Home قومی خبریں شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی کے زیر اہتمام ہندی غزل اور ہندی کویتا کے عنوانات سے خصوصی لکچرز کا انعقاد

شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی کے زیر اہتمام ہندی غزل اور ہندی کویتا کے عنوانات سے خصوصی لکچرز کا انعقاد

by قندیل

اردو شاعری کا مرکزانسان کا دل ہے اور ہندی کویتا کامرکز انسان ہے: خورشید اکرم

ہندی غزل کو اردوغزل کے سخت معیارات پر پرکھنا نامناسب:نعمان شوق

نئی دہلی: شعبہ ٔ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی کے زیر اہتمام ہندی غزل اور ہندی کویتا کے عنوانات سے خصوصی لکچرز کا انعقادکیا گیا۔معروف شاعر نعمان شوق نے ہندی غزل پر اور معروف شاعر، افسانہ نگار اور مترجم خورشید اکرم نے ہندی کویتا پر خطبات پیش کیے۔

ہندی غزل کے عنوان پر خطبہ دیتے ہوئے نعمان شوق نے کہا کہ جب کوئی صنف بنیادی طور پر ایک زبان سے دوسری زبان کی طرف منتقل ہوتی ہے تو اس کے روپ رنگ میں فرق آ جاتا ہے۔ہندی غزل کے ساتھ بھی یہی ہواہندی غزلیہ شاعری کے بڑے ناموں میں سے بیشترنے اردو غزل سے استفادہ کیا مگر زبان کو اپنے انداز سے برتا ،ہندی غزل پر ایک بڑا اعتراض ہوتا ہے کہ اس میں موزونیت کو ترجیح نہیں دی جاتی یا زبان کا وہ معیار نہیں جو اردو غزل کا ہے۔ ان اعترضات کو رد کرتے ہوئے نعمان شوق نے کہا کہ ہندی کے شاعر ہندی میں غزل کہہ رہے ہیںجنہیں اردو غزل کے سخت معیارات پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ اپنی سہولت کے حساب سے الفاظ استعمال کرنے کا حق سبھی کو ہے ہندی کے غزل گو شعرا کو بھی یہ آزادی ملنی چاہیے۔
اردو کے برخلاف ہندی غزل روایت کے بوجھ سے آزاد ہے۔نعمان شوق نے عہدِ حاضر میں ہندی کے کئی اہم غزل گو شعرا کے بہترین اشعار کی مثالوں سے گفتگو کو دلچسپ بنا دیا۔
ہندی کویتا کے عنوان پر خطبہ دیتے ہوئے معروف فکشن نگار، ناقد اور صحافی جناب خورشید اکرم نے کہا کہ اردو نظم اور ہندی کویتا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اردو نظم کا تصور غزل سے آیا ہے۔ اورنظم نے غزل سے استفادہ کا یہ سلسلہ برقرار رکھا ہے ۔اسی لیے نثری نظم کو قبول کرنے میںہمیں اب تک تعملہے ۔
خسرو ،کبیر اور تلسی وغیرہ کی جس روایت کو اہل اردو نے کبھی قبول نہیں کیا ہندی کویتا نے اس کے ساتھ اپنا رشتہ استوار رکھا،ہندی والوں نے ہندوی کی روایت سے استفادہ کیااورکھڑی بولی اور لوک ادب کی زبان کو فکشن اور کہانی کی طرح شاعری کے لیے بھی استعمال کیا انہوں نے مزید کہا کہ اردو شاعری کا بڑا حصہ احساسات پر منحصر ہے جبکہ ہندی شاعری ان نزاکتوں کے آس پاس نہیں گئی ،بلکہ اس نے زندگی کو عام آدمی کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پربھات رنجن نے کہا کہہ ہندی میں کویتا اور غزل دونوں کہی گئی ،ہندی کویتا میں سیاسی رنگ غالب رہا ہے لیکن اب ہندی کویتا احساس کی طرف لوٹ رہی ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی نسل کے لیے ہندی اور اردو غزل میں کوئی خاص فرق نہیں ہے
مہمان خصوصی ،ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر امیتابھ چکرورتی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ شعبہ اردو کے اس اہم پروگرام میں شرکت کرکے بے حد خوشی ہوئی،بنگالی زبان میں اردو شاعری کے ترجمے بہت زیادہ ہوئے ہیں ۔
صدر شعبہ ٔ اردو دہلی یونیورسٹی پروفیسر نجمہ رحمانی نے مقرررین ،صدراور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس موضوع کے انتخاب کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ
ہم چاہتے ہیں ہندی کے نامور ادبا اور شعرا کے بارے میں ہمارے طلبا کو بھی معلومات ہو اور وہ مرکزی دھارے کاحصہ بنیں ہمیں اردو کے ساتھ دوسری علاقائی زبانوں سے بھی استفادہ کی ضررورت ہے جس کی ابتدا ہم ہندی کویتا اور ہندی غزل کے موضوع پر ان خطبات کے انعقاد سے کر رہے ہیں۔
پروگرام کی صدارت ڈاکٹر پربھات رنجن (ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ہندی، ذاکر حسین دہلی کالج،شبینہ )اور نظامت ڈاکٹر ارشاد نیازی استاد شعبہ ٔاردو دہلی یونیورسٹی نے کی۔
پروگرام کے آغاز سے قبل نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد نیازی نے اس خصوصی لکچرز کے مقررین نعمان شوق ، خورشید اکرم اور صدرمجلس ڈاکٹر پربھات رنجن کاتفصیلی تعارف کرایا۔
اس موقع پر شعبہ اردو کے اساتذہ میں پروفیسر ارجمند آرا،ڈاکٹر متھن کمار، پروفیسر مظہر احمد، ڈاکٹر ناصرہ سلطانہ،ڈاکٹر فرحت کمال، ڈاکٹر شاہ فہد نسیم، ڈاکٹر سنیل کماروغیرہ کثیر تعداد میں ریسرچ اسکالرز ،
طلبا و طالبات موجود رہے ۔

You may also like

Leave a Comment