صوفیاۓ کرام:بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیل ِرہبانی-عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

حضرت معین الہندؒ کی شان میں گستاخی اور ایک پروپیگنڈے کا جواب
تاریخِ اسلام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تعصب پرور، نفرت پسند اور انسانیت بیزار طبقے نے دین فطرت کے خلاف ہرقسم کی سازش رچی، مختلف النوع حربے اپنائے اور نت نئے طریقوں سے اسلام کو زک پہونچانے کی کوشش کی۔عہد ماضی کی طرح دور حاضر میں بھی شمع اسلام کو گل کرنے کے لیے ملکی و عالمی پیمانے پرنئے نئے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں،اسلامی اقدار وشعائرکا استہزاء کیاجارہاہے، دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑا جارہاہے اورتاریخ کی مقدس شخصیات بالخصوص عدل پرور سلاطین اور انسانیت نوازاولیاء کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے۔
حال ہی کاواقعہ ہے کہ ’نیوز18‘ کے اینکر امیش دیوگن نے نہ صرف سلطان الاولیاء حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی شان میں دریدہ دہنی اور گستاخی کا ارتکاب کیا؛بل کہ اسلام کی نشر اشاعت سے متعلق بھی ایسی ناروا بات کہی جو سراسرگمراہی اور تاریخ سے جہالت وناواقفیت پر مبنی ہے۔اگرچہ ایک آدھ دن بعدمذمتی بیانات اور ایف آئی آر درج کرنے کے پیہم مطالبات کو دیکھتے ہوئے موصوف نے اپنی غلطی سے رجوع کرلیا اور اسے جذبات کی رومیں نکلنے والا ایک جملہ قرار دیا؛لیکن یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کچھ غلطیاں وہ ہوتی ہیں جو غفلت و جہالت کے سبب انجانے میں بے اختیار سرزد ہوجاتی ہیں اور کچھ وہ ہوتی ہیں جو قصد وارادے کے ساتھ کسی کے اشارہئ ابرو پر انجام پاتی ہیں۔اول الذکر غلطی کے لیے زبانی یا تحریری معذرت قابل قبول ہوسکتی ہے؛مگر آخر الذکر غلطی سے اعراض و چشم پوشی‘غلطی کرنے والے کو مزیداقدامِ جرم کا حوصلہ بخشتی ہے اور مجرم کو خوگرِجرائم بنادیتی ہے۔
حضرت اجمیریؒ کون تھے؟
حضرت خواجہ معین الدین چشتی 14 رجب 537 ہجری م ماہ اپریل 1143ء بروز دوشنبہ صبح صادق کے وقت جنوبی ایران کے علاقے سیستان کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے،آپ نسب کے اعتبار سے نجیب الطرفین تھے،آپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سے امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جاملتا ہے۔ آپ کے والد گرامی خواجہ غیاث الدین کاشمار دولت مندتجاراوربااثرافرادمیں ہوتاتھا؛مگرمال و ثروت کے ساتھ ساتھ آپ عابد و زاہد شخص تھے، دولت کی فراوانی کے باوجود ابتداء ہی سے بہت قناعت پسند تھے۔آپ ابھی پندرہ سال کی عمرہی کو پہنچے تھے کہ والدماجد کا وصال ہوگیا،والد ہ محترمہ نے آپ کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ فرمائی؛مگر جلد ہی دست قضا نے انھیں بھی آپ سے جداکردیا اور آپ کشمکش حیات میں تنہا رہ گئے۔ والدین کے ورثے سے ایک باغ اور ایک پن چکی آپ کو ملی تھی؛ لہٰذا آپ نے باغبانی کو معیشت کاذریعہ بنایا اور باغ کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئے۔ اپنے ہاتھوں سے باغ کی حفاظت کرتے اور پانی وکھاد وغیرہ دینے کے ساتھ اس کی کاٹ چھانٹ بھی کرتے تھے۔اسی دوران آپ کی زندگی میں ایک انقلاب برپاہوا اور آپ علم دین کے حصول اور مرشد کامل کی تلاش میں نکل پڑے۔بخارا اور سمرقندجاکر ظاہری علوم کی تحصیل کے بعدحضرت خواجہ عثمان ہارونی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ ہی مدت کے بعد خلافت سے نوازے گئے۔
صاحب خزینۃ الاصفیاء تحریر فرماتے ہیں کہ جب حضرت خواجہ معین الدین قدس اللہ سرہ اپنے پیر روشن ضمیر سے اجازت حاصل کر کے رخصت ہوئے تو اطراف عالم میں سفر فرماتے ہوئے دردمندوں کی چارہ سازی اور تشنگان علوم ومعارف کی سیرابی فرماتے رہے۔ جہاں آپ کی شہرت ہوجاتی وہاں سے چھپ کر چلے جاتے۔جب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ہندوستان آمد ہوئی؛آپ کی استقامت کا امتحان شروع ہوگیا،چناں چہ پِرتھوی راج نے اپنے علاقہ میں اسلام کی روشنی دیکھی توتاب نہ لاسکااور اپنی ناپاک سازشوں سے شمع اسلام کو بجھانے کی کوشش کرنے لگا،آپ کو اور آپ کے وابستگان کو ہندوستان سے رخصت کرنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے،مصائب ومشکلات میں الجھانے کی کوشش کی، جہاں کہیں آپ تشریف فرماہوئے وہاں سے چلے جانے کے لئے زحمت دی جاتی رہی، ستم کی انتہاء یہ تھی کہ حضرت خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے جاں نثاروں کے لیے پانی پر پابندی لگادی گئی، اجمیر کے تالاب اناساگر پر سپاہیوں کا پہرا بٹھادیاگیا گویا حکمران وقت آپ کے ساتھ انسانیت سوز حرکتیں کرنے کے درپے ہوگیا؛بلکہ اس سے بھی بد ترسلوک کرنے لگا، ان سب کے باوجود آپ کی ثابت قدمی میں حبہ برابر فرق نہ آیا، آپ اشاعت دین متین کے لئے مکمل کمربستہ رہے اور کبھی اپنے پائے استقلال کوڈگمگانے نہ دیا۔
حضرت اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیمات اسلامیہ کی ترویج واشاعت نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دی، آپ کے صدق وصفا،خلوص ووفاکو دیکھ کر لوگ صداقت شعار وراست باز ہوئے، آپ کے حلم وبردباری، جود وسخا اور دیگر اخلاق عالیہ سے متاثرہوکر لوگ اچھے کردار کے حامل اور پاکیزہ صفات کے پیکر ہوئے،بعض مورخین کے مطابق محض دہلی سے اجمیرتک سفر کے دوران کئی لاکھ افراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔
اس درجہ نیک سیرت اور پاک طینت شخصیت کے خلاف زبان درازی درحقیقت ملک کی پر امن فضا کو مکدرکرنے کے مرادف ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آپ کی شان میں گستاخی کا شرم ناک واقعہ منظر عام پر آیا تو ملک کے مختلف گوشوں سے مذمتی بیانات کاسلسلہ جاری ہوگیا،اس سلسلے میں سب سے پہلے دارالعلوم دیوبندنے اپنا بیان جاری کیا،جس میں صاف طور پر کہاگیا کہ حضرت اجمیریؒ بر صغیر ہند و پاک میں اسلامی تعلیمات اور انسانی اقدار کے عظیم داعی اورغیر متنازعہ روحانی پیشوا کے طور پر اپنی منفرد پہچان اور بلند مقام رکھتے ہیں‘بلا لحاظِ مذہب و ملت‘ بے شمار خلقِ خدا ان سے عقیدت و محبت رکھتی ہے‘ ٹی وی اینکرکے اس ہتک آمیز مذموم بیان سے ہر انسان کو قلبی اذیت پہنچی ہے اور یہ بھی متشرح ہوگیا ہے کہ فرقہ پرست عناصر کا نشانہ مدارسِ اسلامیہ کے بعد اب خانقاہی نظام اوردرگاہیں ہیں‘ اس لیے اس واقعہ کی جس قدر بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے‘ دارالعلوم دیوبندنے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیاہے کہ مذکورہ چینل کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
کیا اسلام بہ زور شمشیر پھیلا؟
مخالفین اسلام شروع ہی سے یہ پروپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں کہ اسلام  بہ زورِتلوارپھیلا اور لوگ شمشیر و سنان کے خوف سے مسلمان ہوتے رہے؛مگراس پروپیگنڈے کی کیا حقیقت ہے،اس سلسلے میں مشہور محقق ڈاکٹر حمید اللہ حیدرآبادی لکھتے ہیں:“یہ مملکت (مدینہ کی ریاست) ابتداء میں ایک شہری مملکت تو تھی مگر کامل شہر میں نہیں تھی؛ بلکہ شہر کے ایک حصے میں قائم کی گئی تھی، لیکن اس کی توسیع بڑی تیزی سے ہوتی ہے۔ اس توسیع کا آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ صرف دس سال بعد جب رسول اللہ کی وفات ہوئی، اس وقت مدینہ ایک شہری مملکت نہیں؛بلکہ ایک وسیع مملکت کادارالسلطنت تھا۔ اس وسیع سلطنت کا رقبہ تاریخی شواہد کی رو سے تین ملین یعنی تیس لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل تھا۔ دوسرے الفاظ میں دس سال تک اوسطاً روزانہ کوئی آٹھ سو پینتالیس مربع کلومیٹر علاقے کا ملک کے رقبے میں اضافہ ہوتا رہا۔تین ملین کلومیٹر رقبہ فتح کرنے کے لیے دشمن کے جتنے لوگ مرے ہیں،ان کی تعداد مہینے میں دو بھی نہیں ہے، دس سال میں ایک سو بیس مہینے ہوتے ہیں تو ایکسو بیس کے دو گنے دو سو چالیس آدمی بھی ان لڑائیوں میں نہیں مرے، دشمن کے مقتولین کی تعداد اس سے کم تھی، مسلمانوں کے شہداء کی تعداد دشمن کے مقتولین سے بھی کم ہے۔مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان جنگ احد میں ہوا کہ ستر آدمی شہید ہوئے اور یہ نقصان بھی مسلمانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہوا۔
بہرحال بحیثیت مجموعی میدان جنگ میں قتل ہونے والے دشمنوں کی تعداد مہینے میں دو سے بھی کم ہے، جس سے ہمیں نظر آتاہے کہ رسول اللہ کس طرح اسوہئ حسنہ بن کر دنیا بھر کے حکم رانوں اور فاتحوں کو بتاتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ اور ان کو شکست دینے کی کوشش ضرور کرو؛ لیکن بیجا خون نہ بہاؤ۔ مقصد یہ کہ دشمن جو آج غیر مسلم ہے ممکن ہے کل وہ مسلمان ہو جائے یا اس کے بیوی بچے اور اس کی آئندہ نسلیں مسلمان ہو جائیں لہذا اس امکان کو زائل کرنے میں اپنی طرف سے کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے پچھتانے کی ضرورت پیش آئے۔(اقتباس از خطبات بہاولپور، ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلفاء کی چالیس پچاس سالہ انقلابی جدوجہد سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں جتنے بھی معرکے ہوئے، ان میں کسی ایک کو بھی جبرًا مسلمان بنانے کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔یہ الگ بات ہے کہ ضرورت کے وقت دفعِ شر اور قطع  فساد کے لئے جنگ میں پہل کی گئی؛لیکن زیادہ تر معرکوں کی نوعیت دفاعی رہی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی مخالفین نے سرِ تسلیم خم کیا یا راہِ فرار اختیار کی، صلح کے لئے ہاتھ بڑھایا یاہتھیار ڈال دیئے تو پھر مسلمانوں نے بھی ان پر ہتھیار نہیں اٹھائے۔ اسلام میں جنگ محض برائے جنگ نہیں؛ بلکہ قیامِ امن اور بقاء سلامتی کا ذریعہ ہے۔ یہ محض مسلمانوں کے اخلاق و کردار،صوفیاء کی شرافت نفس اور اعلی ظرفی کا اثر تھا کہ غیر مسلم  تیزی کے ساتھ حلقہ بہ گوش اسلام ہوتے گئے اور دنیامیں ہر طرف اسلام کا ڈنکا بجنے لگا۔
موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اولیائے کرام ؒکا پیغام پوری انسانیت کے لیے تھا  ، کسی خاص گروپ، گروہ، فرقے کے لئے نہیں تھا۔اسلام میں تصوّف کا سر چشمہ رسول اللہ ﷺ کااسوہِ حسنہ ہے۔انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، نرم روی، کرم گستری، اللہ تعالیٰ پربھروسہ، کمزوروں کے لیے عملی ہمدردی اور اْن پر شفقت، یہ سب اوصاف کسی بھی صوفی کے لیے روحانی فیضان کا سبب ہیں۔صوفیائے کر ام کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے اورپرائے، نیک اور بد، موافق اور مخالف سب کے ساتھ برداشت، رواداری او ر حسن سلوک کا رویہ رکھتے ہیں او راپنے معتقدین کو بھی اسی چیز کا درس دیتے ہیں، چنانچہ حضر ت حسن بصری کے بارے میں منقول ہے کہ:“ انہیں کچھ لوگوں نے بتایا کہ فلاں شخص آپ کی عیب جوئی کررہا ہے،تو آپ نے بجائے اس پر غصہ کرنے یا انتقام لینے کے بطور تحفہ اس کوتازہ کھجوریں بھیج دیں ”۔ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:“قیامت کے بازار میں کوئی سبب اس قدر قیمتی نہ ہوگا جس قدردلوں کو راحت پہنچانا ”۔ او ران حضرات کے ہاں خلق آزاری سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں۔
مذکورہ تفصیل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تصوف اور صوفیاء حضرات کی تعلیمات دراصل قرآن و سنت کا نچوڑ اور انسانیت کے لیے  فوز وفلاح کی ضامن ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*