صبح کی دہلیز پر(حنیف کیفی)- تبصرہ: محمد اکرام

 

صفحات: 208، قیمت: 250، سنہ اشاعت: اکتوبر 2020
ناشر:حنیف کیفی
حنیف کیفی استاد، شاعر،ناقد، محقق اور مترجم کی حیثیت سے اردو دنیا میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ ایک استاد کے طور پر ان کا نام جہاں عزت و احترام سے لیا جاتا ہے وہیں شاعر،ناقد، محقق اور مترجم کی حیثیت سے بھی ان کی مستحکم شناخت ہے۔ آپ کی تا دم حیات 13 کتابیں منظر عام پر آچکی تھیں جن میں اردو شاعری میں سانٹ (تحقیق و تنقید) 1975، اردو میں نظم معراا ور آزاد نظم ]ابتدا سے 1947 تک[(تحقیق و تنقید) 1982، جے شنکر پرساد (سوانح و تنقید: انگریزی سے ترجمہ) 1984، چراغ نیم شب (شاعری) 1986، اردو کی نئی کتاب (گیارہویں جماعت کے لیے)، 1986، اردو کی نئی کتاب (بارہویں جماعت کے لیے) 1988، اردو سانٹ: تعارف و انتخاب (تحقیق و تدوین) 1987، تنقید و توجیہ (مضامین) 1997، انتخاب کلام شمیم کرہانی (ترتیب) 1999، سحر سے پہلے (شاعری)،2004، بائیں ہاتھ کا کھیل (شاعری) 2011، بچپن زندہ ہے مجھ میں (بچوں کے لیے) 2018شامل ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’صبح کی دہلیز پر‘ آپ کا چوتھا اور آخری شعری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی اہمیت، افادیت، ضرورت کیا تھی یہ تو قارئین ہی بتائیں گے۔البتہ کتاب کی اشاعت اور جواز سے متعلق کیفی صاحب کی رائے جاننا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے:
”…خواہی نخواہی ایک مجموعہ اور! جو دعوے یا قیاس آرائیاں ہم سے اپنے گذشتہ مجموعے میں اپنی بڑھتی ہوئی عمر اور روز بہ روز گھٹتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر سرزد ہوگئی تھیں، سب باطل اور بے بنیاد قرار پائیں۔ اب تراسی سال سے متجاوز عمر، ضعفِ اعصاب، نقصِ بینائی اور متعدد مختلف النوع امراض و عوارض کے ہوتے ہوئے آئندہ کے لیے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ کل کیا ہوگا یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور سب کچھ اسی قادر مطلق کے اختیار میں ہے۔ ہاں یہ تمنا ضرور ہے کہ یہ کم سواد مجموعہ میری زندگی میں شائع ہوجائے اور جو بھی پڑھنے والے اسے میسر آجائیں ان کا ردعمل میں دیکھ سکوں…“۔(ص9)
خدا کی مرضی کو کون ٹال سکتا ہے۔ مجموعے کی اشاعت کے کچھ روز بعد ہی آپ کا انتقال ہوگیا۔
’صبح کی دہلیز پر‘ 208 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں ایک مضمون ’چھٹتی نہیں ہے…‘ کے علاوہ حمد/مناجات/نعت، سانِٹ،نظمیں، غزلیں، رباعیات/ قطعات اورآخر میں ضمیمہ شامل ہے۔ضمیمہ کو شامل کرنے کی وجہ محض اتنی سی ہے کہ کتاب فائنل شکل میں فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنؤ میں مالی اعانت کے لیے بھیج دی گئی تھی۔مالی اعانت اور اشاعت کے وقفے کے درمیان کچھ مزید غزلیں اور حمد و نعت آپ نے تیار کرلیں جنھیں ضمیمے کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ’حنیف کیفی اور کلامِ کیفی: تاثراتِ دیدہ وراں کے آئینے میں‘ چند ان سچے اور ادب کے پارکھ دانشوران کے تاثرات بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی طور پر کیفی صاحب کی تخلیقات کو پسند کرتے تھے۔
کیفی صاحب کے شعری مجموعوں کی ایک خصوصیت یہ رہی ہے کہ انھوں نے حمد و نعت سے مجموعے کی شروعات کی ہے۔ چونکہ خالق حقیقی کے تصور کے بغیر انسان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہم اس کی شان میں کتنے بھی قصیدے پڑھیں وہ بہت کم ہے، اسی لیے آپ نے پروردگار کا شکر، احسان اورکرم کو لازمی سمجھا ہے۔ پہلے کے مجموعوں کی بہ نسبت اس مجموعے میں حمد، نعت اور مناجات کی تعداد زیادہ ہے۔ مجموعے کے شروع میں ہی آپ نے ’حمدِ رب السمٰوات والارض‘ کے تحت قادر مطلق کی کیا بہترین مداحی کی ہے :
ہوں نخل و شجر سارے سمندر یک جا
لکھ پائیں نہ اوصافِ خدائے یکتا
تسبیح کناں ارض و سمٰوات اس کے
کیا جن و بشر سے ہو بیاں اس کی ثنا
کسی بھی فن کے بارے میں یہ عام خیال ہے کہ عمر طویل اور تجربے کے ساتھ اس میں مزید پختگی آجاتی ہے۔جوں جوں انسان تجربے حاصل کرتا ہے، مختلف علوم و فنون کا مطالعہ کرتا ہے،ویسے ویسے اس کے ذہن میں نت نئے خیالات وجود میں آتے ہیں اور ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں اسے مزید آسانیاں فراہم ہوتی ہیں۔ یہی حال ایک تخلیق کار کا بھی ہوتا ہے۔عمر کے ساتھ ساتھ اس کی تخلیقات میں پختگی آتی ہے۔ اسی لیے کیفی صاحب نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ:
”کہتے ہیں کہ شاعر جب بوڑھا ہوجاتا ہے تو اس کی شاعری جوان ہوتی ہے،میں نہیں کہہ سکتا کہ میری شاعری جوان ہوئی ہے یا میری ہی طرح بوڑھی ہوگئی ہے! اس کا فیصلہ تو پڑھنے اور پرکھنے والے ہی کرسکتے ہیں۔ اسی خیال کے پیشِ نظر اپنے پچھلے مجموعوں کی معکوسی ترتیب کے برعکس زیرنظر مجموعے کو میں نے ارتقائی ترتیب کے اعتبار سے مرتب کیا ہے تاکہ سلسلہ وار میری شاعری میں تغیر و تبدل اور اس کی ترقی یا تنزل کا اندازہ صحیح طور پر اور آسانی کے ساتھ لگایا جاسکے۔ صرف رباعیات اس ترتیب سے مستثنیٰ ہیں۔ (ص10)
حالیہ کچھ برسوں میں جس معیار کی شاعری ہوئی ہے یا ہورہی ہے اس سے ہر خاص و عام واقف ہے، یہی وجہ ہے کہ بیشتر قارئین شاعری کے مجموعے کا مطالعہ تو دور، اسے اپنی لائبریری کی زینت کے لائق بھی نہیں سمجھتے۔ بے شک اظہار کا بہترین ذریعہ شاعری ہے، لیکن شاعری کے لیے جوپابندیاں متعین کی گئی ہیں یعنی رموزِ اوقاف، ردیف و قافیہ، عروض و آہنگ وغیرہ کا التزام، ورنہ آپ کی شاعری کس کام کی۔ حنیف کیفی صاحب کی یہ بڑی خوبی ہے کہ ان کی شاعری ان تمام صفات سے مزین ہے۔ بقول کیفی صاحب شاعری خون جگر صرف کرنے اور دماغ سوزی کا نام ہے، اسی لیے میں نے اس وقت تک شعر نہیں کہا جب تک شعر نے خود کو نہیں کہلوایا۔ شاید اسی لیے کیفی صاحب غزل کے ایک ایک شعر کو کئی کئی بار کاٹتے چھانٹتے رہتے ہیں کہ ان کی غزل میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ کیفی صاحب خود اس کا اظہار بھی کرچکے ہیں کہ ”لے دے کے سال میں دس پانچ غزلوں کا اوسط،بھولے بھٹکے دو ایک سانِٹ، اور کچھ نظمیں! توفیق ہوئی تو کبھی کبھار کوئی حمد، مناجات اور نعت لکھنے کی سعادت حاصل کرلی۔“ کیفی صاحب شاعری میں ریاضت کی ضرورت کس قدر محسوس کرتے ہیں، ان اشعار سے ملاحظہ کریں:
مضمونِ نو کی دھن میں نہ شب بھر سونا
لفظوں کے در و بست میں خود کو کھونا
درکار ہے ہر شعر کو نذرانہئ خوں
بچوں کا نہیں کھیل غزل گو ہونا
حنیف کیفی صاحب نے کچھ غزلیں غالب کی زمین میں بھی کہی ہیں۔ ویسے تو سیکڑوں شعرا ایسے گزرے ہیں جنھوں نے غالب کی غزل کے کسی مصرعے پر پوری پوری غزلیں کہی ہیں، اور بہت سوں کو اس میں مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہے، لیکن ہر شاعر اپنا منفرد انداز بیان رکھتا ہے۔ انہی میں ایک نام حنیف کیفی کا بھی ہے جو غالب کے مداح اور پرستار نظر آتے ہیں، اسی لیے کیفی صاحب شعرگوئی کے معاملے میں اپنے کو غالب کا ہم نوا بتاتے ہوئے کہتے ہیں:
”میں شعرگوئی کے معاملے میں غالب کا ہم نواہوں، اور بڑی حد تک ان کے اس قول پر عمل پیرا ہوں: ”شعر خود خواہشِ آں کرد کہ گرددفنِ ما“۔ بڑی حد تک اس لیے کہ میں اپنی شاعری کے تعلق سے فن کادعویٰ کرکے غالب کی ہم سری کے لائق نہیں ہوں۔ کہاں غالب کہاں میں! خاک کو آسماں سے کیا نسبت!“(ص 178)
کیفی صاحب نے مصرع غالب ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے‘ پر کیا بہترین غزل لکھی ہے:
زندہ مجھے رکھنے کو مرا کام بہت ہے
میں مطمئن اتنا ہی بس انعام بہت ہے
لازم نہیں کچھ خیر خبر اس کو سنانا
حاسد کے جلانے کو مرا نام بہت ہے
اس واسطے جیتا ہوں کہ جینا ہے مقدر
مرنے کو تو یوں جینے کا الزام بہت ہے
اے قادرِ مطلق مجھے توفیق عطا ہو
مہلت ہے بہت تھوڑی سی اور کام بہت ہے
کیفی صاحب نے اپنی شاعری میں جن موضوعات کو زیادہ برتا ہے ان میں امیدو ناامیدی، اپنوں کی بے وفائی، حرماں نصیبی،غم و اندوہ قابل ذکر ہیں۔ موضوعات کے تحت مثالوں کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے یہاں ان سے اجتناب کیا جاتا ہے۔
مزیں برآں اس مجموعے میں دو سانٹ ’شکر و شکایت‘ اور ’الجھن‘ اور سات نظمیں رائٹر کی موت، مذاقِ سلیم سے عاری ایک منکرِ شاعری کے نام، قیامتِ صغریٰ، مرگِ معصوم، وصال آخر، ضعیفہ ہوکے محبوبہ، ہلال عید سے کے علاوہ 36 صفحات پر محیط رباعیات و قطعات بھی شامل ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
کتاب کی طباعت دیدہ زیب ہے۔اس کا سرورق کیفی صاحب کے صاحب زادے محمد معراج وسیم نے ان کی نگرانی میں تیار کیا ہے، اس لیے کور پیج کی ستائش ضروری ہے۔ امید ہے کہ کیفی صاحب کی بقیہ کتابو ں کی طرح یہ کتاب بھی علمی اور ادبی حلقے میں پسندیدگی کی نظروں سے دیکھی او رپڑھی جائے گی۔