سفید قلعہ :پامک کا’میں کیوں وہ ہوں، جو ہوں؟‘ سوال اٹھاتا ناول ـ شکیل رشید

 

وہی ادب ہمیشہ زندہ رہتا ہے ، جسے جب بھی پڑھا جائے ، عصر حاضر کا لگے ۔ ترکی کے نوبل ایوارڈ یافتہ ادیب اورحان پامک کے فکشن میں ، یہ کمال موجود ہے ۔ وہ جب حالاتِ حاضرہ کی بات کرتے ہیں تو وہ تو آج کی بات ہوتی ہی ہے ، مگر جب بات ماضی قریب یا ماضی بعید اور سلطانوں کے دور کی کرتے ہیں ، تب بھی ان کی تحریریں عصرِ حاضر سے جڑی نظر آتی ہیں ۔ ان کے اس ناول کی مثال لے لیں جس کا انگریزی زبان میں سب سے پہلے ترجمہ ہوا ، یعنی ترکی زبان کا ان کا ناول’ بیاض کلے‘ ۔ اس کاانگریزی ترجمہ’وائٹ کیسل‘کے نام سے ، 1991میں ہوا تھا ، یہ گویاپامک کا ترکی سے باہرکے لوگوں سے پہلا تعارف تھا ، اور یہ تعارف کچھ ایسا زوردار ثابت ہوا کہ ساری دنیا کہہ اٹھی’’اورحان پامک مشرق سے طلوع ہونے والا ایک نیا ستارہ ہے ۔‘‘بعد کے دنوں میں اس ستارے میں ایسی چمک پیدا ہوئی کہ 2006 میں اسے ادب کا نوبل ایوارڈ حاصل ہوا ۔ اس ناول ’ وائٹ کیسل ‘ کو بعد میں مرحوم آصف فرخی نے ، اپنے ادارے ’شہرزاد‘ سے اردو زبان میں’’سفید قلعہ‘‘کے نام سے شایع کیا ، اس کے مترجم مرحوم محمد عمر میمن تھے ، جنہوں نے اس کے ترجمے پر اپنی ساری محنت اور ساری صلاحیت لگا دی تھی ۔ میمن صاحب کا یہ ترجمہ اردو زبان کے اعلیٰ ترین تراجم کی فہرست میں ہمیشہ اپنی جگہ بنائے رکھے گا ۔ اب وہی ترجمہ ،ہندوستان میں،ادبی پرچے ’اثبات‘کے مالک و مدیر اشعر نجمی نے اپنے ادارے ’اثبات پبلی کیشنز‘ (موبائل نمبر:91 8169002417)سے شائع کر کے یہاں کے لوگوں کے لیے اس کا حصول ممکن بنا دیا ہے ۔ اس ناول اور اس کے ترجمے پر بات کرنے سے قبل اس کے چند اقتباسات ملاحظہ کر لیں تاکہ اس بات کا اندازہ بخوبی ہو سکے کہ اورحان پامک کے ناول ماضی کی بات کرتے ہوئے بھی کیسے آج سے جڑجاتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ناول اس وقت کا ہے جب ترکی سلطانوں کے قبضہ میں تھا ، اورآخری طفل سلطان تخت نشین تھا ۔
یہ اقتباس دیکھیں:’’ میں نے سادہ لوحی سے تجویز پیش کی کہ اگر وہ پُراعتماد تھا تو اس لیے نہیں کہ اس کا ضمیر صاف ہے بلکہ اس لیے کہ اس کو نہیں معلوم کہ موت کتنے قریب ہے ۔ میں نے وضاحت کی کہ ہم موت کے خلاف اپنا تحفظ کر سکتےہیں ، کہ ہمیں چاہیے کہ ان لوگوں کو چھونے سے اجتناب کریں جنہیں طاعون لاحق ہوگیا ہے ، کہ مردہ جسموں کو چونا پڑے گڑھوں میں دفن کیا جانا چاہیے ، اور یہ کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جس قدر کم ہوسکے ملنا جلنا چاہیے ، اور یہ کہ خوجہ کو پُرہجوم اسکول نہیں جانا چاہیے۔‘‘
ایک اقتباس مزید ملاحظہ کریں:’’ کافی غور و خوض کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ خوجہ یہ کہے گا کہ طاعون کی گزرگاہ بھیڑبھڑکے سے پُر مارکیٹیں ہیں ، بازار جہاں لوگ ایک دوسرے کو غچہ دیتے ہیں ، قہوہ خانے جہاں لوگ ایک دوسرے کے قریب قریب بیٹھ کر غپ شپ کرتے ہیں ۔ وہ رخصت ہوا ، شام پڑنے پر لوٹا ۔ خوجہ نے یہ سب اس سے کہہ دیا ۔’’تو ہم کیا کریں؟‘‘سلطان نے پوچھا ۔ خوجہ نے مشورہ دیا کہ مارکٹوں میں ہونے والی آمدورفت کو بہ زور بازو کم کیا جائے:حاکم کے نادان مصاحبین نے فوراًاس کی مخالفت کی ، ظاہر ہے :تو پھر شہر میں کھانے پینے کا بندوبست کیسے ہوگا ، بیوپار بند تو زندگی بھی ختم شد ، یہ خبر کہ طاعون آدمی کے بھیس میں گھومتا پھر رہا ہے ، اپنے سننے والوں کو خوفزدہ کر دے گی ، وہ سوچیں گے کہ یوم الحساب آگیا ہے اور کوئی ایسا ویسا قدم اٹھا بیٹھیں گے :کون چاہے گا کہ ایسے محلےمیں محصور ہو جائے جس میں طاعون کا شیطان دندناتا پھر رہا ہو ، وہ اچھی خاصی بغاوت کھڑی کر دیں گے۔’’اور وہ اس میں بالکل حق بجانب ہوں گے،‘‘خوجہ نے کہا۔اس وقت کوئی احمق پوچھ بیٹھا کہ عوام کو اس درجہ قابو میں لانے کے لیے حسب ضرورت لوگ کہاں سے آئیں گے ، اور سلطان مشتعل ہو گیا ؛ اس نے یہ کہہ کر سب کی سٹی پٹی گم کردی کہ اگر کسی نے اس کی طاقت میں شک کیا تو اسے موت کے گھاٹ اتار دے گا ۔ اپنے طیش میں اس نے حکم صادر کیا کہ خوجہ کی سفارشوں پر عمل درآمد کیا جائے ، لیکن اس کے حلقے سے رجوع کرنے سے پہلے نہیں ۔‘‘
کیا مذکورہ اقتباسات ہمیں کچھ یاد نہیں دلاتے ؟ کورونا وبا ، لاک ڈاؤن اور ایک جابر حاکم کی من مانیاں؟ لیکن ’’ سفید قلعہ ‘‘ کسی وبا ئی مرض کا ناول نہیں ہے اور نہ ہی کسی حاکم کی من مانیوں کا۔ اس ناول کا پلاٹ دوتقریباًہم شکل افراد کی زندگیوں پر مشتمل ہے ، جو ایک دوسرے کے شاگرد اور استاد ہوتےہیں ، ایک اطالوی ہے جوترک بحری بیڑے کے حملے میں پکڑا جاتا ہے ، یہ کردار آخر تک بے نام ہے ، اور دوسرا ترک ہےجس کا نام خوجہ ہے ۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں ، اور پھر سلطان کی ایما پر ایک ایسی’جنگی مشین ‘ بنانے کی تیاری کرتے ہیں جو جنگوں میں سلطان کو اپنے دشمنوں پر فتح دلا سکے ۔ پلاٹ بظاہر سیدھا سادا ہے ، لیکن اس میں ہم ، زندگی ، موت ، خوف ، امید اورمایوسی کی مختلف کیفیات کو دیکھ سکتے ہیں ۔ لیکن یہ ناول ان کیفیات کے بارے میں بھی نہیں ہے ، یہ دراصل اس سوال کا جواب تلاش کرتا ہے کہ’’میں کیوں وہ ہوں ، جو ہوں؟‘‘اس سوال کے ساتھ یہ سوال بھی سامنےلاتا ہے کہ’’کیاہم خود کو جانتے ہیں؟‘‘یہ ناول سوالیہ انداز میں مذکورہ سوالوں کے جواب بھی دیتاہے کہ’’آدمی (اگر) ایک دوسرے کی جگہ لے سکتے ہیں ، تو کیا یہ اس بات کا بہترین ثبوت نہیں کہ آدمی ہر جگہ ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں؟‘‘گویا یہ ناول اپنے وقت کے انسان سے ، اس کے وجود سے متعلق سوالات قائم کرتا ہے ، اوربتاتا ہے کہ دنیا بھر کے انسان ایک دوسرے جیسے ہی ہوتے ہیں ۔ خوجہ اور راوی ایک دوسرے کی جگہ لے کر بھی نہیں بدلتے ، یہ کتاب لکھتے ہوئے راوی کے دل میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ وہ اپنے ’سائے ‘ کی طرف لو ٹ رہا ہے ۔ دونوں کے درمیان کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ پامک کا یہ ناول ، اس کے ، انسانوں کے مشابہ ہونے کی حقیقت پر ایقان اور ایمان کا گویا اعلان ہے ۔ اسے وہ ، جو وجودیت کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں ’ وجودی ناول‘ کہہ سکتے ہیں ، اور وہ جنہیں تصوف سے لگاؤ ہے ’صوفیانہ ناول‘ کہ صوفیا کرام ان سوالوں پر غور کرتے رہتے ہیں ۔ لوگ جو سمجھیں اور کہیں ، پامک کا یہ ناول ایک ایسا مہابیانیہ ہے جواچھے ناول کی طاقت اور لوگوں پر اس کے اثر اندز ہونے کی قوت پر قاری یا قارئین کے اعتماد کو بحال کرتا ہے ۔
محمد عمر میمن کے ترجمے کا اوپر مختصراً ذکر ہو گیا ہے ، لیکن اس پر مزید بات کرنے کی ضرورت ہے ۔ چونکہ مترجم کو انگریزی زبان کے ساتھ اردو ، فارسی اور عربی زبانوں کا بھی علم تھا اس لیے اس ناول کے صوفیانہ پہلوؤں کا ترجمہ کرنے میں انہیں جو کامیابی حاصل ہوئی شاید کسی اور مترجم کو حاصل ہوتی ۔ وہ اصطلاحات سے بھی واقف تھے لہٰذا ، انگریزی زبان کےان اصطلاحات کے ترجمے ، جن کا ترجمہ شاید دوسروں کے لیے مشکل ہوتا ، آسانی سے کر گیے ۔ اس ناول کا مطالعہ اس بہترین ترجمے کا لطف لینے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے ۔ ایک بات مزید:اس ناول کا عنوان ’’سفید قلعہ‘‘ اس ’سچ‘ یا اس ’حقیقت‘ کی علامت ہے ، جس تک پہنچنے کے لیے ، خوجہ تگ و دو کر رہا ہے ، مگر یہ اتنا ’سفید‘ یا باالفاظ دیگر اتنا ’پاک‘ ہے کہ ، سب اسے فتح نہیں کر سکتے ۔