سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پرعبوری روک لگائی،چاررکنی کمیٹی تشکیل

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے ساڑھے تین ماہ قبل منظور شدہ تینوں زرعی قوانین پر عمل درآمدکو روک دیا۔ زرعی قوانین کوچیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی۔سرکارکمیٹی کی تشکیل کرکے معاملہ لٹکاناچاہتی تھی۔ کسانوں کاکہناہے کہ اس طرح حکومت نے سپریم کورٹ کے ذریعہ احتجاج ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ ارکان بی جے پی کے قریبی ہیں اورمتنازعہ قوانین کے حامی رہے ہیں اس لیے ان سے انصاف کی امیدنہیں کی جاسکتی۔سرکاربھی چاہتی تھی کہ کمیٹی بناکرمعاملہ لٹکادیاجائے۔جب کہ کسان التواء نہیں بلکہ قانون کاردچاہتے ہیں۔سپریم کورٹ کی تشکیل شدہ کمیٹی جس کے ارکان پہلے ہی زرعی قوانین کی حمایت کرچکے ہیں۔وہ کسانوں سے بات کریں گے۔لیکن کسانوں کاصاف کہناہے کہ وہ صرف سرکارسے بات کریں گے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ تو کسانوں کی جیت ہے اور نہ ہی حکومت کی شکست۔گذشتہ سال ستمبر میں حکومت نے پارلیمنٹ سے تین زرعی قوانین منظور کیے تھے۔ ان قوانین کو صدر نے 22 سے 24 ستمبر تک منظور کیا تھا۔ کسان ان قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کچھ وکیلوں نے سپریم کورٹ میں بھی ان قوانین کوچیلنج کیاہے۔ اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے 4 ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے ، اس میں کوئی ریٹائرڈجج شامل نہیں ہے۔اس کمیٹی میں بھوپندر سنگھ مان ، ہندوستانی کسان یونین،ڈاکٹر پرمود کمار جوشی ، بین الاقوامی پالیسی کے سربراہ،اشوک گلاوٹی،زرعی ماہر معاشیات انیل شیخاوت مہاراشٹرشامل ہیں۔کسانوں کا مطالبہ ہے کہ تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قوانین کو منسوخ کرنے کی بات نہیں کی ہے۔ بس کچھ وقت کے لیے اس پر عمل درآمد روک دیاگیاہے۔ کسان کوئی کمیٹی نہیں چاہتے تھے ، لیکن سپریم کورٹ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس سے مذاکرات میں مددملے گی۔دوسری طرف یہ حکومت کے لیے کوئی شکست نہیں ہے ، کیونکہ وہ خود ہی ایک کمیٹی تشکیل دے کرمعاملہ طول دیناچاہتی تھی تاکہ کسان تھک جائیں۔ حکومت کے بنائے ہوئے قوانین کا آئینی جواز بھی برقرار ہے ، کیوں کہ سپریم کورٹ نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ کمیٹی کسانوں سے بات کرے گی۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت کو بھی اپنا معاملہ پیش کرنے کا موقع ملے۔یہ کمیٹی کوئی فیصلہ یا حکم نہیں دے گی۔ وہ اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ 40 تنظیموں کے مشترکہ کسان مورچہ کا کہنا ہے کہ ہم کسی کمیٹی کے سامنے نہیں جانا چاہتے ہیں۔