جماعت تبلیغ،سعودی عرب اور ہمارا رد عمل ـ عبداللہ ممتاز

چند روز قبل سعودی کی وزارت مذہبی امور نے تبلیغی جماعت پر باطل عقائد، قبر پرستی اور دہشت گردی کا الزام لگا کر سعودی عرب میں اس کی ایکٹیوٹیز پر بندش کا اعلان کیا۔ ظاہر ہے اس پر رد عمل ہونا تھا سو ہوا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس پر کیا رد عمل ہوا اور کیا رد عمل ہونا چاہیے؟ کیسے رد عمل ہوا اور رد عمل کا کیا طریقہ ہونا چاہیے؟
سعودی عرب دنیا کا واحد ملک نہیں ہے، جس نے جماعت تبلیغ پر بندش لگا رکھی ہے؛ بلکہ سو فیصدمسلمان والے ملک مالدیپ ، نوے فیصد مسلمان سنی حنفی والے ملک تاجکستان و قزاقستان اور اسی فیصد سنی وحنفی مسلک والے ملک ازبکستان میں بھی تبلیغی جماعت پر بندش ہے۔ پھر یہ کہ سارے ہنگامےاور مذمتی بیانات جماعت تبلیغ کی ‘بندش’ پر ہو رہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ سعودی میں تبلیغی جماعت کے نقل وحرکت کی اجازت کب تھی جو اَب بندش لگادی گئی؟
سعودی عرب میں تبلیغی جماعت کے ایکٹیوٹیز کی پہلے بھی اجازت نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے؛ ہاں بس پہلے والے عدم اجازت کی اب تجدید ہوئی ہے اور لوگوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ہمارے یہاں تبلیغی جماعت کی نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہے۔ ہر ملک کے اپنے اصول وضابطے ہیں، کوئی بھی ملک کسی مخصوص آرگنائزیشن کواپنے یہاں کام کرنے کی اجازت دے یا نہ دے یہ اس کا اختیار ہے۔ کئی ممالک نے اپنے یہاں کئی عالمی رفاہی تنظیموں پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ سعودی کو اگر لگتاہے کہ جماعت تبلیغ اس کے انتظامی معاملات میں مخل ہوسکتے ہیں تو اسے بندش لگانے کا حق ہے۔
میری نظر میں اصل مدعا یہ نہیں ہے کہ اس نے جماعت تبلیغ پر بندش کیوں لگائی؛ بلکہ اصل مدعا یہ ہےکہ اس نے تبلیغی جماعت کو دہشت گردی سے کیوں جوڑا۔ان سے سوال یہ ہونا چاہیے کہ آخر تمھیں اس بات کی آتھوریٹی (Authority)کس نے دے رکھی ہے کہ مسلم تنظیموں میں سے جب جس کو چاہا دہشت گردی سے جوڑ دیا۔ تمھیں عقائد کا امام کس نے بنایا ہے کہ جب جی چاہا دوسروں کے عقیدوں کا فیصلہ کرنے بیٹھ گئے؟
انھیں اخوان المسلمین سے بغض ہوا، ان کو دہشت گرد کہہ کر ان پر بندش لگادی، قطر نے ان کی جی حضوری نہیں کی، قطر پر دہشت گردی کےسپورٹ کا الزام لگاکر اس کی ناکہ بندی کردی (مجھے یاد آتاہے کہ سعودی کے وظیفہ خوار مولویوں نے تو قطریوں کے خلاف یہ تک فتوی دیا تھا کہ اگر قطر نے سعودی سے معافی نہ مانگی اور اس پر جو الزامات ہیں ان سے دست بردار نہ ہوے تو قطریوں کے روزے بھی قبول نہ ہوں گے۔ مانو اللہ تعالی نے حرم کے ساتھ نماز روزہ قبول کرنے کی بھی ذمے داری دے رکھی ہو) اور اَب تبلیغی جماعت کو دہشت گردی سے جوڑ کر پابندی عائد کی ہے۔
سعودی حکومت کو آخر یہ اختیارات کس نے دے رکھے ہیں جو خود کو پوری دنیا کے مسلمانوں کا حاکم وسربراہ بننے کی کوشش میں ہے؟خود سعودی کی حیثیت کیاہے جو امریکہ کی گود میں پلتا اور اسرائیل کی گود میں کھیلتا ہے۔ اس نے بزعم خود عالم اسلام کی قیادت سنبھالی ہوئی ہے اور شاید بار بار اپنی قیادت کا احساس دلاتے رہنے کے لیے ان جماعتوں پر بھی دہشت گردی کا لیبل چپکا دیتا ہے جسے خود امریکہ، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل بھی دہشت گرد کہنے کو آمادہ نہیں ہے۔ اخوان المسلمین ، محمد مرسی اور قطر اسی کا شکار ہوا اور اب تبلیغی جماعت؛ کہ جسے دہشت گرد کہنے کے لیے سلامتی کونسل تو وجہ تلاش نہ کرسکی، ہندوستانی میڈیا نے پورا دام خم لگاکر اس پر پابندی عائد نہ کراسکا؛ لیکن سعودی نے بڑی آسانی کے ساتھ اسے "دہشت گردی کا ایک دروازہ” قرار دے دیا۔
اس لیے میری نظر میں گفتگو اس پر نہیں ہونا چاہیے کہ سعودی نے تبلیغی جماعت پر بندش کیوں لگائی؛ بلکہ بات اس پر ہونی چاہیے کہ اسے دہشت گردی سے کیوں جوڑا گیا۔
میری نظر میں حجاز کی اہمیت ہےجس میں مکہ ومدینہ جیسے مقدس مقامات ہیں یا پھر جزیرۃ العرب کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات موجود ہیں۔ سعودی کی کیا اہمیت ہو؟ یہ تو خلافت عثمانیہ سے غداری کرنے والوں کا ایک ٹولہ ہے جس نے حجاز اور اس کے علاوہ چند شہروں پر بغاوت کرکے قبضہ جمالیا تھا۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ رد عمل کا کیا طریقہ ہونا چاہیے؟
ہوسکتا ہے کہ میں اپنی سوچ میں غلط ہوں ؛ لیکن کسی معاملے پراخبارات میں مذمتی بیانات کا جو سلسلہ چل پڑتا ہے، میرے خیال سے یہ درست نہیں۔ مذمتی بیانات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذمت کرنے والے نے اردو اخبار کو اپنا ایک مذمتی بیان جاری کرکے معاملے سے پلو جھاڑلیا اور جو انھیں اپنا مقتدا مانتے اور سمجھتے ہیں انھیں بھی احساس دلادیا کہ ہم نے اپنی ذمے داری پوری کردی ہے۔ اس معاملے میں بھی وہی ہوا۔اس کا اثر یہ ہوا کہ ہندوستانی میڈیا ایسے خبروں کے انتظار میں رہتی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے دکھ کا سبب ہو، انھیں خوب موقع ملا۔
ہونا یہ چاہیے تھا کہ جمعیۃ العلماء، دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء اور اس طرح کی دیگر نمائندہ جماعتوں کے افراد (جن کے سعودی حکومت سے اچھے روابط ہیں) پر مشتمل ایک وفد رابطہ عالم اسلامی کے رکن مولانا سید را بع حسنی ندوی اور مولانا سید ارشد مدنی کی قیادت میں سعودی حکومت سے ملاقات کرتا ، انھیں اس سنگین غلطی کا احساس دلاتا کہ اس کےاثرات متحدہ ہندوستان؛ خصوصا ہندوستان میں کیا ہوں گے۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کوئی ہزار دو ہزار کی اور لاکھ دو لاکھ کی تعدادمیں نہیں ہیں؛ بلکہ چالیس کروڑ مسلمان اس سے وابستہ ہیں۔ ایک جھٹکے میں چالیس کروڑ مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا نتیجہ کیا ہوگا۔اگر آپ کو تبلیغی جماعت کے اصول اور طریقوں سے اختلاف ہے، اگر آپ کو تبلیغی جماعت کے اعمال اور اس کی تعلیمات سے اختلاف ہے تو کیجیے، پابندی لگائیے؛ لیکن دہشت گردی کے الزام سے پوری دنیا میں مسلمانوں کی کیا شبیہ بنے گی؟ اخوان دہشت گرد ہے، تبلیغی دہشت گرد ہیں، دعوہ والے دہشت گردہیں، قطر بھی دہشت گردوں کا سپورٹر ہے، فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں کو آپ نے پہلے ہی دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے، ترکوں سے آپ کو بیر ہے، ایران تو آپ کا اصلی حریف ہے، افغانستان اور عراق پر حملے میں آپ امریکہ کے سپورٹر ہیں، پھر تو دشمنان اسلام ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ آپ جیسے پاکباز وپارسا کی تعداد دنیا میں تو بہت تھوڑی ہے جو غداری کرکے بھی دہشت گرد نہیں ہوتا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*