جنتر منترپر اشتعال انگیزی کرنے والوں پر سخت کارروائی کی جائے،جمعیۃ علماء ہندکے وفد نے جوائنٹ پولس کمشنر اور ڈی سی پی سے ملاقات کی 

 

نئی دہلی:ملک کی راجدھانی دہلی کے قلب میں واقع جنتر منتر پر مسلمانوں کے خلاف کھلے عام اشتعال انگیزی کی گئی ، یہ بھارت بچائو ابھیان ریلی کے مظاہرین کے ایک گروہ نے انجام دیا ، جب اس کا ویڈیو منظر عام پر آیا تو ملک میں بے چینی پھیل گئی ۔اس سلسلے میں آج جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے وزیر داخلہ حکومت ہند امت شاہ اور دہلی پولس کمشنر کو خط ارسال کیا ہے ۔ اس خط کی ایک کاپی جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے جنتر منتر پر واقع پولس کیمپ میں پہنچ کر نئی دہلی رینج کے جوائنٹ کمشنر شری جسپال سنگھ اور ڈی سی پی شری دیپک یادو سے ملاقات کرے بھی سونپا۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دی گئی ہے جو سوشل میڈیا پر بڑی تیزی کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔ اس سے ملک کے امن پسند افراد اور مسلم اقلیت کو سخت تکلیف پہنچی ہے ، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف جلد کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان پر دو فرقوں کے مابین نفرت پھیلانے والے دفعات لگائے جائیں ۔ صدر جمعیۃ علماء ہند نے اپنے مکتوب میں دہلی میں فرقہ وارانہ صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور 2020کے حالات دوبارہ دوہرائے جانے سے خبردار کیا ہے ۔ اس لیے پولس انتظامیہ کو چوکس کیا جائے اور زہریلے بیانات دینے والے گروہ اور کے سرغنہ کو گرفتار کیا جائے ۔جمعیۃ علماء ہند، دہلی پولس کمشنر کے اس بیان کو تعریف کی نگاہ سے دیکھتی ہے جس میں انھوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے ، لیکن محض بیان کافی نہیں ہے، بلکہ نفرت کی جڑ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو ملک کی راجدھانی میں ایسی حرکتیں انجام دے رہی ہے، اس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک بدنام ہو رہا ہے ۔جنتر منتر پر جوائنٹ پولس کمشنر اور ڈی سی پی سے ملاقات کے وقت بھی وفد نے اسی طرح کے خیالات پر گفتگو کی اور امید کا اظہار کیا کہ پولس ان عناصر کو کیفرکردار تک پہنچائے گی ، جوائنٹ کمشنر نے وفد کو یقین دلایا کہ سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ابھی فی الوقت اس ویڈیو کے سبھی پہلو کا جائزہ لیا جارہا ہے، نیز ایسے افراد پر ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے ۔جمعیۃ کے وفد میں جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ جناب محمد مبشر کارکن دفتر جمعیۃ علما ء ہند اور مولانا عظیم اللہ صدیقی بھی شامل تھے ۔