سپریم کورٹ کی ہدایت پر جمعیت نے براڈ کاسٹ ایسو سی ایشن کو بھی فریق بنایا، معاملے کی جلد سماعت کے لیے کوشش جاری

ممبئی:مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار،ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃعلماء ہند کی عرضی پر گزشتہ 27 مئی کو ہوئی سماعت کے دوران عدالت نے براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو بھی فریق بنانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد آج براڈ کاسٹ ایسو سی ایشن کو ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے باقاعدہ فریق بنا دیا، انہوں نے گزشتہ کل سپریم کورٹ میں اس تعلق سے ایک عرضداشت بھی داخل کی تھی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔اس سے قبل جمعتہ علماء ہند نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر پریس کونسل آف انڈیا کو بھی فریق بنایا تھا۔ اس معاملہ میں مدعی بنے جمعتہ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ کے 27 مئی کو چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپننا اور جسٹس رشی کیش رائے پر مشتمل تین رکنی بینچ کے سامنے معاملے کی سماعت ہوئی تھی جس کے دوران جمعتہ علماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ دوشینت دوے (صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن) نے بحث کی تھی جس کے بعدعدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو پارٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔اس ضمن میں گلزار اعظمی نے کہا کہ اب جبکہ براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو پارٹی بنا دیا گیا ہے، ہم کوشش کررہے ہیں کہ جلد از جلد اس معاملہ کی سماعت ہوسکے۔ معزز سپریم کورٹ نے 27 مئی 2020 کو درخواست گزاروں کو پارٹی براڈ کاسٹ میں شامل جواب دہندہ کے طور پر نیوز براڈکاسٹرس ایسوسی ایشن (این بی اے) کو نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جواب دہندگان کو شامل کرنے کے لئے درخواست 31 مئی 2020 کو دائر کی گئی تھی۔ کاپی منسلک ہے۔ واضح رہے اس سے قبل کی سماعت پر مسٹر کے ایم ناتاراج ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل نے یونین آف انڈیاکی نمائندگی کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کرنے کے لئے دو ہفتوں کا وقت مانگا۔ حلف نامے میں انہیں یہ دکھانا ہے کہ کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن) ایکٹ 1995 کے سیکشن 19 اور 20 کے تحت ان کے ذریعہ فیک نیوز چینلز کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے..۔