تعصب کی کہانی کامرکزی کردار میڈیا۔عارفہ مسعود عنبر

اربابِ اقتدار کی خوشنودی کے لیے معاشرے کی تشکیل کے چوتھے ستون صحافت کے کارکن اپنے معیار سے اس قدر گر جائیں گے یہ سوچ کر عقل حیران ہے ،قدم قدم پر مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی کوشش انہیں نیچا دکھانے کی سازش ،معاشرے میں ہندو مسلم کا ذہر گھولتے گھولتے مسلمانوں کی مساجد کو ٹارگیٹ کرتے کرتے گودی میڈیا اس حد تک گر گئی کہ اب صوفی سنتوں کی خانقاہوں تک پہنچ گئی ،ہمارے ملک ہندوستان میں صوفی سنتوں کی خانقاہیں قومی یک جہتی اور گنگا جمنی تہذیب کا وہ سنگم ہیں، جسکی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی ،ان خانقاہوں میں ہندو مسلم سکھ عیسائی جین پارسی میں کوئی فرق نہیں۔ جہاں ہمیشہ مذاہب سے اوپر اٹھکر انسانیت کا درس دیا جاتا رہا ہے، آزاد ہندوستان میں وزیراعظم سے لیکر غریب فقیر تک ان کی تعظیم میں سر جھکاتے رہے ہیں ،تاجدارِ ہند جنہوں نے زمین پر رہ کر لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دلوں پر بادشاہت کی ہے، افسوس امیش دیوگن نے ایسی عظیم الشان ہستی کی شان میں گستاخی کی جرأت کی ہے ،صاحبِ اقتدار کو خوش کرنے اور طبقۂ خاص میں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے چند ٹی وی اینکر اس حد تک گر جائیں گے سوچا نہ تھا۔ امیش دیوگن کی غریب نواز عالمی شہرت یافتہ صوفی خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں گستاخی سے دنیا بھر کے عقیدت مندوں میں غم اور غصہ کی لہر ہے ۔ یہ ہندوستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہندوستان کہ سرزمین پر خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا قیام ہوا ،جنہوں نے بہت کم وقت میں اپنے علم اور عمل کے ذریعے عوام کے دل پر ایسا اثر ڈالا کہ لوگ ان کے گرویدہ ہوتے گئے اور آہستہ آہستہ غیر مسلم طبقہ آپ کی پناہ میں آکر اسلام قبول کرنے لگا۔ سیکڑوں ہزاروں نہیں؛ بلکہ لاکھوں لوگ آپ کے ہاتھ پر دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے،حضرت کی پیدائش ملک سجستان میں 537ہجری میں ہوئی تھی حضرت خواجہ کے بزرگوں کا وطن ہرات کے قریبی شہر چشت میں تھا ،اس لیے آپ چشتی کہلانے لگے۔ آپ کے والد کا نام حضرت خواجہ غیاث الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ تھا آپ امام حسین ؓ کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اور تربیت والد کی نگرانی میں ہی ہوئی، لیکن معین الدین کی عمر ابھی 11سال ہی تھی کہ آپ کے والد عراق میں وفات پا گئے۔حضرت کو باپ کی میراث میں ایک باغ ملا ،آپ اس باغ کی پیداوار اور آمدنی سے ضرورتیں پوری فرمایا کرتے تھے ۔ایک روز آپ کے پاس ابراہیم مجذوب نامی قلندر تشریف لائے ،معین تعظیم سے اٹھ کھڑے ہوے، مجذوب کو یہ ادا پسند آئی، انہوں نےان کے لیے دعا کی ،آپ کو اسی وقت محسوس ہو گیا کہ جیسے آپ کا دل نور سے منور ہوگیاہے، سارا سامان بیچ کر رشتے دار اور غریبوں میں تقسیم کیا اور وطن چھوڑنے کو اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ وطن چھوڑ کر سب سے پہلے سمرقند پہنچے ،وہاں قرآن مجید حفظ کیا اور دوسرے علم حاصل کرتے ہوئے، حضرت خواجہ عثمان ہارونی کے مریدوں میں شامل ہوگئے ،وہاں آپ نے درویشوں کی ایسی جماعت دیکھی جو خدا کے عشق میں مست تھی ۔بس آپ جماعت میں شامل ہو کر عشقِ خدا سے سرشار ہو گئے۔ اس کے بعد خواجہ عثمان ہارونی کے ساتھ مکہ منورہ کا سفر کیا اور پھر وہاں سے اپنے ملک تشریف لے گئے ۔عراق ،بلخ ،غزنی،ہوتے ہوے سرزمین ہندوستان کی خوش قسمتی کہ آپ کے قدم مبارک نے دہلی کی سرزمین کو اپنے نور سے منور کر دیا ۔حضرت کی زندگی نہایت سادہ تھی،آپ بہت کم کھانا کھاتے تھے ، اکثر تین دن بعد روٹی کے ٹکڑے پانی میں تر کرکے کھا لیتے تھے اور ان ٹکڑوں کی بھی مقدار مشکل سے ڈیڑھ تولہ ہوتی تھی۔ خواجہ قطب الدین بختیار رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں”میں بیس برس حضرت کی خدمت میں رہا لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سنا کہ حضرت نے اپنی صحت کے لیے دعا مانگی ہو بلکہ ہمیشہ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اللہ جہاں کہیں درد اور محنت ہو وہ اپنے بندے معین الدین کو عنایت فرما "۔ حضرت بہت بڑے عبادت گزار درویش تھے ۔رات بھر جاگ کر عبادت کرتے تھے ۔آپ نے پیدل ہی کئی بار حج کیے قابلِ غور ہے کہ کیا یہ کسی عام انسان کے لئے ممکن ہے کہ آپ ستر سال تک نہیں سوئے اور اپنی کمر کو زمین سے نہیں لگنے دیا آپ نے فرمایا چار چیزیں بہت عمدہ ہوتی ہیں ،وہ درویش جو اپنے آپ کو دولت مند ظاہر کرے ،وہ بھوکا جو اپنے آپ کو پیٹ بھرا ہوا ظاہر کرے ،وہ دکھی جو اپنے آپ کو خوش ظاہر کرے، وہ آدمی جسے دشمن بھی دوست دکھائی دے۔حضرت خواجہ کی تعلیمات کا فیضان آج تک جاری و ساری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی درس گاہ پر زیارت کے لئے ہر مذہب کے لوگوں کا ہجوم رہتا ہے، مگر افسوس ملک کو نفرت کی آگ میں جھونکنے کے لیے کوشاں امیش دیوگن جیسے لوگوں نے اس عظیم الشان ہستی کو بھی نہیں بخشا اور ہزاروں لاکھوں نہ صرف مسلموں کی بلکہ عقیدت مند غیر مسلوں کی بھی دل آزاری کی، میں امیش دیوگن کے اس متنازع بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی ہوں ،جنہوں ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی ،ان جیسے لوگوں سے ملک کی سالمیت اور بہبودی کو خطرہ ہے ۔ایسے لوگ آہستہ آہستہ ملک کی بنیادوں کو فرقہ پرستی کے تیزاب سے کھوکھلا کر رہے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ عقیدت مند صبر سے کام لیتے ہوئے قانون کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*