سپریم کورٹ کا شرجیل امام کی درخواست پر 4 ریاستوں کو نوٹس

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے نظر ثانی شہریت قانون کے خلاف مہم چلانے والے جے این یو کے مایہ ناز طالب علم شرجیل امام کی درخواست پر منگل کو چار ریاستوں اتر پردیش، آسام، اروناچل پردیش اور منی پور حکومت کو نوٹس جاری کیا۔اس درخواست میں شرجیل نے درخواست کی ہے کہ مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں اس کے خلاف ان ریاستوں میں غداری کے مقدمات کو ایک ساتھ کر دیا جائے۔عدالت عظمی نے امام کی درخواست پر جواب داخل کرنے کا دہلی حکومت کو ایک اور موقع فراہم کیا۔اس درخواست میں اس کے خلاف درج سارے مجرمانہ معاملے دہلی کی عدالت میں منتقل کرنے اور اس کی جانچ ایک ہی ایجنسی سے کرانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے دوران ان ریاستوں کو نوٹس جاری کئے۔بنچ نے اس معاملے کو دو ہفتوں بعد درج کرنے کا حکم دیا ہے۔اس درخواست پر سماعت کے دوران دہلی حکومت کی جانب سے سالسیٹر جنرل تشار مہتہ نے بنچ سے کہا کہ اس کے پاس جواب داخل کرنے کے لیے وقت چاہیے۔امام کی درخواست پر عدالت نے یکم مئی کو دہلی حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔مہتا نے کہا کہ دہلی حکومت کی طرف سے اکیلے جواب داخل کرنا کافی نہیں ہوگا اور اس درخواست میں بنائے گئے دیگر مدعا علیہ ریاستوں کو بھی نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت دی جانی چاہئے۔شرجیل امام کی جانب سے سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف دہلی اور علی گڑھ میں کی گئی دو تقریروں کے سلسلے میں مختلف ریاستوں میں پانچ ایف آئی آر درج ہیں۔دوے نے ارنب گوسوامی معاملے میں عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ امام کو بھی اس کے خلاف درج تمام ایف آئی آر خارج کرکے اس معاملے کو دہلی میں منتقل کرکے اسی طرح کی راحت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی، اتر پردیش، آسام، منی پور اور اروناچل پردیش میں امام کے خلاف غداری کے الزام میں معاملے درج ہیں۔دہلی پولیس نے حال ہی میں ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون کے تحت بھی مقدمہ درج کیا ہے۔شرجیل امام کو جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اور علی گڑھ میں مبینہ اشتعال انگیز تقریروں کے سلسلہ میں غداری کے الزام میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 28 جنوری کو بہار کے جہان آباد سے گرفتار کیا تھا۔بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں دو ہفتے بعد آگے سماعت کی جائے گی اور اس دوران پانچ ریاستوں کو اپنے جواب داخل کرنے چاہئے۔