سپریم کورٹ میں چارججوں کی پوسٹ خالی، باقاعدہ چیف جسٹس کے بغیر کام کر ر ہے ہیں تین ہائی کورٹس

نئی دہلی:سپریم کورٹ میں ججوں کی چار آسامیاں خالی ہیں، جبکہ تین ہائی کورٹس باقاعدہ چیف جسٹس کے بغیر کام کررہے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزارت قانون کو ان خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے ابھی تک سپریم کورٹ کالجیم کی سفارشات موصول نہیں ہوسکی ہیں۔ عدالت عظمیٰ میں موجودہ چار خالی آسامیوں میں پہلی نومبر 2019 میں جسٹس رنجن گوگوئی چیف جسٹس (سی جے آئی) کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اس کے بعد جسٹس دیپک گپتا، جسٹس آر بھنومتی اور جسٹس ارون مشرا کے ریٹائرمنٹ کے بعدسپریم کورٹ میں مزید تین ججوں کے عہدے خالی ہوگئے۔ سپریم کورٹ فی الحال 30 ججوں کے ساتھ کام کر رہا ہے جبکہ منظور شدہ عہدے 34 ہیں۔وہیں گوہاٹی، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ کے ہائی کورٹ قائم مقام چیف جسٹس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری چیف جسٹس کی غیر موجودگی میں کی جاتی ہے، تاکہ عدالت کی روزمرہ کی کارروائی متاثر نہ ہو۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سرکار اور تین اعلی عدالتوں میں ان خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے حکومت کو ابھی تک کالجیم کی طرف سے کوئی سفارش نہیں ملی ہے۔ حکومت نے مانا ہے کہ اعلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری ایگزیکٹو اور عدلیہ کے مابین باہمی تعاون سے متعلق عمل ہے کیونکہ اس کے لئے متعدد آئینی حکام سے مشاورت اور منظوری درکار ہے۔ سپریم کورٹ اور 25 ہائی کورٹس کے لئے ججوں کی تقرری کے عمل کے مطابق، عدالت عظمی نے کالجیم کے امیدواروں کے نام حکومت کو پیش کرنے کی سفارش کی ہے، جس کے بعد حکومت اس تجویز کو قبول کرسکتی ہے یا اس پر غور و خوض کے لئے اسے واپس کر سکتی ہے۔ کالجیم چیف جسٹس اور عدالت عظمی کے چار سینئر ججوں پر مشتمل ہے۔ ملک کی 25 عدالت عالیہ میں ججوں کے کل منظور شدہ عہدے 1079 ہیں۔ یکم اکتوبر تک 404 آسامیاں خالی تھیں، جن میں سب سے زیادہ 60 آسامیاں الہ آباد ہائی کورٹ میں ہیں۔