سٹیفن کنگ:دنیا کے مالدار ترین لکھاری کی سبق آموز کہانی – نایاب حسن

1974سے قبل تک عصرِ حاضر کا مشہور امریکی رائٹر سٹیفن کنگ (Stephen King،پیدایش:21ستمبر 1947) خستہ حال معاشی حالت میں اپنی بیوی تابیتا کنگ (Tabitha King )کے ساتھ زندگی گزارتا تھاـ اس کے پاس رہنے کا اپنا گھر تک نہیں تھاـ وہ خود بھی ناول نگار تھا اور اس کی بیوی بھی ناول لکھتی تھی ـ مگر اس لکھنے کا کچھ فائدہ نہیں تھا، بہت معمولی قیمتوں پر اپنی تخلیقات مختلف امریکی میگزینس کو بیچ کر کسی طرح وسائلِ معاش فراہم کرپاتا تھاـ اس کے پاس ایک پرانا ٹائپ رائٹر تھا جس پر وہ لکھا کرتا ـ اس نے ایک ناول لکھا Carrie ، مگر اسے خود وہ ناول پسند نہیں آیا؛ چنانچہ مسودے کو گھر کے کسی کونے میں ڈال دیاـ کچھ دنوں بعد جب اس کی بیوی گھر کی صفائی کررہی تھی تو کوڑے کے ڈھیر میں اسے وہ مسودہ بھی ملا، وہ اسے پڑھنے لگی، اسے اس کی کہانی اچھی لگی، پھر اس نے شوہر سے بتایا کہ اس کی کہانی تو بہت اچھی ہے، مگر سٹیفن کنگ ماننے کو تیار نہیں تھا، مشکل سے اس نے اسے اپنا ہم خیال بنایا اور اس ناول کی تکمیل پر آمادہ کیا؛ بلکہ اس کے بعض حصوں کو لکھنے میں اس کی مدد بھی کی، اس طرح سٹیفن کنگ نے اپنی بیوی کی مدد اور حوصلہ افزائی سے اس ناول کو مکمل کیا،اپنی بیوی کے تئیں اظہارِ ممنونیت کرتے ہوئے کتاب کو اسی سے منسوب کیا، پہلے صفحے پر لکھا:
This is for Tabby, who got me into it and then bailed me out of it.
(تابی کے نام،جس نے مجھے اس ناول میں منہمک کیا اور پھر اس سے باہر نکالا)
1974میں اسے کسی طرح شائع کروایا، یہ اس کی چھپنے والی پہلی کتاب تھی ـ کتاب چھپتے ہی اس کی دھوم مچ گئی، تیس ہزار نسخے چند دنوں میں نکل گئےـ اس پر ڈرامے اور فلمیں بھی بنائی گئیں ـ
اب حال یہ ہے کہ وہ ساٹھ سے زائد ناول، کہانیوں کا خالق ہے، انگریزی کا صفِ اول کا ناول نگار ہےـ ساڑھے تین سو ملین سے زیادہ اس کی کتابیں بک چکی ہیں، اس کی کہانیوں پر مبنی درجنوں فلمیں، ڈرامے بن چکے ہیں،ایک سے بڑھ کر ایک قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے اور یہ اس وقت دنیا کے مالدار ترین لکھاریوں میں سے ایک ہےـ ہر سال اسکول، تعلیمی اداروں اور لائبریریوں کو چار ملین ڈالرز کے چندے دیتا ہےـ اس کے علاوہ اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اس نے این جی او بھی بنا رکھا ہے، جس کے ذریعے ہر سال 2.8ملین ڈالرز رفاہی، سماجی و علمی سرگرمیوں پر صرف کرتا ہےـ
اس کی ز ندگی کے اس اہم ترین واقعے سے ہم ،خصوصاً وہ جو لکھتے ہیں ،مگر اپنے لکھے ہوئے کی اشاعت کا حوصلہ نہیں کرپاتے یا وہ خود اعتمادی کی کمی سے دوچار ہیں ،وہ اس عظیم رائٹر کی کامیابی کے نقطۂ آغاز سے سبق حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہاں البتہ تحریری زندگی میں کسی کی مخلصانہ حوصلہ افزائی بھی ضروری ہوتی ہے،جیسے کہ سٹیفن کنگ کو اس کی بیوی نے حوصلہ دیا ۔اسی طرح کوئی دوست، استاذ ،والدین یا کوئی بھی ایسا شخص جو آپ کی تحریری زندگی کے ابتدائی دنوں میں آپ کے جذبہ و شوق کو مہمیز کرے ،ایسے ایک شخص کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہاں البتہ لکھنا ہے تو اچھا لکھنا ہے؛بلکہ بہت اچھا لکھنا ہے اور بہت اچھا لکھنے کے لیے بہت زیادہ پڑھنا اولین شرط ہے۔ خود سٹیفن کنگ اپنی اس عظیم کامیابی کا راز مطالعۂ کتب کو قرار دیتا ہے،وہ پڑھتا ہے اور بے پناہ پڑھتا ہے، دن بھر میں پانچ گھنٹے مطالعہ کرنا اس کا معمول ہے اوروہ کسی بھی سچویشن میں مطالعہ کرنے کی حیرت ناک صلاحیت سے بہرہ ور ہےـ وہ راہ چلتے، گھومتے پھرتے ، حتی کہ بعض گیم کھیلنے کے دوران بھی مطالعہ کرتاہےـ کتابوں کے بارے میں اس کی رائے یہ ہے کہ ’’وہ چلتا پھرتا جادو ہیں‘‘۔ لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے اس کا کہنا ہے کہ’’اگر آپ کے پاس پڑھنے کا وقت نہیں ہے،تو سیدھی سی بات ہے کہ پھر آپ کے پاس لکھنے کا بھی وقت نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ایک جگہ لکھتا ہے’’کتابیں اپنے اندر چھپے سارے راز ہاے سربستہ ایک بار میں نہیں کھولتیں‘‘۔ یعنی یہ ایسے ہی ہے جیسے پروین شاکر نے کہا ہے:
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
توبہ کیجے،یہ پروین شاکر تولگ بھگ آؤٹ آف کنٹیکسٹ یاد آگئیں ۔ اس حوالے سے زیادہ مناسب عربی کا ایک مشہور مقولہ تو ذہن سے نکلا ہی جا رہا تھا’’العلم لا یعطیک بعضہ حتی تعطیہ کلک‘‘کہ علم تمھیں اپنا تھوڑا سا حصہ بھی نہیں دے گا،جب تک کہ تم اپنا کُل نہ اس کے سپرد کردو۔ یہ مقولہ جتنا مشہور ہے،اتنا ہی اس کے کہنے والے کا معاملہ مختلف فیہ ہے،میں نے تو اسے کہیں جاحظ کی طرف منسوب دیکھا ہے،کہیں امام ابویوسف سے منسوب کیا گیاہے،کہیں اس کا قائل ابراہیم بن سیار البصری کو قرار دیا گیا ہے ،تو کہیں بواسحاق الجوینی سے منسوب کیا گیا ہے،بہر حال بات بہت قیمتی اور جامع و مانع ہے۔
ایک موقعے پر سٹیفن کنگ لکھتا ہے’’اگر آپ لکھاری بننا چاہتے ہیں،تو آپ کو دو کام سب سے زیادہ اور سب سے بہتر کرنے ہوں گے:ایک پڑھنا اور دوسرے لکھنا‘‘۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*