Home قومی خبریں یوپی میں 5200 مدارس کا سروے مکمل، سب سے زیادہ غیر تسلیم شدہ مدارس مرادآبادضلع میں

یوپی میں 5200 مدارس کا سروے مکمل، سب سے زیادہ غیر تسلیم شدہ مدارس مرادآبادضلع میں

by قندیل

لکھنؤ: یوپی میں غیر قانونی مدارس کا پتہ لگانے میں لگی ٹیم نے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار مدارس کا سروے مکمل کیا ہے، جن میں سب سے زیادہ غیر تسلیم شدہ مدارس مراد آباد میں پائے گئے ہیں۔ اس کے بعد بجنور کا نمبر ہے اور پھر گورکھپور، غازی آباد اور ایودھیا میں بھی ایسے مدرسے ملے ہیں ،جو مبینہ طور پر بغیر پہچان کے چلائے جا رہے ہیں۔سروے میں پتہ چلا کہ مرادآباد میں سب سے زیادہ 585 غیر تسلیم شدہ مدارس ہیں۔ بجنور دوسرے نمبر پر ہے جہاں 450 غیر قانونی مدارس قائم ہیں ۔تیسرے نمبر پر بستی کا نام ہے جہاں 401 مدارس چل رہے ہیں۔ ان کے علاوہ گونڈا، دیوریا، سہارنپور، شاملی، سنت کبیر نگر، مظفر نگر، سدھارتھ نگر، غازی آباد، گورکھپور اور ایودھیا ایسے اضلاع ہیں جہاں غیرتسلیم شدہ مدارس کا پتہ چلا ہے۔ سروے کے مطابق گونڈہ میں 281 غیر تسلیم شدہ مدارس ہیں، دیوریا میں 270، سہارنپور میں 258، شاملی میں 244، سنت کبیر نگر میں 240، مظفر نگر میں 222، سدھارتھ نگر میں 185، غازی آباد میں 139 اور گوڑہ میں اے 25 اور گوڑہ میں 139 ہیں۔ اتر پردیش میں غیر تسلیم شدہ مدارس کے سروے کا کام 10 ستمبر کو شروع ہوا تھا۔ اس سے قبل سروے 5 اکتوبر کو روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آخری تاریخ 20 اکتوبر تک بڑھا دی گئی۔ اب ٹیم سروے کا کام 20 اکتوبر تک مکمل کر کے 31 اکتوبر تک اضلاع کے ڈی ایم کو رپورٹ پیش کرے گی۔اس کے بعد تمام ڈی ایم کو یہ رپورٹ 15 نومبر تک حکومت کو سونپنی ہوگی۔ یادر ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم سمیت مختلف سیاسی پارٹیاں مدارس کے سروے کو لے کر بی جے پی پر حملہ آور ہیں۔ وہ الزام لگا رہے ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سروے پر سوال اٹھاتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ہندو ؤں کے ’مٹھوں‘ اور’ گروکلوں‘ کے سروے کا بھی مطالبہ کیا تھا ۔

You may also like

Leave a Comment