میں سمندر بند کیے جائیں گے اور آنکھ کے تل میں فلک کو جلوہ گر دکھایاجائے گا۔ اپنے ممدوح کی خامیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالا جائے گا،ان کے ناروا وبے ہودہ اور ناقابل اعتبار اقوال، افعال اورافکار کی خوبصورت تاویلیں تراشی جائیں گی اوراس کے پیکرکورنگ ونورمیں بھگویا جائے گا۔

 

لیکن اگر تبصرہ ایسی شخصیات یا تحریکات پرکیا جائے اوران کی علمی وفکری کاوشوں اور کمالات پرکیا جائے، جو تبصرہ نگار کی ہم مسلک وہم خیال نہ ہوں تو تبصرہ عموما منفی ہی ہوگا یعنی معاندانہ اور ناقدانہ۔اس میں پھر تنقیص بھی آجائے گی اور کوسنے اور گالیاں بھی پروسے جائیں گے۔ ایسے تبصروں میں اپنے مخالف کی اونٹ جیسی خوبیوں کو ہضم کرلیا جائے گا اور مچھربرابرکوتاہیوں کو چھانا اور پھٹکا جائے گا۔ سوالات کھڑے کیے جائیں گے اورنان سینس ٹائپ جملوں اورگالی جیسے لفظوں سے اس کا جسم چھلنی کیا جائے گا۔

 

فی الواقع یہ تبصرے بھی اپنی نفسیاتی اوراسلوبیاتی نہاد میں کرم خوردہ اور فساد زدہ ذہنیت کے آئینہ دارہوتے ہیں،جو تبصرہ نگار کی ذہنیت کا کُل کا کُل کچا چٹھا صفحۂ قرطاس پر اگل دیتے ہیں۔

 

البتہ اپنے آپ کو بہت زیادہ معروضیت پسند اورغیر جانبداربتانے والے تبصرہ نگاربھی اس معاملے میں اگر کچھ کرپاتے ہیں تو بس اتنا ہی کہ اپنے ہم مسلک وہم خیال افراد کی کاوشوں پر تبصرہ مثبت پیرائے سے شروع کرتے ہیں اوراس میں چند ایک منفی وناروا افعال واقوال اورافکار کا ذکر ڈال کر تبصرہ ختم کرتے ہیں اوراس اطمجنان کے ساتھ قلم اٹھالیتے ہیں جیسے تنقید کا حق ادا کردیا گیا ہے۔ایسے غیر جانب دار اور معروضیت پسند قلم کارجب ناپسندیدہ شخصیات،تصنیفات، ادارے، جامعات اورتحریکات وتنظیمات پر تبصرہ کرنے بیٹھتے ہیں تو منفی ذہنیت کے ساتھ تبصرہ شروع کرتے ہیں اور پھر درمیان میں اور آخر میں ایک دو مثبت اور قابل قبول چیزیں لکھ کر خوش ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے مکمل جانب داری کے ساتھ زیر تبصرہ شخصیت یا ادارے کا اگلا پچھلا کل حساب بے باق کردیا ہے اوراب نہ تو اِس دنیا کے داروغہ ان کا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ ہی موت کے اُس پار والی دنیا کے رضوان ان کے گریبان پر ہاٹھ ڈال پائیں گے۔

 

اور یہ سب سیاست کے چوباروں سے لے کرمیڈیا کے روشن مگر تاریک پردوں تک اور مذہبی دفاتر سے لے کر ادبی گلیاروں تک ہر جگہ ہوتا ہے اور اسے کہیں بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا، الا یہ کہ اس کی زد خود پر اور خود کے قابل پرستش کرداروں پر پڑرہی ہو اور بس اسے قاعدۂ کلیہ ہی سمجھ لیں،پھر بھی ہر قلم کار کی اور بطورخاص ایک عالم دین کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ غلط کو غلط کہے اور صحیح کو صحیح۔