اردو یونیورسٹی میں کتاب مودی @ 20 پر خصوصی لیکچر

حیدرآباد (پریس نوٹ): ”ہم متعدد شناختوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ لیکن ہماری قومی شناخت کہاں کھوگئی؟ تنقید کرنا بہت آسان ہے لیکن تعمیری تنقید بہت مشکل۔ بے بنیاد الزامات کی یہ سیاست ختم ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم مودی غریب اور حاشیہ بردار گروہوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔ “ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اے کے ورما، ڈائرکٹر، سنٹر فار دی اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ پالیٹکس، کانپور نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں یو جی سی مرکز برائے فروغِ انسانی وسائل کے زیر اہتمام ”کتاب ’مودی @ 20 : وین ڈریمس میٹ ڈیلیوری‘ پر ایک جداگانہ نقطہ نظر“ کے زیر عنوان خصوصی لیکچر دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے صدارت کی۔
ڈاکٹر ورما نے کہا کہ مسائل کی کمی نہیں۔ لیکن وزیر اعظم عام آدمی کے لیے امیدیں پیدا کر رہے ہیں۔
پروفیسر سید عین الحسن نے صدارتی خطاب میں کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی ہنر پر مبنی اور عوام مرکوز ہے۔ ان کا تعلق بھی پارلیمنٹ کے حلقہ وارانسی سے ہے جس کی نمائندگی وزیر اعظم کرتے ہیں۔ پروفیسر تحسین بلگرامی، ڈائرکٹر مرکز نے کہا کہ کتاب میں حالیہ برسوں میں ہوئی تبدیلیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر یو جی سی – ایچ آر ڈی سی کے زیر اہتمام کمپیوٹر سائنس و آئی ٹی پر 2 ہفتے طویل ریفریشر کورس کا اختتام بھی عمل میں آیا۔ اس میں تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک کے اساتذہ نے حصہ لیا۔
نظم و نسق عامہ و سیاسیات کے ریفریشر کورس کا کل اختتامی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ پروفیسر متیا مرلی دھر، پرنسپل آف کالج آف آرٹ، وینکٹیشورا یونیورسٹی، تروپتی اختتامی اجلاس میں مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی بقاءکے لیے سماجی علوم کی ضرورت ہے۔ پروفیسر افروز عالم، صدر شعبہ سیاسیات نے کہا کہ نامور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بحیثیت ریسورس پرسن مدعو کیا گیا تاکہ قومی و بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال ہو۔ جناب روی کمار ارالی، اسسٹنٹ پروفیسر ، گورنمنٹ کالج وجئے پور، کرناٹک نے کہا کہ ہمیں یہاں ایک دوسرے سے بحث و مباحثہ کا موقع ملا جو آن لائن طریقہ میں ممکن نہیں تھا۔ ریفریشر کورس میں تلنگانہ، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، اور مغربی بنگال کے شرکاءنے حصہ لیا۔ حالیہ سروے میں اردو یونیورسٹی کے یو جی سی -ایچ آر ڈی سی کو ملک بھر میں تیسرا مقام حاصل ہوا ہے۔