تبلیغی جماعت کے خلاف میڈیا کے پروپیگنڈہ کامعاملہ:مرکزی حکومت کے حلف نامہ پرسپریم کورٹ ناراض،ریگولیٹری نظام بنانے کی ہدایت

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کوویڈ 19 وباء کے پھیلنے کے دوران قومی دارالحکومت میں منعقدہ تبلیغی جماعت کے اجتماع سے متعلق میڈیاکی غلط رپورٹنگ سے متعلق ایک معاملے میں مرکزکی طرف سے پیش کردہ حلف نامے پربرہمی کا اظہار کیا اور کہاہے کہ ٹیلی ویژن پر ایسے مشمولات سے نمٹنے کے لیے ایک ریگولیٹری نظام بنانے پر غور کرناچاہیے۔عدالت عظمیٰ نے مرکزکوایسا نظام تشکیل دینے اور عدالت کو اس کے بارے میں آگاہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی سربراہی میں بنچ نے سالیسیٹر جنرل تشارمہتا کوپھٹکارلگائی ہے کہ پہلے آپ نے مناسب حلف نامہ داخل نہیں کیا اور اب آپ نے ایک حلف نامہ پیش کیا ہے جس میں دو اہم سوالات کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔یہ درست راستہ نہیں ہے۔عدالت عظمیٰ نے کہاہے کہ ہم آپ کے جواب سے مطمئن نہیں ہیں۔جسٹس اے ایس۔ بوپنا اور جسٹس وی رامسوبرمیان بھی اس بینچ کا حصہ تھے۔بنچ نے کہا ہے کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ٹی وی پر اس قسم کے موادسے نمٹنے کے لیے کس طرح کاانتظام ہے۔اگرکوئی ریگولیٹری نظام موجود نہیں ہے تو پھر آپ ایسا نظام کیوں نہیںبناتے ہیں۔ بنچ جمعیت علمائے ہند اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کر رہا تھا جس میں بتایاگیا ہے کہ میڈیا کا ایک طبقہ تبلیغی جماعت کے پروگرام کے حوالے سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلارہا ہے۔عدالت عظمیٰ نے مرکز کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ کیبل ٹی وی نیٹ ورک ایکٹ کے تحت الیکٹرانک میڈیا کے ضابطے کے نظام سے متعلق ایک نیاحلف نامہ داخل کرے۔