اسپیکرکے عہدے پربی جے پی کادعویٰ،نتیش کمارچھوڑنے کو تیارنہیں

پٹنہ:این ڈی اے میں اسپیکرکے عہدہ کے لیے کھینچاتانی جاری ہے۔بی جے پی دبائوبناکریہ عہدہ لیناچاہتی ہے۔اندازہ ہے کہ اگرآئند ہ حکومت میں عدم استحکام ہوتاہے توبی جے پی اس عہدہ کواستعمال کرے گی،نتیش کماراسے چھوڑنے کے لیے راضی نہیں ہیں ۔وہ ان چیزوں کوسمجھ رہے ہیں اوراس لیے بھی کہ بی جے پی کے پاس گورنراورقانون سازکونسل کے صدرکے دواہم آئینی عہدے ہیں۔نتیش کمار چاہتے ہیں کہ بہار اسمبلی کے اسپیکر وجے کمارچودھری رہیں۔ دوسری طرف این ڈی اے میں بڑے بھائی بننے کے بعدبی جے پی کی خواہش ہے کہ قانون ساز اسمبلی کا اسپیکر بی جے پی کالیڈربن جائے۔ وجے کمارچودھری نتیش کمار کا خاص انتخاب ہیں کیونکہ وہ پارٹی کے پرانے سپاہی ہیں۔ چودھری روایتی سیاست کاچہرہ ، باشعوراور وفادار حلیف ہیں۔وجے کمار چودھری کوجے ڈی یوکاریاستی صدر بنایا گیا تھا۔ جب للن سنگھ ریاستی صدرتھے توچودھری پرنسپل جنرل سکریٹری تھے۔ نتیش کمار ، باقی حکمرانوں کی طرح اپنے انتہائی قابل اعتمادلوگوں کو اپنے ارد گرد مضبوط کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ اس سے حکومت کرنے میں مددملتی ہے۔ جب بھی نتیش کمار کو مشورے کی ضرورت پڑتی ، چودھری پارٹی میں صحیح مشورے دینے جاتے تھے۔ انہیں قانون سازی کے عمل کے بارے میں معلومات ہیں اور وہ ہر طرح کی پیچیدگیوں سے واقف ہیں ، جس سے وہ وقتاََفوقتا پارٹی اور حکومت کو بچاتے رہے ہیں۔جے ڈی یوکے ریاستی صدرکے بعد ، اگر کوئی دوسرا اسمبلی کا صدر بن جاتاہے توبہت مشکل ہوگی ۔چودھری نے نچلی سطح کے کارکنوں کے ساتھ براہ راست بات چیت جاری رکھی ہے۔ انہوں نے جے ڈی یومیں جیتن رام مانجھی کی دوبارہ شمولیت میں بھی کردار ادا کیا۔ ریاست کے پاس تین بڑی آئینی کرسیاں ہیں: گورنر ، قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اور قانون ساز کونسل کے چیئرمین۔ فی الحال ، گورنرفاگوسنگھ چوہان کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ کا تعلق بھی بی جے پی سے ہے۔ اگریہ کرسی بھی جے ڈی یو کے ہاتھ سے چلی گئی تو نتیش کمار کو سیاسی طور پر گھیرنا آسان ہوگا۔