سپریم کورٹ نے مرکز اور راکیش استھانہ کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکز اور راکیش استھانہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اس کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ درخواست کی سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ دہلی پولیس کمشنر کے طور پر راکیش استھانہ کی تقرری کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے عرضی گزار پرشانت بھوشن سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عرضی داخل کرنے کو کہا تھا۔ 12 اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ نے راکیش استھانہ کی دہلی پولیس کمشنر کے طور پر تقرری کو کلین چٹ دے دی تھی۔ تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کو ڈویڑن بنچ نے خارج کر دیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے سے مرکزی حکومت اور کمشنر راکیش استھانہ کو راحت ملی تھی۔ راکیش استھانہ دہلی پولیس کمشنر کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے جو راکیش استھانہ کی طرف سے پیش ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ PIL حقیقی PIL نہیں ہے۔ عرضی گزار ایک پراکسی ہے اور اس پی آئی ایل کے پیچھے کوئی اور ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر پی آئی ایل داخل کرنے کے لیے رہنما اصول وضع کیے ہیں اور معاملے میں ان شرائط کو پورا کیا گیا ہے۔