سپریم کورٹ کامختار انصاری کی سیکورٹی سے متعلق درخواست پرسماعت سے انکار

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اترپردیش کے ایم ایل اے مختار انصاری کی سیکورٹی کے لیے دائر درخواست پر سماعت سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے مختار انصاری کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے مختار انصاری کی اہلیہ سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں۔ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو معاملے کی جلد سماعت کی ہدایت بھی کی ہے۔در اصل مختار انصاری کی بیوی نے اپنے شوہرکی زندگی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے جیل کے ساتھ ساتھ پیشی کے لیے باہر لے جاتے وقت بھی سیکورٹی کو یقینی بنائے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی،سماعت کے دوران مختار انصاری کی اہلیہ کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ مختار انصاری کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پنجاب جیل سے اتر پردیش جیل منتقل کیا گیا۔ مختار انصاری کی جان کو خطرہ ہے ، کیونکہ یوپی میں حکمران جماعت کے رہنما بھی مجرموں کو گولی مارنے کی بات کرتے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مؤ سے بی ایس پی کے ایم ایل اے مختار انصاری کو اپریل میں پنجاب سے باندہ جیل لایا گیا تھا۔ تقریبا 16 گھنٹوں میں 9 سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد انہیں یوپی لایا گیا۔ انصاری کو ابتدا ڈسٹرکٹ جیل کی بیرک نمبر 15 میں رکھا گیا تھا۔مختار انصاری کے باندہ جیل پہنچنے سے پہلے جیل کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ یوپی میں اپنی جان کو خطرہ بتاتے ہوئے مختار انصاری نے پنجاب میں ایک معمولی کیس میں خودسپردگی کی تھی اور تب سے وہیں کے جیل میں بند تھے۔ پنجاب حکومت نے بھی ان کے یوپی منتقلی کرنے کی مخالفت کی تھی۔