تبدیلی مذہب قانون:جمعیۃ علماء بھی فریق بنے گی

ممبئی:سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج یہاں لوجہاد قانون کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے، حالانکہ عدالت نے ا س پر اسٹے دینے سے انکار کردیا۔چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ نے اتر پردیش اور اتراکھنڈ ریاستوں کیجانب سے پاس کیئے گئے قوانین اور آرڈیننس کے خلاف داخل عرضداشت کو سماعت کے لیے قبول تو کرلیا لیکن اسٹے دینے سے انکار کردیا۔سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس نامی آرگنائزیشن و دیگر کی جانب سے داخل کردہ اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے عرضداشتوں کو سماعت کے لیے منطور کرلیا۔اسی درمیان جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں مداخلت کار کی درخواست داخل کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی عدالت سے اجازت طلب کی ہے۔ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی جانب سے پٹیشن داخل کیا ہے جس میں لکھا ہیکہ ’’غیر قانونی تبدیلی مذہب مانع آرڈیننس 2020 کو اتر پردیش حکومت نے منظور ی دے دی ہے جبکہ اتر کھنڈ حکومت نے فریڈم آف ریلجن نامی قانون کو منظوری دی ہے ان قوانین کو بنانے کا مقصد ہندو اور مسلمان کے درمیان ہونے والی شادیوں کو روکنا ہے جو آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ۔عرضداشت میں مزید لکھا گیاہے کہ ان قوانین کی وجہ سے مذہبی اور ذاتی آزادی پر روک لگانے کی کوشش کی گئی ہے جو غیر آئینی ہے لہذا عدالت کو مداخلت کرکے ریاستوں کو ایسے قوانین بنانے سے روکنا چاہئے نیز جن ریاستوں نے ایسے قوانین بنائے ہیں انہیں ختم کردیناچاہیے۔عرضداشت میں لکھا گیا ہیکہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے خودا علان کیا ہے کہ وہ لو جہاد کو روکنے کے لیے غیر قانونی تبدیلی مذہب مانع آرڈیننس 2020 بنایا گیاہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے لو جہاد پر قانون بنانے والی ریاستوں اور مرکز کو جاری کی گئی نوٹس کا جواب ملنے کے بعد سپریم کورٹ میں اس مقدمہ کی سماعت عمل میں آئے گی جس کے دوران جمعیۃ علماء کی مداخلت کار کی درخواست پر فیصلہ ہوگا۔