سپریم کورٹ نے کسانوں سے کہا:ہم قانون نافذ نہیں ہونے دیں گے،آپ تحریک جاری رکھ سکتے ہیں

نئی دہلی:آج کسان تحریک کا 47 واں دن ہے۔ نئے زرعی قانون کومنسوخی کرنے سمیت کسان تحریک سے متعلق دیگر درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ حکومت کے رویے پر عدالت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کسانوں سے کہا کہ ہم زرعی قانون نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ آپ تحریک جاری رکھ سکتے ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مظاہرہ وہیں ہوگا جہاں ہورہا ہے ؟چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حکومت زرعی قوانین پر پابندی عائد نہیںکرتی ہے تو ہم ان پر پابندی لگائیں گے۔ حکومت اس معاملے میں جس طرح سے نمٹ رہی ہے اس سے ہم مایوس ہیں۔ہمیں نہیں معلوم کہ حکومت کسانوں سے کیا بات کر رہی ہے۔ کیا زرعی قوانین کو کچھ وقت کے لئے روکا نہیں جاسکتا؟کچھ کسانوںنے خود کشی کی ہے۔ بزرگ اور خواتین اس تحریک میں شامل ہیں۔ آخر کیا ہو رہا ہے؟ زرعی قوانین کو اچھا بتانے والی ایک بھی درخواست نہیں آئی۔ اگر کچھ غلط ہوا تو ہم سب ذمہ دار ہوں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہم پر کسی بھی طرح کی خونریزی کا الزام لگایا جائے۔ مرکزی حکومت کو پوری ذمہ داری لینی چاہئے۔ آپ قانون لا رہے ہیں ، لہٰذا آپ ہی بہتر سمجھتے ہیں ۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرانے سپریم کورٹ کے احکامات میں کہا گیا ہے کہ عدالتیں قوانین پر پابندی نہیں لگا سکتی ہیں۔