سپریم کورٹ بنام شاہین باغ ۔ ایم ودود ساجد

مودی حکومت کے وضع کردہ شہریت کے قانون CAA کے خلاف دسمبر 2019 سے مارچ 2020 تک دہلی کے شاہین باغ میں منعقد ہونے والے تاریخی احتجاج کے تعلق سے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ نیا نہیں ہے۔اس سے پہلے 2018 میں مزدور کسان شکتی سنگٹھن بنام حکومت ہند کے مقدمہ میں بھی وہ ایسا ہی ایک فیصلہ سناچکی ہے۔ فرق اتنا ہے کہ 2018 کا فیصلہ ایک خاص واقعہ کو محیط تھا اور اس میں مظاہرین کی تعداد اور دائرہ کو محدود کردیا گیا تھا جبکہ شاہین باغ والے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے فیصلہ کے اثرات اور پولیس کے اختیارات کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔

2018 میں کاشتکاری سے وابستہ مزدوروں کی جماعتوں نے جو دھرنا دیا تھا وہ جنتر منتر پر تھا۔۔ عدالت نے مظاہرین کی تعداد محدود کرنے اور احتجاج کے جمہوری حق کے ساتھ دوسرے شہریوں کے چلنے پھرنے کی آزادی کے حق کا بھی احترام کرنے کی تلقین کی تھی۔جبکہ شاہین باغ کے فیصلہ میں یہ دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔اس میں پولیس اور انتظامیہ کو ایک طرح سے کھلی چھوٹ کا واضح اشارہ دیدیا گیا ہے کہ آئندہ ملک میں جب بھی کوئی ”شاہین باغ“رونما ہو تو عدالت میں آنے کی بجائے اس سے خود نپٹا جانا چاہئے۔

عدالت نے اپنے فیصلہ میں شاہین باغ کے احتجاج کے Leaderless یا بے قائد ہونے کا بھی بطور خاص ذکر کیا ہے۔اس سلسلہ میں عدالت نے ان مذاکرات کاروں کی دو رپورٹوں سے استفادہ کیا ہے جن کو خود سپریم کورٹ نے ہی مقرر کیا تھا اور جن کو شاہین باغ اس امید میں بھیجا گیا تھا کہ وہ مظاہرین سے بات کرکے انہیں اس پر آمادہ کریں گے کہ وہ آنے جانے کا راستہ کھول دیں یا کسی دوسری جگہ بیٹھ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں۔
مذاکرات کاروں نے اپنی رپورٹ میںAbsence of leadership (قیادت کے فقدان)اور Presence of influencers(اثر ورسوخ والوں کی موجودگی)کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہی دو عناصر کے سبب یہ مظاہرہ محض خواتین کی آواز اور ان کی طاقت کا محور نہیں رہ گیاتھا۔سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے کہا کہ عدالت نے دو سینئر مذاکرات کاروں (سنجے ہیگڑے اور سادھنا راما چندرن) کو اس کوشش کے تحت مقرر کیا تھا کہ خول سے باہر آکر مظاہرین سے بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کا حل نکل آئے۔عدالت نے کہا کہ ہمیں اس بات کا افسوس نہیں ہے کہ مذاکرات کاروں کی کوششیں بار آور نہ ہوسکیں۔اس لئے کہ کوشش کرکے نا کام ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ کوشش بالکل ہی نہ کی جائے۔

عدالت نے پہلی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”۔مطالبات بہت وسیع تھے اور کم سے کم آمد و رفت کا مسدود راستہ کھولے جانے کے لئے کسی درمیانے راستہ تک پہنچنا مشکل نظر آیا۔“ دوسری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ مذاکرات کاروں نے اپنی سی بھر پور کوشش کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔عدالت نے اس رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے مقام پر لوگوں کی تعداد میں بھی آخر کارکمی آگئی تھی۔“

عدالت نے ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نجی گفتگو میں مظاہرین (کی طرف سے مذاکرات کرنے والے) جو کچھ کہتے تھے عوامی بیانات اور احتجاج کو خطاب کرتے وقت وہ اس سے بالکل مختلف بولتے تھے۔ اس کے علاوہ خواتین تو جہاں ٹینٹ کے اندر بیٹھتی تھیں باہر مرد رضا کاروں اور راہ گیروں کی بڑی بھاری تعداد موجود رہتی تھی جسے آمد و رفت کے راستہ کو مسلسل مسدود رکھنے میں دلچسپی تھی۔ایک مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ کورونا کی وبا کے آنے کے بعد 20 مارچ 2020 کو جب مظاہرہ گاہ کا دورہ کیا گیا توٹینٹ کے اندر کوئی 35-40 تخت رکھے تھے جن میں سے ہر تخت پر دو تین خواتین بیٹھی تھیں۔یعنی کل 75-100 خواتین تھیں جبکہ باہر 200 یا اس سے زیادہ تعداد میں مرد موجود تھے جن کا مظاہرہ سے تعلق تھا۔

عدالت نے رپورٹ کے حوالہ سے کہا کہ آنے کا جانے کا ایک طرف کا راستہ ٹینٹ نے مسدود کر رکھا تھا جبکہ دوسری طرف کا آدھا راستہ لائبریری‘انڈیا گیٹ کا بہت بڑا ماڈل اور لوہے کا بنا ہوا ہندوستان کا سہ رخی نقشہ نصب کرکے روک دیا گیا تھا۔لوہے کے اس نقشہ کو بہت مضبوط لوہے کے سہاروں پر رکھا گیا تھا اور لوہے کے ان سہاروں کو بہت بڑے پتھروں سے روک کر رکھا گیا تھا جن کو ہلانا بہت مشکل تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا: ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین کی رہ نمائی کیلئے قیادت کے فقدان اور مظاہرین کے بہت سے گروپوں کی موجودگی ایسے اثر ڈالنے والے افراد کی موجودگی کا سبب بنی کہ جن کے ایک دوسرے سے مختلف مقاصد تھے۔۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مظاہرہ محض خواتین کی طاقتور آواز نہیں رہ گیا تھا اور خود یہ خواتین بھی مظاہرہ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کھوچکی تھیں۔

عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا کہ ممکنہ طور پر مظاہرین کو وبا کے بڑھنے کا بھی احساس نہیں تھا اور اسی لئے وہ دوسری جگہ منتقل ہونے کو تیار نہ ہوئے۔ آخر کار یہ احتجاج ”اللہ کی مداخلت“ (Hand of God) کے سبب ختم ہوا۔. عدالت نے یہ بھی لکھا کہ ”یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انگریزوں کی حکمرانی کے خلاف ظاہر کئے جانے والے اختلاف کے طور طریقوں کا موازنہ خود اپنی جمہوریت میں کئے جانے والے اختلاف سے نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ آئین اختلاف رائے کے حق کی ضمانت دیتا ہے لیکن کچھ فرائض کی ادائیگی کی ذمہ داریوں کے ساتھ۔

عدالت نے اپنے فیصلہ میں ایک اہم بات یہ بھی لکھی: آئین کا آرٹیکل 19 (1) (A) اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے اور آرٹیکل 19(1) (B) حکومت کے کسی ایکشن یا عدم ایکشن کے خلاف کسی جگہ بغیر ہتھیار جمع ہوکر مظاہرہ کا حق دیتا ہے اور اس حق کا ریاست (حکومت) کو بھی احترام کرنا چاہئےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*