تبدیلی مذہب قانون:سپریم کورٹ آئینی حیثیت کاجائزہ لے گا

یوپی،اتراکھنڈکونوٹس جاری،ایکٹ پرفی الحال کوئی روک نہیں
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے اترپردیش اور اتراکھنڈکے متنازعہ تبدیلی مذہب ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے فی الحال اس قانون پرروک نہیں لگائی ہے لیکن دونوں ریاستوں کونوٹس جاری کیا ہے اورحکومتوں سے جواب طلب کرلیاہے۔سپریم کورٹ قانون کی آئینی حیثیت کی جانچ کرے گا۔درخواست گزارنے عدالت سے قانون پر روک لگانے کی درخواست کی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے میں دووکلاء اورایک ماہرقانون ے علاوہ ایک این جی اونے درخواست دائرکی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی جھوٹے طور پر پھنسانے کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کیاجاسکتا ہے۔ ملک کی کچھ ریاستوں میں تبدیلی کے خلاف قانون بنایا گیا ہے جس پر معاشرے کے مختلف طبقات اورسیاسی جماعتوں کی مختلف دفعات کے بارے میں مختلف رائے ہے۔ جہاں ایک طرف اس قانون کے غلط استعمال کے امکان پرتشویش کا اظہار کیا جارہا ہے ، وہیں دوسری طرف اس کو گنگا ،جمنی تہذیب کے خلاف اورمذہبی آزادی اورآئینی حقوق کے خلاف ضروری سمجھاجارہا ہے۔