تبلیغی جماعت پر ہنگامہ،مہا کمبھ پر خاموشی:آبلے پڑگئے زبان میں کیا؟- زینب سکندر

ترجمہ:نایاب حسن
سچائی اور حقیقت سے زیادہ واضح کچھ نہیں ہوتا اور فی الحال ہندوستان کی سچائی یہ ہے کہ جب ایک اقلیتی طبقہ اپنے مذہب پر عمل کرتا ہے ، خاص طور پر کووڈ کے زمانے میں ، تواسے بدنیتی پر محمول کیا جاتا ہے،جبکہ دوسرے لوگ مذہبی اجتماع کے نام پر کھلے عام بے احتیاطی کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
گذشتہ سال مارچ میں ہندوستان میں کورونا وائرس کے آغاز کے موقعے پر اس وقت مسلمانوں کو جہادی اور سب سے زیادہ کورونا پھیلانے والا قراردیا گیا تھا، جب 3000 سے زیادہ غیر ملکی شہریوں کو ، جنھیں مرکز نظام الدین کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کا ویزا اور سرکاری اجازت حاصل تھی،کورونا پھیلانے کے الزام میں ملک کی مختلف جیلوں میں بند کیا گیا،ان کے خلاف مقدمے چلائے گئے اور بالآخر عدالتوں نے انھیں بری کردیا۔
دوسری مثال سکھوں کی ہے،جنھوں نے 26 جنوری کو کسان احتجاج کے دوران لال قلعے پر’’نشان صاحب‘‘کا جھنڈا لہرا دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ احتجاجیوں کے ایک گروپ کی جانب سے کی جانے والی یہ حرکت غیر قانونی تھی،مگر اس کی وجہ سے تمام سکھ مظاہرین کو خالصتانی دہشت گرد قرار دے دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ لوگ ہندوستان کو بانٹنے اور سکھوں کے لیے الگ ملک بنانے کی سازش کر رہے ہیں۔
اس کے بعد رفاہی کام کرنے والے عیسائیوں کو نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ لوگ غریب اور قبائلی ہندووں کو کھانا پانی دے کر گمراہ کررہے ہیں اور انھیں عیسائی بننے پر مجبور کررہے ہیں۔’’پرسکیوشن ریلیف‘‘نامی ادارے( جس کا مقصد دستور کے ذریعے دیے گئے حقِ عبادت کا تحفظ کرنا ہے) کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران عیسائیوں پر مظالم کی شرح 40.87 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
اور اب دوسری لہر کے درمیان جس میں کورونا افراطِ زر سے بھی زیادہ برق رفتاری سے بڑھ رہا ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ گیارہ سال بعد مہاکمبھ اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ منایا جارہا ہے۔
مہا کمبھ،کورونا کے لیے مہا موقع:
آخری بار مہا کمبھ کا انعقاد 2010میں ہوا تھا اور اگر آپ آخری حد تک پر امید ہیں تو لاکھوں کے اس اجتماع کو اس اداسی اور عذاب کے درمیان ایک وقفے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جس کا دنیا گذشتہ ایک سال سے سامنا کررہی ہے؛لیکن اگر آپ عملیت پسندی سے کام لیتے ہیں تو آپ کو ایک لاکھ پینتالیس ہزار تین سو چونسٹھ سرخ پرچم بھی نظر آئیں گے؛ کیونکہ یہ ایک دن میں آنے والے سب سے زیادہ کووڈ کیسز تھے، جو پچھلے جمعہ کو رپورٹ ہوئے اور لگتا ہے کہ کیسز کی تعداد میں مستقبل قریب میں کوئی کمی بھی واقع نہیں ہوگی۔ ہم کورونا کی دوسری لہر کے بھنور میں پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔
لیکن یہ صرف تعداد کا معاملہ نہیں ہے،معاملہ اس جارحانہ تعصب کابھی ہے جو میڈیا رپورٹنگ میں دیکھا جاتا ہے،اسی طرح اس قسم کے مذہبی اجتماعات کی منظوری کے سلسلے میں بھی حکام کی طرف سے جانبداری برتی جاتی ہے ۔ پچھلے جمعہ کو متھرا کے بانکے بہاری مندر میں لوگوں کی ایک بہت بڑی بھیڑ جمع ہونے کی حکام نے اجازت دی ، جہاں کووڈ گائڈ لائنز کی پیروی نہیں کی گئی ۔ متھرا ضلع کے سی ایم او نے اے این آئی کے ذریعے باصرار کہا کہ تمام مندروں اور دھرم شالوں کو کووڈ پروٹوکول کی پیروی کرنے کے لیے کہا گیا تھا ، مگر مندر سے باہر آنے والی ویڈیوز کچھ الگ ہی کہانی بیان کرتی ہیں۔
پچھلے سال تبلیغی جماعت معاملے پر جو صحافی شور مچارہے تھے ،اب ان کے لبوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے پروٹوکول میں واضح غلطیوں کے باوجود صرف مسلمان ہی کورونا وائرس پھیلاتے ہیں ،باقی مذہبی جماعتیں کووڈ فری ہیں۔
سچ بتانا ضروری ہے، یہ کسی مذہبی رسم کی ادائیگی کی محض مخالفت نہیں ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ یہ ایک وبائی بیماری ہے اور اس سے سب لوگوں کو خطرات لاحق ہیں۔ اس کے باوجود اگر وہ کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو یہ ان کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ اصل مسئلہ اقلیتی طبقے کے مقابلے میں اکثریت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے بھید بھاؤ پر مبنی تعزیراتی اقدامات کا ہے؛کیونکہ تبلیغی جماعت کے ممبران کو ایسے وقت میں آئی پی سی ، وبائی بیماری ایکٹ ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ ، یہاں تک کہ این ایس اے کے مقدمات کے تحت سزا دی گئی تھی، جب ہندوستان کو اس وائرس کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں اور تمام مذہبی مقامات معمول کے مطابق کام کر رہے تھے۔ اب 1.7 لاکھ اموات کے بعد بھی دوسرے مذہبی طبقات کی طرف سے اسی طرح کے مذہبی اجتماعات کسی بھی ریاستی کارروائی سے مستثنیٰ ہیں۔ ان پر کوئی کچھ نہیں بول رہا۔
مسجد میں کورونا،مندر میں آستھا؟
مسئلہ ان ناقابلِ قبول اور مسلسل کیے جانے والے امتیازی سلوکوں کا بھی ہے جو میڈیا کے ذریعے روا رکھے جاتے ہیں۔ میڈیا والے مسجد میں لوگوں کے اجتماع کو کسی اور طرح رپورٹ کرتے ہیں، جبکہ مندر میں لوگوں کے اکٹھا ہونے کو دوسرے طریقے سے رپورٹ کیا جاتا ہے، جب کہ یہ دونوں عمل غلط ہیں ، ایک کو مذہب کا معاملہ قرار دیا جاتا ہے اور دوسرے کو دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،مگر ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہنا ضروری ہے۔
اس متعصبانہ خیال کو پھیلانے والی چیزیں ٹی وی سکرینوں پر مسلسل دکھائی جاتی ہیں کہ مسلمان کوئی اچھا کام نہیں کرتے ۔ حتی کہ یو پی ایس سی کے مسلم امیدواروں کو بیوروکریسی میں داخل ہوکر جہاد کرنے والا بتایا جاتا ہے،مگراس طرح کی عصبیت پھیلانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ جب ایک فرانسیسی اسکول کے استاذ سیموئل پیٹی کو ایک شخص نے اپنے طلبا کو حضرت محمدﷺ کا کارٹون دکھانے پر قتل کیا تو بیشتر مسلمانوں نے اس وحشیانہ کارروائی کی مذمت کی اور اس استاذ کی ناگوار حرکت پر سبھوں نے برہمی کا بھی اظہار کیا۔ میں نے بھی کارٹونوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا؛ لیکن ہمیں ایسا کرنے پر انتہا پسند کہا جاتا ہے۔ یہ اس ملک میں ہوتا ہے ،جہاں ’پدماوتی‘ جیسی فلم میں ایک ملکہ کو دکھانے کی وجہ سے لوگ ہتھیار اٹھالیتے ہیں ؛ کیوں کہ وہ اس ملکہ کو دیوی مانتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ کارٹونوں کے خلاف اظہارِ برہمی پر مسلمانوں کو عدم رواداری کا طعنہ دینے والوں کو فدا حسین کے ذریعے کی گئی ہندو دیویوں کی پینٹنگز نے ناراض کردیا تھا۔ حسین کو ان فن پاروں پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور اسی وجہ سے انھیں وطن بدر ہونا پڑا تھا۔
حقیقت اور سچائی سے زیادہ آزادی بخشنے والی کوئی چیز نہیں اور سچی بات یہ ہے کہ فرقہ واریت ہندوستان کی جڑوں میں پیوست ہے ۔ پس ان لوگوں کو یہ سچائی تسلیم کرلینی چاہیے جو اب بھی یہ کہتے ہیں کہ فرقہ واریت چھوٹے شہروں کی تعصب پسند ذہنیت پر مبنی مسئلہ ہے اور اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ،حالاں کہ اب یہ پورے ہندوستان کا حقیقی منظرنامہ ہے، جو ہمارے ملک کی روح پر حملہ آور ہے،اسے مسخ کر رہا ہے۔
(اصل مضمون دی پرنٹ انگریزی پر شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*