سپریم کورٹ نے بقر عید پرلاک ڈاؤن میں نرمی پرکیرل حکومت سے جواب طلب کیا   

 

نئی دہلی: کیرالہ میںبقر عید کے حوالے سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے فیصلے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ بقر عید تہوار کے پیش نظر کیرالا حکومت نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیرالہ حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ سماعت کانوڑکیس کے دوران ہوگی۔ پی کے ڈی نانبیارکی پی آئی ایل میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی صحت اہم ہے۔18، 19 اور 20 جولائی کو کیرالہ میں لاک ڈاؤن کے قواعد میںتین دن تک نرمی کرنا ایک سیاسی اور فرقہ وارانہ خیال ہے۔ پی آئی ایل میں کہا گیا ہے کہ یوپی کانوڑیاترا پر سپریم کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس کی وجہ سے اب کانوڑیاترا منسوخ کردی گئی ہے۔ لیکن کیرل میں کورونا کیسوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لہٰذا تین دن کی رعایت دینے کے حکم کو ختم کرناچاہئے۔اترپردیش میں کانوڑیاترا کیس میں پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت اس وقت شروع ہوئی، جب یوپی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس سال کی کانوڑیاترا ملتوی کردی گئی ہے۔ گزشتہ سال بھی کوئی کانوڑیاترا نہیں ہوئی تھی۔ اگر کوئی عقیدت مند کسی مقامی مندر میں تقدس کے لئے جاتا ہے، تو اس کورونا پروٹوکول کی پیروی کرنی ہوگی۔ دہلی اور اتراکھنڈ نے پہلے ہی اس پر پابندی عائد کردی ہے۔ اسی دوران کیرالہ میں بقرہ عید کے موقع پر لاک ڈاؤن میں نرمی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران وکاس سنگھ نے درخواست گزار کی جانب سے دلیل دی۔انہوں نے کہاکہ اس وقت کیرالہ میں مثبت شرح 10.6 فیصد ہے، جو کہ سب سے زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ یوپی اور دہلی سے بھی زیادہ جہاں کانوڑیاترا منسوخ کردی گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں کیرالہ کے حکم پر بھی پابندی لگانی چاہئے۔ کیرالہ حکومت نے بتایا تھا کہ ہم نے صرف چند دکانیں کھول رکھی ہیں۔ ہم مرکز کے کورونا پروٹوکول کی مکمل پیروی کر رہے ہیں۔