تبلیغی جماعت کے خلاف درج کیس میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی:دہلی پولیس

نئی دہلی:دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کو منگل کو بتایا کہ کووڈ19 لاک ڈاؤن کے دوران نظام الدین مرکز میں ہوئے مذہبی اجتماع میں حصہ لینے کے لئے تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف درج کیس میں اس نے نہ تو کسی کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی کسی کو حراست میں لیا ہے۔عدالت نے پروگرام میں حصہ لینے والے 916 غیر ملکی شہریوں کی رہائی کی درخواست کرنے والی ایک درخواست پر دہلی پولیس اور آپ حکومت سے جواب مانگا تھا۔پٹیشن میں کہا گیا کہ ان غیر ملکی شہریوں کے کووڈ 19 کی جانچ میں متاثر نہیں پائے جانے کے باوجود انہیں 30 مارچ سے تنہائی مرکز میں رکھا ہوا ہے،وہ 916 غیر ملکی شہریوں میں سے 20 کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کر رہی تھی جنہوں نے کہا ہے کہ مسلسل حراست میں رکھا جانا آزادی کے تانے بانے کو توڑتا ہے۔جسٹس وپن ساگھی اور جسٹس رجنیش بھٹناگر کی بنچ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت کی، جہاں انہیں بتایا گیا کہ درخواست گزاروں سمیت تبلیغی جماعت کے پروگرام میں شامل ہوئے 900 سے زیادہ غیر ملکی شہریوں کو معاملے کی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے اور تعزیرات (سی آر پی سی) کے تحت انہیں نوٹس بھیجے گئے ہیں۔دہلی حکومت کے مستقل وکیل (جرائم) راہل مہرا اور ایڈووکیٹ چیتنی گوسائی نے کہا کہ تحقیقات روز کی بنیاد پر ہو رہی ہے اور پولیس ایک ہفتے کے اندرمتعلقہ نچلی عدالت میں اس معاملے میں الزامی خط دائر کرے گی۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوئی ایڈووکیٹ روبیقہ جان اور وکیل اسماء شمسی نے اپیل کی کہ تمام غیر ملکی شہری جن میں کورونا کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، انہیں ان الگ تھلگ مراکز سے نکال کر دوسری جگہ پر ٹھہرایا جائے۔وکلاء نے کہا کہ وہ ٹھہرنے کے متبادل مقامات کی فہرست فراہم کرائیں گے اور ان جگہوں پر ٹھہرنے کا خرچ کمیونٹی اٹھائے گی۔عدالت نے دہلی پولیس اور متعلقہ ایس ڈی ایم کی طرف سے دائر دو پیش رفت رپورٹ کو بھی ریکارڈ میں رکھا، جس میں کہا گیا کہ آمدنی محکمہ (دہلی) نے کسی بھی غیر ملکی شہری کو کسی طرح کی حراست میں نہیں رکھا ہے اور وہ صرف ان کا خیال رکھ رہا ہے اور انہیں ہر ممکن سہولت دے رہا ہے۔عدالت اس معاملے میں اگلی سماعت جمعرات کو کرے گی۔