طالبان کے بہانے ہندوستانی مسلمانوں پر نشانہ کیوں؟- شکیل رشد

طالبان ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اتنے اہم نہیں ہیں جتنا کہ اس ملک کے ہندؤں کو باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس کوشش میں سب سے آگے ’گودی میڈیا‘ ہے ، ’ وہاٹس ایپ یونیورسٹی ‘ ہے اور وہ اندھ بھکت ہیں جنہیں کچھ لوگ ہندوستان کے طالبانی کہتے ہیں ، مگر ہم انہیں طالبانی نہ کہہ کر ’ ہندوتوا کے کٹر وادی‘ کہیں گے ۔ طالبان کو اسلام کا چہرہ بتانے کے پسِ پشت کیا مقصد ہے ، اس سوال کا جواب کوئی مشکل نہیں ہے ۔ اس کا سب سے بڑا مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے ، اور جب اسلام بدنام ہوگا تو مسلمان بدنام ہوں گے ہی۔ اور اِن دنوں اس ملک کی مرکزی اور اکثر ریاستی سرکارو ںکی ’ سیاسی نیّا‘ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے سے جو نفرت کا دریا بہتا ہے ، اسی پر چل رہی ہے ۔ طالبان پر کیا الزامات ہیں ؟ یہی کہ اس نے شریعت کو لاگو کرنے کے لیے زبردستی کی، عورتوں کو تعلیم سے دور کیا اور ان پر ملازمت کے دروازے بند کیے، میوزک پر پابندی لگائی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ کیا اس ملک میں بھی یہی نہیں ہورہا ہے ، کیا ’پدماؤت‘ فلم نہیں تھی ، کیا اس فلم کو، اور اس فلم کی ہی طرح بہت ساری فلموں کو اس لیے نشانہ نہیں بنایا گیا کہ وہ ’ ہندوتوا‘ کے نظریے پر درست نہیں بیٹھتی تھیں؟ اس ملک میں کیا اقلیت پر ملازمت کے دروازے نہیں بند کیے گیے؟ کیا اس ملک میں خواتین کو بری طرح سے اس لیے نہیں مارا پیٹا گیا کہ وہ اپنے مذہب کے کسی لڑکے یا کسی عورت سے نہیں دوسرے مذہب والوں سے باتیں کررہی یا ان کے ساتھ کہیں گھوم رہی تھیں؟ کیا اس ملک میں لوگ جموں کے ایک مندر کا واقعہ بھلادیں گے جہاں آصفہ کا ریپ کیا گیا اور پھر اسے قتل کیا گیا تھا؟ دلت عورتوںکو ننگا گھمانے ، ان کی عصمت کو تارتار کرنےاور پھر انہیں قتل کرنے کے واقعے تو اس ملک میں روز کا معمول ہیں ۔ کیا کوئی مظفر نگر اور دہلی کی ان دلت بچیوں کو بھول سکتا ہے جن کی آتمائیںآج بھی انصاف کے لیے بھٹک رہی ہیں ؟ مسلم خواتین کو ، جنہیں اس وقت، جب گجرات میں مودی راج تھا، جس طرح کے ظلم وستم سے گزرنا پڑا ، جس طرح حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ زنابالجبر کیا گیا ، کیاکوئی بھول سکتا ہے ؟ بیسٹ بیکری کق جلانے اور اندر کے لوگوں کو،اوراحمدآباد میں احسان جعفری کو زندہ جلاکر ماردیئے جانے کے ظالمانہ عمل کو کیا بھلایا جاسکتا ہے ؟ دہلی کے فسادات کہیں بھلائے جاسکتے ہیں؟ یہ تو دھرم کے نام پر ،ذات پات کی بنیاد پر کیے گیے مظالم ہیں ، ایسے مظالم جن کی تعلیم ’ہندوتوادی‘ نظریات رکھنے والےاندھ بھکت دیتے ہیں، ان کے گرنتھ دیتے ہیں۔ طالبان کو جویہ ’ گودی میڈیا‘ یہ ’وہاٹس ایپ یونیورسٹی‘ یہ ’اندھ بھکت‘ گالیاں دے رہے ہیں ، کس منھ سے؟ ان کے اپنے کرتوت تو بے انتہا سیاہ ہیں۔خیر یہ ان کی اپنی اخلاقیات ہیں ،یہ گالیاں دیتے ہیں دیں مگر اس میں اپنے گندے سیاسی مفادات کے لیے مسلمانوں کا نام شامل نہ کریں ۔