تبلیغی جماعت والوں پرنیا عتاب – معصوم مرادآبادی

 

تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں پرکورونا وائرس پھیلانے کے مقدمات قایم ہونے کے ساتھ ہی یہ تشویش ناک خبربھی آئی ہے کہ اترپردیش سرکار نے ایک ایسا آرڈی نینس جار ی کردیاہے جس کی رو سے جان بوجھ کر کورونا پھیلانے والوں کو عمر قیدتک کی سزاہو گی۔اتر پردیش کی یوگی کابینہ کی طرف سے منظور کئے گئے اس آرڈی نینس کی رو سے کورونا پھیلانے والوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کے علاوہ بھاری جرمانے بھی عائد کئے جائیں گے۔ اتر پردیش کابینہ کی طرف سے گذشتہ بدھ کو منظور کئے گئے آرڈی نینس کی دفعہ24میں کہا گیا ہے کہ ”کوئی بھی شخص جو جان بوجھ کر کسی دیگر شخص کو ایک وبائی بیماری سے متاثر کرتا ہے، اس دوسال سے پانچ سال تک قید بامشقت دی جائے گی۔دفعہ26 میں کہا گیا ہے کہ دفعہ24 اور 25کے تحت جو کوئی بھی جان بوجھ کر موت کا سبب بنتا ہے، اسے قید بامشقت دی جائے گی، جوکہ سات سال سے کم نہیں ہوگی، لیکن یہ عمر قید تک بڑھ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پر تین سے پانچ لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔“یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اتر پردیش کی یوگی سرکار کے لئے کورونا پھیلانے والے لوگ کون ہیں۔ کیونکہ ان کی شناخت گودی میڈیا نے پورے ملک کو اس وقت ہی بتلادی تھی جب دہلی کے تبلیغی مرکزمیں پھنسے ہوئے لوگوں کو ’چھپے ہوئے کورونا جہادی‘ قرار دے کر پورے ملک میں بدنام کیا گیا تھا۔یہ مہم تبلیغی جماعت کے لوگوں سے آگے بڑھ کر عام مسلمانوں تک پہنچادی گئی اوراسی شرمناک مہم کا نتیجہ ہے کہ آج ہر مسلمان کو ’کورونابم‘ سمجھ کر اس کا جینا حرام کیا جارہا ہے۔

اسی بے ہودہ اور مسلم دشمن پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے کہ آج پورے ملک میں مسلمانوں کو ہی کورونا پھیلانے کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے اور اسی بنیاد پر ملک کے مختلف علاقوں میں ان کے سوشل بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔جن صوبوں میں یہ کام پوری شدت اور نفرت کے ساتھ انجام دیا جارہا ہے، ان میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار والی ریاست اترپردیش سرفہرست ہے۔یہ بات پہلے ہی ثابت ہوچکی ہے کہ یوپی سرکار ہر معاملہ میں مسلمانوں کے ساتھ انتہائی تعصب کا برتاؤ کرتی ہے اور وہ انھیں اپنے شہری سے زیادہ ایک دشمن کے طور پر دیکھتی ہے۔ گذشتہ دنوں جب اتر پردیش میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مسلمانوں نے پرامن احتجاج کیا تھا تو یہ یوگی سرکار ہی تھی جس نے اس تحریک میں حصہ لینے والے باعزت اور باوقار شہریوں پر مقدمات قایم کر کے ان کے پوسٹر سڑکوں پر آویزاں کئے تھے اور انھیں عادی مجرموں کی طرح پیش کیا تھا۔اب یہی سرکار کورونا وائرس کی آڑمیں مسلمانوں کا شکار کرنے کے لئے ایک ایسا آرڈی نینس لے کر آئی ہے جو انسانیت کے خلاف بدترین جرم کے مترادف ہے۔شاید ہی دنیا کا کوئی ایسا ملک ہو، جہاں اس طرح کا قانون بنانے کے بارے میں سوچا گیا ہو۔کیونکہ یہ بات انسانی فطرت اور سرشت کے بالکل خلاف ہے کہ کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے پہلے خود کسی انتہائی خطرناک بیماری کا جان بوجھ کر شکار ہو اور اس کے بعد وہ دوسرے لوگوں کو اس میں مبتلا کرے۔ظاہر ہے جوکوئی اس خطرناک وبا کاخود کو جان بوجھ کر شکار بنائے گا وہ پہلے خود اس بیماری سے ہلاک ہو گا۔ جبکہ اس کے برعکس تبلیغی جماعت کے لوگوں کے بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ جو بھی کورونا مریض اس وبائی بیماری سے صحت یاب ہوئے ہیں، انھوں نے ازخوداپنا پلازمہ عطیہ کرکے دوسرے مریضوں کی صحت یابی کا سامان فراہم کیا ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد سینکڑوں بتائی جاتی ہے۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ گذشتہ مارچ کے اواخر میں دہلی کے تبلیغی مرکز سے ڈھائی ہزار سے زیادہ لوگوں کی برآمدگی کے بعدسے فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کی توپوں کا رخ مسلمانوں کی طرف ہے اور انھیں پورے ملک میں کورونا پھیلانے کا مجرم قرار دے کر ان کے خلاف انتہائی خطرناک مہم ملک گیر پیمانے پرچل رہی ہے۔ اس مہم کو طاقت پہنچانے کے لئے گودی میڈیا سب سے زیادہ ذمہ دارہے۔حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت ملک میں کورونا کے سب سے زیادہ مریض مہارشٹر اور گجرات میں ہیں اور وہاں اس وائرس نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے۔ہندوستان میں کورونا پھیلانے کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو غیر ملکوں سے یہاں آئے اور اپنے ساتھ اس وبا کا وائرس لے کر آئے۔ اس معاملے میں گذشتہ فروری میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ہندوستان آنے والے سینکڑوں لوگوں کو بھی کورونا پھیلانے کے لئے ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن یہ سب لوگ چونکہ انتہائی طاقتور اور خوشحال ہیں اس لئے کورونا کی آڑ میں حکومت کو کچھ قربانی کے بکروں کی تلاش تھی جو اسے تبلیغی جماعت کے لوگوں کی شکل میں مل گئے ہیں۔ لہٰذا دہلی اور خاص طور پر اترپردیش میں تبلیغی جماعت کے جن لوگوں کو کورنٹائن کیا گیا تھا، اب انھیں کورونا پھیلانے کا ’کلیدی مجرم‘ قرار دے کر ان کے خلاف مقدمات قایم کئے جارہے ہیں۔ ان اطلاعات سے رمضان کی عبادت وریاضت میں مشغول مسلمانوں میں غم وغصے کی شدید لہر دوڑگئی ہے اور لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ ہرقسم کا تعاون کرنے کے باوجود انھیں مجرموں کے کٹہرے میں کیوں کھڑا کیا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں مغربی اترپردیش کے شہروں سے جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں، وہ خاصی پریشان کن ہیں۔ خود یہاں دہلی میں تبلیغی جماعت سے وابستہ جن سینکڑوں لوگوں کورنٹائن کیا گیا تھا، ان کی رپورٹیں منفی آنے اور انھیں 28دن سے زیادہ کورنٹائن میں رکھنے کے باوجود اپنے گھروں کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اس معاملہ میں دہلی سرکار کا محکمہ صحت مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایات کا انتظار کررہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ان تین ہزار سے زیادہ لوگوں کی نگرانی کرنے کے لئے وہاں ڈاکٹروں کی بجائے دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے اہل کار موجود ہیں اور انھیں کسی سے ملنے بھی نہیں دیا جارہا ہے۔خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک خبر کے مطابق اتر پردیش کے کیرانہ میں کرناٹک اور آسام سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے 24ارکان پر کورونا پھیلانے کا مقدمہ قایم کرلیا گیا ہے۔ ایک پولیس اہل کار کے مطابق یہ لوگ کسی اطلاع کے بغیر کیرانہ کی ایک مسجد میں مقیم تھے۔ان پر تعزیرات ہند کی مختلف دفعات اور وبا پھیلانے سے متعلق ایکٹ مجریہ 1897کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ اسی طرح امروہہ ضلع کے مختلف مقامات پر کورنٹائن کی مدت گذارنے کے بعد51 لوگوں کے خلاف دفعہ 269 اور دفعہ 270کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ان لوگوں کا تعلق بھی تبلیغی جماعت سے بتایا جاتا ہے۔حکومت پہلے ہی ان سینکڑوں غیر ملکیوں کے پاسپورٹ ضبط کرکے انھیں جیل بھیج چکی ہے جنھوں نے بقول اس کے ٹورسٹ ویزا لے کر یہاں تبلیغی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان پر ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور کورونا پھیلانے والی دفعات کے تحت مقدمات قایم کرلئے گئے ہیں۔ان غیر ملکی باشندوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف یہ سب انتقامی کارروائیاں ایک ایسے نازک وقت میں کی جارہی ہیں جب پورے ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور ان کی تعداد پچپن ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ آئندہ دو ماہ کے دوران اس وبا کی تباہ کاریوں سے متعلق جو پیشین گوئیاں کی گئی ہیں، وہ رونگٹے کھڑے کردینے والی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی لاک ڈاؤن میں پھنسے ہوئے کروڑوں مزدوروں کا معاملہ دن بہ دن سنگین ہوتا جارہا ہے اور سینکڑوں مزدور اب تک بھوک اور حادثات کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جاپہنچے ہیں۔ حکومت حالات سے نپٹنے میں پوری طرح ناکام نظر آرہی ہے۔ ایسے میں اپنی ناکامیوں اور سنگین ترین انسانی اور معاشی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے سب سے زیادہ آزمودہ فارمولا یہی ہے کہ اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر اس کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑدیا جائے اور ہمیشہ کی طرح انھیں نرم چارہ سمجھ کر چبالیا جائے۔ لیکن سوال یہ کہ آخر حکومت کب تک عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہے گی اور ملک کی تباہی سے لوگوں کا دھیان بٹاتی رہے گی؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)