طالبان کی فتح پر خوش ہونے کا مطلب ـ آصف انظار عبدالرزاق صدیقی

ہماری تعلیم گاؤں کے بالکل ابتدائی مکتب سے اس طور پر ہوئی ہے کہ ہمیں یہ باور کرایا گیا کہ مسلمان ایک امت ہے،ایک ملت ہے، ایک قوم ،ایک جسم ہے وغیرہ وغیرہ۔
جس کا نتیجہ ہے کہ بوسینا میں کچھ ہوجائے تو تکلیف ہوتی ہے اراکان کے روہنگیا کی خبر آئے تو دکھ ہوتا ہے۔پھر ساتھ ہی ساتھ بچپن سے یہ بھی پڑھایا سمجھا یا گیا کہ نظام تو اسلام کا نظام ہے، بات تو اسلام کی بات ہے۔قانون تو اسلام کا قانون ہے، عدل تو اسلام کا ہے اور ایک جملے میں بات ختم کہ دین تو اسلام ہے۔
پھر ہمیں پڑھایا سکھایا گیا کہ گزشتہ قریب ڈھائی سو سالوں میں مسلمانوں کی حالت زار نزار ہے
مسلمانوں کی اس خوار وخستہ حالت کو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ اسلام بھی مسلمانوں کی طرح کمزور ہوگیا ہے۔خود مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا پیدا ہوا یا کیا گیا جس کو اسلام کے مقابلے میں مغرب کی چکاچوند پر زیادہ بھروسہ تھا۔مغرب گزشتہ تین سو سالوں میں ارتقاء کی بہت سی منزلیں چڑھ گیا۔ایسے میں کمزور طبیعتیں ادھر مائل ہوئیں۔پھر ذرائع ابلاغ کے ماہرانہ استعمال نے ان کو عوامی فکر پر اقتدار فراہم کردیا۔اب انھوں نے اپنے فلسفے کے مطابق جدید ترین دنیا تشکیل دی۔اسلام کی حقانیت کا دم بھرنے والے دھیرے دھیرے کاروبار جہاں تیاگ کر بالو کے بھیت پر بسی دنیا میں جاکر بسرام کرنے لگے۔
مسلمانوں کا حکمران طبقہ اسلام سے منحرف ہوگیا۔ اب ایسے میں اطلاع آتی ہے کہ اردوغان کا ذہن اسلامی ہے ہم خوش ہونے لگتے ہیں کہ ہم اسلام اور عالمی اخوت اسلامی کا تصور لئے بڑے ہوئے ہیں۔۔خبر آتی ہے کہ مرسی مصر میں حکومت کانظامِ برہم سنوارنے آئے ہیں ہم پھر خوش ہوتے ہیں۔
اطلاع ملتی ہے کہ آل سعود کی مدد سے سیسی نے مرسی کا تختہ پلٹ دیا مرسی جیل میں ہے۔ہم آل سعود اور سیسی سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور مرسی کے جیل جانے اور شہید ہونے پر دھکی ہوتے ہیں۔ راز کی بات یہ ہے کہ چپکے چپکے روتے بھی ہیں۔۔۔
مسلمانوں کے عمومی طبقے کا یہی حال ہے کہ انھیں اسلام اور مسلمانوں سے سرحدی حدبندی کو عبور کرتی ہوئی محبت ہے۔
دو صدیوں کی مسلسل ناکامیوں کے بعد اگر افغان جیالوں نے روس کی بخیہ ادھیڑی تو مسلمانوں کو خوشی ہوئی اب جب کہ بالکل ہمارے ہوش و حواس کے زمانے میں طالبان نے انکل سام کی مونچھیں نوچ لی ہیں تو ہمارا خوش ہونا فطری ہے۔کیونکہ ہر جگہ سے ہمیں صرف یہ اطلاع ملتی تھی کہ فلاں جگہ یہ ہوا فلاں جگہ وہ ہوا۔ہم‌نے عراق کا حشر ادھ کچرے شعور کی حالت میں دیکھا اب پورے شعور سے عراق کی بد نظمی کمزوری اور غربت کو محسوس کرتے ہیں۔پھر طالبان سے قدرے توقع ہمیں اسلام کے نظام سیاسی و معاشی کی بھی ہے تو ایسے میں ہمارا خوش ہونا لازمی ہے۔
ہوسکتا ہے امریکہ سے جنگ آپ کو ان کا علاقائی مسئلہ لگے۔مگر امریکہ کا واشنگٹن اور نیویارک سے چل کر افغانستان پر حملہ کرنا اور غریب ترین ملک کو بیس سالوں تک جنگ میں جھونکے رکھنا علاقائی نہیں عالمی مسئلہ ہے۔پوری دنیا کی مجرمانہ خاموشی بھی عالمی مسئلہ ہے۔اور ہم تو ہیں ہی عالمی امت تو ہمارا خوش ہونا عالمی اخوت کی نمائندگی ہے۔
اور مایوس لوگوں کے لیے ایک موٹیویشن ہے کہ قیادت اگر درست فیصلے کرے ، جان ہتھیلی پر رکھے تو کیا نہیں ہوسکتا۔
تو ہم اس لیے خوش ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ہم اس لیے اور زیادہ خوش ہیں کہ کتابوں میں دبے اسلام کو شاید وہاں زندہ ہوکر چلنے پھرنے کا موقع ملے۔
ہم امیدوں اور توقعات پر خوش ہیں اور مسلمانوں کی سربلندی کی جہاں سے بھی خبر آئے گی ہم خوش ہوں گے چاہے خبر کتنی ہی چھوٹی ہو
اور تکلیف کی خبر آئے گی تو دکھی ہوں کے چاہے خبر بالکل معمولی ہی کیوں نہ ہو۔

مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مکاں ہر کہیں ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*