سپریم کورٹ کی ای۔ کمیٹی نے 14 زبانوں میں ’’ای۔ کورٹس سروسز موبائل ایپ‘‘ کا مینول جاری کیا

نئی دہلی:سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای۔ کمیٹی نے اپنے ٹاپ شہریوں پرمرکوز خدمات کے مفت ’’ای۔ کورٹس سروسز موبائل ایپ‘‘ کے لیے 14 زبانوں (انگریزی، ہندی، آسامی، بنگالی، گجراتی، کنڑ، کھاسی، ملیالم، مراٹھی، نیپالی، اڑیہ، پنجابی، تمل ، تیلگو)میں مینول جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای۔ کمیٹی مقدمہ کنندگان ، شہریوں، وکیلوں، لا فرموں، پولیس، سرکاری ایجنسیوں اور دیگر ادارہ جاتی مقدمات کنندگان کے فائدے کے لیے’’ای۔ کورٹس سروسز موبائل ایپ‘‘ پہلے ہی جاری کرچکی ہے اور اب تک اسے 57 لاکھ سے زیادہ لوگ ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں۔موبائل ایپ انگریزی و علاقائی زبانوں میں، اس کے مینول کو سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای۔ کمیٹی کی سرکاری ویب سائٹ (https://ecommitteesci.gov.in/service/ecourts-services-mobile-application/) سے مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج اور ای، کمیٹی کے چیئر پرسن ڈاکٹر جسٹس دھننجے وائی چندر چوڑ نے مینول کے پیش لفظ میں اس مفت موبائل ایپ کی اہمیت پر زور دیا ہے اور شہریوں پر مرکوز اس موبائل ایپ کی رسائی پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا ’’سپریم کورٹ کی ای۔ کمیٹی قانون کے میدان میں ڈیجیٹل اصلاحات کو شروع کرنے کے معاملے میں پیش پیش رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں عالمی وبا نے بھی وکیلوں، ججوں اور مقدمہ کنندگان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن اور عوامی صحت کے معاملات کے پیش نظر دفتروں اور عدالتوں کے بند ہونے کے باعث ہائی ٹیک سولیوشن اختیار کریں۔ دور رہ کر کام کرنے، ورچوول عدالتوں، ڈیجیٹل ورک پلیس اور الیکٹرانک معاملات کے بندوبست کو یکجا کرکے پتہ چلا ہے کہ قانونی پروفیشن کس طرح چلتا ہے۔اس سے ٹکنالوجی کو نہ صرف ایک عبوری اقدام کے طور پر بلکہ ہمارے نظام قانون کو زیادہ کارگر، شمولیت والا، قابل رسائی اور ماحولیات کیاعتبار سے پائیدار بنانے کے لئے ، اس کی کایا پلٹ کی گئی ہے۔ ای۔ کورٹس سروسز موبائل ایپلی کیشن اس سمت میں ایک قدم ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے وکلا اور مقدمہ کنندگان اس موبائل ایپلی کیشن کے ذریعہ پیش کی گئیں خدمات کو پہلے ہی حاصل کرچکے ہیں اور اب تک 57 لاکھ سے زیادہ لوگ اسے ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں۔یہ ایپلی کیشن مسلسل ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں ہمارے نظام قانون کو زیادہ سے زیادہ لانے کے لیے راہ ہموار کرے گی۔انصاف کے محکمے کے سکریٹری برون مترا نے بھی مینول میں اپنے پیش لفظ میں وکلا کے لیے اس الیکٹرانک کیس منیجمنٹ ٹولس کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا ’’عالمی سطح پر چونکہ قانونی دنیا آہستہ آہستہ ڈیجیٹل ہورہی ہے، اس لئے بھارت میں عدالتی کام کاج کو آئی سی ٹی کے قابل بنانے کے عمل کے سلسلے میں اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس کثیر جہتی پہل کے ایک ضروری حصے کے طور پر ای۔ کورٹس سروسز موبائل ایپ کی ایک موثر الیکٹرانک کیس منیجمنٹ ٹول (ای سی ایم ٹی) کے طور پر وسیع پیمانے پر ستائش کی جارہی ہے۔ وکیلوں کے ذریعہ بڑی تعداد میں ڈاؤن لوڈ کئے جانے سے اس کی مقبولیت کا پتہ چلتا ہے۔ پہلے ہی اسے ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی تعداد 57 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے‘‘۔