سری لنکا میں بھی ’اسلاموفوبیا‘کا جن باہر ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

سوئزر لینڈ کے بعد سری لنکا میں بھی ’اسلاموفوبیا‘ کے جن نے اپنے بھیانک چہرے کو عیاں کردیا ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی سوئزر لینڈ میں ’برقعہ‘ پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اب سری لنکا میں بھی ’برقعہ‘ پر پابندی عائد کی کارروائی تیز کردی گئی ہے۔ ’برقعہ‘ پر صرف پابندی ہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک ہزار سے زائد مدارس اور اقلیتی اسکولوں کو بھی بند کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ یوروپ کے سات ممالک جرمنی، آسٹریا، ڈنمارک، فرانس، بلیجیئم ، لٹویا اوربلغاریہ پہلے ہی ’برقعہ‘ پر پابندی عائد کرچکے ہیں۔ سوئزر لینڈ بھی اب ان سات ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگیا ہے۔ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں صرف تعلیمی اداروں میں ’حجاب‘یا ’برقعہ‘ پہننے پر پابندی ہے جبکہ کچھ ملکوں میں پابندی تو نہیں لیکن ’حجاب‘ میں نظر آنے والی خواتین پر نسلی اور مذہبی پھبتیاں کسی جاتی ہیں۔ ایشیاء میں بہت کم ملکوں میں ’حجاب‘ مسئلہ ہے۔ ہندوستان میں حالانکہ بی جے پی کی ’ہندوتو ا‘نظریات والی حکومت ہے مگر یہاں ’حجاب‘ کا مسئلہ بظاہر نظر نہیں آتا ۔۔۔۔مگر اب سری لنکا نے ’برقعے‘ پر پابندی کےلیے کارروائی شروع کرکے ایشیائی ممالک میں بھی ’برقعے‘ کے سلسلے میں کٹر پرستی کو فروغ دینے کی سمت قدم اُٹھایا ہے۔ پابندی لگانے کی وجہ کیا ہے، آج تک اس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب سامنے نہیں آیا ہے، بس کوئی ’برقعے‘ کو ’دہشت گردی‘ سے جوڑتا ہے تو کوئی اسے خواتین کی ’آزادی‘ کو چھیننے کا عمل قرار دیتا ہے۔ اور کوئی کہتا ہے کہ یہ ’قدامت پسندی‘ ہے۔ ایسا کہنے والے صرف یوروپی اور امریکی ہی نہیں ہیں خود مسلمان بھی ہیں اور اچھی خاصی تعداد میں ہیں، بلکہ اب تو وہ ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے بھی خوب تیز تیز لگانے لگے ہیں۔ مجھے بہرحال یہ نہیں لگتا کہ ’برقعہ‘ یا ’حجاب‘ کسی بھی طرح سے خواتین کی ’آزادی‘ کو چھینتا ہے یا اس کا کوئی تعلق ’دہشت گردی‘ یا ’قدامت پسندی‘ سے ہے۔ دہشت گردی تو کھلے منہ بھی ہوتی ہے! ’برقعہ‘ پہن کر دہشت گردی کے واقعات کتنے سامنے آئے ہیں کیا کوئی بتا سکتا ہے؟ دہشت گردی تو کوٹ او رپینٹ پہننے والے بھی کرتے ہیں، سرپر ہیٹ رکھنے والے بھی، تو کیا ان سب پر پابندیاں عائد کردی جائیں؟ رہی بات ’قدامت پرستی‘ کی یا ’آزادی‘ سے محرومی کی تو عام طور پر وہ خواتین جو ’برقعہ‘ پہنتی ہیں خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ حرکت ’اسلام دشمنی‘ کی بناء پر کی جارہی ہے، اس کے پس پشت اور کچھ نہیں ہے۔ سری لنکا بھی ان دنوں اسلام دشمنی میں پاگل ہورہا ہے، وہاں مسلمانوں کو تدفین کےلیے بڑی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ مدارس وہاں اسلام کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں لیکن کوشش ہے کہ انہیں بند کردیاجائے۔ نائن الیون کے بعدامریکہ کے ایک ہفت روزہ ’نیوز ویک‘ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ امریکہ کی ایک خاتون میجر جنرل نے مسلمان قیدیوں کے سامنے قرآن پاک کو ٹھڈے مارے، قرآن پاک کے اوراق پھاڑے اور قیدیوں کے سامنے وہ اوراق بطور ٹشو پیپر استعمال کیے اور انہیں فلش کردیا۔ کیا یہ عمل کسی مہذب سماج کا مہذب عمل کہلائے گا؟ اسے اسلام دشمنی کے سوا اور کیا کہاجاسکتا ہے؟ تو آج کل یہی ہورہا ہے، لوگ اسلام دشمنی میں اندھے ہورہے ہیں اورایسے لوگوں میں وسیم رضوی جیسے بھی شامل ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)