سپریم کورٹ عدل و انصاف کی بنیاد پر این آرسی کے تکمیل شدہ عمل کو بحال رکھے:جمعیۃ علمائے آسام

نئی دہلی:10مئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد، ڈاکٹر ہیمنتا بشوا شرما نے میڈیا کو بتایا کہ این آر سی میں نام شامل ہونے والوں میں سے آسام کے سرحدی اضلاع میں20 اور باقی اضلاع میں10 لوگوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ ساتھ ساتھ این آر سی کے ریاستی کوآرڈینیٹر نے 11مئی کو این آر سی کے مکمل اور جامع جائزہ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ واضح رہے کہ اس درخواست (IA NO-61664/21) میں، 31/08/2021 کو شائع ہونے والی حتمی این آر سی کو مسودہ فہرست کے ساتھ ایک اضافی فہرست بھی قرار دیا گیا ہے جو سراسر غیر معقول ہے اور سپریم کے حکم اور حکومت ہند کے فیصلے کے خلاف ہے۔ حتمی این آر سی کی اشاعت سے قبل سپریم کورٹ کے متعدد احکامات میں حتمی این آر سی کی اشاعت کی ہدایت کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، رجسٹرار جنرل ہند اور اس وقت کی ریاستی کوارڈینٹر نے مشترکہ طور پر 31اگست 2019 کو حتمی این آر سی شائع کیا۔ اگرچہ حتمی این آر سی کی اشاعت سے پہلے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت نے مکمل مسودہ میں شامل یا مکمل مسودہ سے خارج افراد کی نظرثانی کے لئے درخواستیں پیش کی ہیں لیکن سپریم کورٹ نے ریاستی کوارڈینٹر کی رپورٹ پر اطمینان کااظہارکرتے ہوئے 23/07/2019 کو دونوں حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا اور 31/08/2019 کو حتمی این آر سی کو شائع کرنے کی ہدایت دی۔ مرکزی وزارت برائے امور داخلہ کا 20/08/2019 کو جاری کردہ ایک بیان میں 31/08/2019 کو شائع ہونے والی این آر سی کو حتمی این آر سی قرار دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ 02/09/2019 وزارت خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں 31/08/2019 کو اشاعت ہونے والی این آر سی کو حتمی این آر سی قرار دیا اور این آر سی سے خارج لوگوں کے مستقبل کے قانونی عمل کا بھی ذکر ہے۔ مرکزی وزیر برائے امور داخلہ نے 03/07/2019۔ 31/08/2019۔ 04/12/2019۔ 16/03/2019۔ کو ہندوستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور تحریری سوال کے جواب میں 31/08/2019 کو شائع ہونے والی این آر سی کو حتمی این آر سی قرار دیا،لہٰذا این آر سی کے ریاستی کوآرڈینیٹرکے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ حتمی این آر سی کو سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں اضافی فہرست کے طور پر ذکر کرے۔ہمارے خیال میں اس طرح کی اپیل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بے معنی ہے۔آسام جمیعۃ علماء کے صدر مولانا مشتاق عنفراور مولانا عبد الرشید قاسمی ناظم اعلیٰ، جمعیت علماء آسام نے آج ایک بار پھر واضح کیا ہے ہم پہلے کی طرح اس بار بھی مولانا سید ارشد مدنی صدر محترم کے حکم پر سپریم کورٹ میں اس کے خلاف قانونی موقف اختیار کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جمیعت علمائے آسام کی جانب سے موجودہ ریاستی کوآرڈینیٹر کی شبیہہ اور تقرری کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک IA دائر کی گئی ہے ، جو تاحال زیر التواء ہے۔ سپریم کورٹ کی سربراہی میں تیار ہونے والی این آر میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے بغیر موجودہ ریاستی کوآرڈینیٹر نے مختلف اضلاع میں خطوط ارسال کردیئے ہیں، اور این آر سی میں شامل لوگوں کا دوبارہ جائزہ لینے کے کام شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ جمعیت علمائے آسام کی طرف سے اس کے خلاف توہین عدالت کی عرضی داخل کی گئی اور یہ مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے۔ اس کوارڈینٹر کے عمل غیرجانبدارانہ ہونے میں ہمیں شکوک وشبہات ہیں۔واضح رہے کہ جمعیت علماء آسام کی غیر ملکی مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ایک دیرینہ کوشش رہی ہے اورسپریم کورٹ کے زیراہتمام بننے والی این آر سی کے ہر کام میں تعاون کر رہی ہے۔ آسام ایکوڑ کے مطابق ایک ایسی این آر سی بنے، جس میں ایک بھی غیر ملکی کا نام داخل نہ ہو نے پائے اور کوئی بھی ہندوستانی کا نام خارج بھی نہ ہو ، اور اسی امید سے جمعیت علماہر سماعت میں سپریم کورٹ میں موجود رہی۔ تاہم آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بشوا شرما کے پریس ریلیز میں دیا گیا غیر ذمہ دارانہ بیان اور این آر سی کے کوآرڈینیٹر کے سو فیصد جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ میں جمع کیا گیا IA نے این آر سی کے معاملہ کو پیچیدہ بنا دیا۔ تاہم ہمیں سپریم کورٹ پر اعتماد اور یقین ہے کہ سپریم کورٹ عدل وانصاف کی بنیاد پر این آر سی کے تکمیل شدہ عمل کو بحال رکھیں گے اور بقیہ کام کاج کو مستقل قریب میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔