سپریم کورٹ نے واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے خلاف درخواست پر غور کرنے سے انکار کیا

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اس درخواست پر غور کرنے سے انکار کردیاجس میں درخواست کی گئی تھی کہ وہ واٹس ایپ کو اپنی نجی رازداری کی پالیسی کو واپس لینے کی ہدایت کرے۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ یہ پالیسی مبینہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے اور اس سے ملک کی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی سربراہی میں بنچ نے کہاہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کی ہے اوردرخواست گزار مناسب حل طلب کرسکتا ہے۔ بینچ کے پاس جسٹس اے ایس بوپنہ اور وی رامسوبرینیمین بھی تھے۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیاٹریڈرزکے ذریعہ دائر درخواست میں مرکزسے اس معاملے میں مداخلت کرنے اور واٹس ایپ ، فیس بک جیسی بڑی ٹکنالوجی پر مبنی کمپنیوں کے لیے رہنماخطوط طے کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ وکیل وویک نارائن شرما کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکز کی جانب سے آئینی فرائض سرانجام دینے اور ہندوستانی شہریوں کی رازداری اور اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ میں مبینہ طور پر ناکامی کی وجہ سے، پی آئی ایل درج کرنا ضروری تھا۔درخواست میں دعویٰ کیاگیا ہے ۔مدعا علیہ نمبر ایک۔ مرکزی حکومت نے مدعا علیہ ان کو دو سے چار نمبر پر ہندوستان میں واٹس ایپ چلانے کی اجازت دی ہے ، لیکن وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے محافظ کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔واٹس ایپ ، جو شہریوں کوبات چیت کی خدمت فراہم کرتا ہے ، نے حال ہی میں غیر آئینی شرائط عائد کردی ہیں جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ملک کی سلامتی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ 4 جنوری 2021 کو واٹس ایپ نے اپنی نئی متعارف کردہ پالیسی کو متعارف کرایا اور اسے لازمی قرار دے دیا۔