قصہ ایک بزرگ قیدی کا-سہیل انجم

سچ بتائیں تو جب سے فاد راسٹن سوامی کی موت کی خبر ملی ہے دل بہت دکھی اور اداس ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملے پر کیسے اور کیسا رد عمل ظاہر کیا جائے۔ اپنے آپ کو مجرم مانا جائے یا پورے معاشرے کو۔ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے یا عدلیہ کو۔ تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کو قصوروار مانا جائے یا خود اسٹن سوامی کو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم کچھ بھی سمجھیں لیکن جس طرح اور جن حالات میں ان کی موت واقع ہوئی ہے وہ نہ صرف یہ کہ حکومت و عدلیہ بلکہ سماج اور ہندوستان کی صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت کے ورثے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ذرا سوچیے کہ ایک 84 سالہ بزرگ کو آٹھ ماہ سے جیل میں رکھا گیا اور اسے ضمانت حاصل کرنے کا مستحق نہیں سمجھا گیا۔ اور ایسے حالات میں جبکہ وہ پارکنسن یعنی رعشہ کا مریض ہے، جس کی یادداشت متواتر زوال پذیر ہے، جو خود سے نہ اٹھ سکتا ہے نہ چل سکتا ہے نہ کھا پی سکتا ہے، نہ نہا دھو سکتا ہے۔ وہ عدالت سے فریاد کر رہا ہے کہ وہ ایک بیمار شخص ہے اس کو علاج کرانے کے لیے عبوری ضمانت دی جائے۔ اگر اسے ضمانت نہیں دی گئی تو وہ مر جائے گا۔ اور حقیقتاً وہ مر جاتا ہے۔ حقیقی زندگی میں پیش آنے والا یہ واقعہ کتنا فلمی لگتا ہے۔
یہ کتنی کربناک صورت حال ہے کہ عدالتیں تاریخ پر تاریخ دے رہی ہیں اور اس بیمار شخص کو ضمانت دینے میں آنا کانی کر رہی ہیں اور پھر جب اس کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہوتی ہے تو اس کا وکیل عدالت اور جج کو یہ خبر دیتا ہے کہ اس کے موکل نے دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔ کیا اس خبر نے عدالت کے ضمیر کو کچوکے لگائے ہمیں نہیں معلوم۔ لیکن میڈیا رپورٹوں سے یہ ضرور معلوم ہوا کہ کس طرح اس شخص کے ساتھ ناانصافی کی گئی ۔ فاد راسٹن سوامی کو جب مہاراشٹر کے تلوجہ جیل میں ڈالا گیا تو انھوں نے جیل انتظامیہ سے کہا کہ وہ رعشہ کے مریض ہیں، ان کا ہاتھ کانپتا رہتا ہے، وہ ہاتھوں سے کھا پی نہیں سکتے، انھیں سیال چیزوں کے استعمال کے لیے سِپر یا اسٹرا یعنی پائپ دیا جائے تو جیل انتظامیہ خوف زدہ ہو جاتی ہے اور انھیں اسٹرا دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ اسٹن سوامی کو عدالت سے فریاد کرنی پڑتی ہے کہ انھیں اسٹرا دیا جائے تاکہ وہ سیال چیزوں کا استعمال کر سکیں۔ ذرا غور فرمائیں کہ عدالت اس پر گھنٹوں بحث کرتی ہے کہ اس بزرگ قیدی کو اسٹرا دیا جائے یا نہ دیا جائے۔ بہرحال بہت حیل و حجت کے بعد عدالت انھیں تین ہفتے کے لیے اسٹرا دینے کا حکم دیتی ہے۔ فادر کو کووڈ ہو گیا لیکن ان کا علاج نہیں کرایا گیا۔ انھیں بہت فریاد کے بعد ممبئی کے جے جے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ لیکن وہ وہاں کے علاج سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے جے اسپتال کی چھوٹی چھوٹی گولیاں ان کوٹھیک نہیں کر سکتیں۔ انھیں اپنے طور پر علاج کرانے کے لیے ضمانت دی جائے۔ لیکن عدالت ضمانت دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ وہ اس لیے انکار کر دیتی ہے کہ این آئی اے ضمانت کی مخالفت کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سوامی کی خرابی صحت کا کوئی پختہ طبی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جب ان کی حالت بہت زیادہ بگڑ جاتی ہے تو انھیں ممبئی کے پرائیویٹ ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ لیکن این آئی اے پھر سامنے آتی ہے اور کہتی ہے کہ پرائیویٹ میں کیوں سرکاری اسپتال میں کیوں نہیں۔ لیکن جب اسٹن سوامی ضد پر اڑ جاتے ہیں کہ وہ سرکاری اسپتال میں داخل ہونے کے بجائے مرجانا پسند کریں گے تب انھیں نجی اسپتال میں داخل کرایا جاتا ہے۔ لیکن تب تک بہت تاخیر ہو چکی ہوتی ہے۔ جسمانی قفس میں قید روحانی پرندہ اڑ جانے کے لیے بیتاب ہو جاتا ہے اور بالآخر وہ پیر کی دوپہر کو قفس کی تیلیاں توڑ کر آزا دہو جاتا ہے۔
فادر کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ سرسری طور پر اس کا جواب یہ ہے کہ این آئی اے نے ان پر ملک کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ا ن پر انسداد دہشت گردی کا قانون یو اے پی اے لگا یا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسٹن سوامی ماو نواز ہیں۔ ان کا تعلق ممنوعہ سی پی ایم (ماوسٹ) سے ہے اور انھوں نے ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش رچی تھی۔ ان کو بھیما کورے گاوں تشدد کیس میں ملزم بنایا جاتا ہے۔ یہ تشدد یکم جنوری 2018 کو ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس اور این آئی اے کا الزام ہے کہ اس سے ایک روز قبل پونے میں ایک پروگرام ہوا تھا جس میں کئی مقررین نے تقریریں کی تھیں اور ان تقریروں کی وجہ سے بھیما کورے گاوں میں فساد ہوا تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں سولہ افراد کو جن میں یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور انتہائی تعلیم یافتہ دانشور بھی شامل ہیں، گرفتار کر لیا اور ان پر ماونوازوں کے ساتھ ساز باز کا الزام لگایا۔ گرفتار شدگان میں فادر اسٹن سوامی ہی سب سے بزرگ تھے۔ ان کے علاوہ ورورا راو، سدھا بھاردواج اور گوتم نولکھا جیسے انسانی حقوق کے کارکن اور معمر افراد بھی شامل ہیں۔ فادر نے اپنے اوپر عاید تمام الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کا کسی بھی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پولیس اور این آئی اے الگ کہانی سناتی ہے اور انسانی حقوق کے کارکن کچھ اور بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فادر نے اپنی پوری زندگی جھارکھنڈ کے آدی واسیوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے وقف کر دی تھی۔ انھوں نے محروم طبقات کی لڑائی کو اپنا مقصد حیات بنا لیا تھا۔ جھارکھنڈ کے قدرتی وسائل کی کارپوریٹ کے ذریعے لوٹ کھسوٹ کے خلاف انھوں نے جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ اپنے وسائل پر اپنے حق کے لیے لڑنے والے بہت سے آدی واسیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کر دیا گیا تھا۔ سوامی نے ایسے لوگوں پر تحقیق کی اور ان کی رہائی کی کوششیں شروع کر دیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ ان کی کوششیں رنگ لاتیں انھیں خود جیل میں ڈال دیا گیا۔ جھارکھنڈ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی حکومت بننے کے بعد بہت سے آدی واسیوں کو جیلوں سے رہا کیا گیا ہے۔ بھیما کورے گاوں میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کے بعد جس کو یلغار پریشد کا نام دیا گیا تھا، پولیس نے کارروائی شروع کی تھی۔ جس وقت یہ کیس قائم کیا گیا مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیو سینا کی حکومت تھی۔ لیکن جب شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تو خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کیس کے ملزموں کو ضمانت مل جائے گی کیونکہ مبصرین کے مطابق ان کی گرفتاری کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی نظریاتی لڑائی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ لیکن اس سے پہلے کہ ریاست کی نئی حکومت کوئی کارروائی کرتی اس معاملے کی جانچ این آئی اے کے سپرد کر دی گئی۔ پولیس اور این آئی اے کی جانب سے ان لوگوں کو اربن نکسل یعنی شہری نکسل کہا گیا اور الزام لگایا گیا کہ وہ لوگ ملک میں اضطراب اور خلفشار پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا فادر اسٹن سوامی کا جرم اتنا سنگین تھا کہ ان کو ضمانت نہ دی جاتی۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ انھوں نے بہت سنگین جرم کیا تھا لیکن کیا اس ملک سے انسانیت بھی ختم ہو گئی ہے۔ کہاں ایک طرف انصاف کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے دہشت گردوں کے معاملات میں بھی کہیں آگے جا کر کارروائی کی جاتی ہے اور رات میں عدالتیں بیٹھ جاتی ہیں تاکہ ہندوستان کے نظام انصاف کی مثال دنیا کے سامنے پیش کی جا سکے اور یہ بتایا جا سکے کہ یہاں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی اور ہم تو بڑے بڑے مجرموں کو بھی تمام قانونی امکانات تلاش کرنے کے مواقع دیتے ہیں اور کہاں یہ بات کہ عدالتیں ایک بزرگ کو ضمانت نہیں دے پاتیں اور یہ کہتے ہوئے اٹھ جاتی ہیں کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔ کیا اس رویے سے سوالات پیدا نہیں ہوتے۔ اگر بہ فرض محال مان لیا جائے کہ اسٹن سوامی بہت بڑے مجرم تھے تب بھی کیا ایک معمر اور بیمار قیدی کے ساتھ رعایت نہیں کی جا سکتی۔ ہماری جیلوں میں تو یہ بھی ہوتا رہا ہے اور عدالتوں کے ذریعے ہوتا رہا ہے کہ بہت سے قیدیوں کو ان کے حسن سلوک کی وجہ سے سزا مکمل ہونے سے قبل ہی رہا کر دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک بوڑھا شخص کسی بھی قسم کی رعایت کا حقدار نہیں ٹھہرتا۔ ضمانت تو ایسے لوگوں کو نہیں دی جاتی جن کے بارے میں یہ خدشہ ہو کہ وہ ملک سے بھاگ جائیں گے۔ گواہوں کو متاثر کریں گے۔ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کریں گے۔ لیکن کیا ایک ایسا شخص جو کہ متعدد عوارض میں مبتلا ہو اور جسے اپنے علاج معالجے کے علاوہ کسی بات کی فکر نہ ہو وہ یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ سوالات بہت سے ہیں لیکن توقع ہے کہ ان کے جواب نہیں ملیں گے۔ یلغار پریشد کیس میں ایک ملزم گوتم نولکھا بھی ہیں۔ وہ بھی معمر یعنی ستر سال کے ہیں۔ اگر فادر کو اسٹرا کے لیے قانونی جنگ لڑنی پڑی تو نولکھا کو چشمے کے لیے عدلیہ سے فریاد کرنی پڑی۔ 27 نومبر 2020 کو جیل میں نولکھا کا چشمہ چوری ہو گیا تھا جس پر ان کی اہلیہ نے ایک جوڑی چشمہ پارسل کیا لیکن جیل انتظامیہ نے پارسل قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے عدالت سے رجوع کیا تو این آئی نے انھیں چشمہ دینے کی مخالفت کی۔ آٹھ دسمبر 2020 کو بامبے ہائی کورٹ نے اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ این آئی اے کے نزدیک اسٹرا اور چشمہ بھی ہتھیار سے کم نہیں کہ پتہ نہیں وہ ان کا کس طرح استعمال کر لیں۔
اسٹن سوامی کی موت پر ملک میں احتجاج تو ہو ہی رہا ہے اقوام متحدہ، یوروپی یونین اور امریکہ میں بھی احتجاج ہوا ہے۔ ادھر کانگریس صدر سونیا گاندھی اور این سی پی صدر شرد پوار سمیت دس اپوزیشن رہنماوں نے صدر کے نام ایک مکتوب میں سوامی کے خلاف مبینہ طور پر فرضی الزام لگانے کی مذمت کی ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ممبئی میں مسیحی برادری نے خاموش احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ فادر کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے وضاحت کی ہے کہ اسٹن سوامی کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے اور اگر ضمانت نہیں دی گئی تو وہ بھی قانون کے مطابق کارروائی تھی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں انتظامیہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیتی ہے نہ کہ اختیارات کا جائز استعمال کرنے والوں کے خلاف۔ حکومت کے اس بیان پر ہم کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے قارئین خود اس بارے میں اپنی رائے قائم کریں۔