سو نیا بوٹیک(افسانہ)-ڈاکٹرپرویز شہریار

 

’’سونیا بیٹی!‘‘

’’لاؤ، وہ بیس ہزار روپے مجھے دے دو۔‘‘ سونیا کے سوتیلے باپ نے اُسے پیار سے پھُسلاتے ہوئے کہا۔لیکن سونیا جانتی تھی کہ اُس کا سوتیلا باپ اس وقت بھی شراب کے نشے میں دُھت ہے۔ وہ جب بھی نشے میں ہوتا، اُس کی ماں کو کسی نہ کسی بہانے سے ضرور پیٹا کرتا تھا۔سونیا چھ سال کی عمر سے یہ تماشہ دیکھتی آرہی تھی۔اس کے اپنے سگے باپ کی موت کوئلے کی کان میں اچانک پانی بھر جانے کی وجہ سے ہو گئی تھی۔سونیا کے باپ نے مرنے سے پہلے ا س کے جہیز کے لیے بیس ہزار روپے اس کے نام کر رکھے تھے۔ماں کے آنسو ابھی سوکھے بھی نہ تھے کہ اس کی دوسری شادی کردی گئی تھی۔اس کے سوتیلے باپ نے چند ہی مہینوں بعداُن بیس ہزار روپیوں کی مانگ شروع کر دی تھی۔ نہ دینے پر سونیا کی پڑھائی چھڑا دی گئی تھی۔ تب وہ چھٹی کلاس میں پڑھ رہی تھی۔لیکن وہ تو بھلا ہو اُس این جی او والی سُنیتا میڈم کاجس نے اسے محلے کے چند اور بچوں کے ساتھ پڑھنے کی ترغیب دی اور اُسے نیشنل انسٹی چیوٹ آف اوپن اسکولینگ سے دسویں کلاس کے بورڈ میں بیٹھنے کی صلاح دی۔اِس طرح دوسال کی کڑی محنت اور لگن سے اُس نے اپنے سارے پرچوں کے امتحان پاس کر لیے تھے۔وہ دن ہے اور آج کا دن۔ بارہ سال اس نے کتنے ظلم سہے ہیں یہ اس کا دل ہی جانتا تھا۔یہ ساری باتیں اس کے ذہن میںایک سیکنڈ میں گھوم گئیں۔

’’نا باپونا!‘‘

’’یہ روپے میں تمہیں نہیں دوںگی۔‘‘

’’ارے پگلی!‘‘

’’میں تجھے تیرے سارے روپے پائی پائی کرکے چکا دوں گا، تیری شادی کے وقت‘‘

سوتیلے باپ نے اسے حسب ِ معمول ایک بار پھر پھُسلانے کی کوشش کی۔

سونیا جانتی تھی۔یہ سب اس کا دکھاوا ہے۔ابھی تھوڑی ہی دیر میں وہ گالی گلوچ پر اُتر آئے گا اور اسے ڈرانے دھمکانے کے لیے ماں کو پیٹنا شروع کر دے گا۔ یہ اُس کے گھر میں آئے دن کا معمول بن چکا تھا۔جب بھی وہ جوئے میں ہار جاتا،اُس دن وہ شراب پی کر آتا اور ماں بیٹی کے ساتھ بد تمیزیاں کیا کرتا تھا۔مگر آج سونیا نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ اسے روپے ہرگز نہیں دے گی۔بلکہ اب وہ اُس سے ڈرے گی بھی نہیں۔کیونکہ اب وہ دسویں کلاس پاس کر چکی ہے۔ اسے سُنیتا میڈم کی بات یاد آگئی۔

18سال کی عمر میں لڑکی سیانی ہوجاتی ہے ۔اس کے ساتھ کوئی من مانی نہیں کرسکتا۔قانون بھی اس بالغ لڑکی کے فیصلے کی قدر کرتا ہے۔‘‘

سونیا نے سوچا۔

’’اب وہ نابالغ نہیں ہے۔ اپنا برا بھلا خود سوچ سکتی ہے۔ اپنے فیصلے خود کرسکتی ہے۔‘‘ وہ جاگتی آنکھوں سے سپنے دیکھنے لگی۔

’’بچپن میں طے کیے گئے شادی کے رشتے کو وہ نہیں مانتی۔‘‘ اس نے قدر ے چیختے ہوئے اپنے فیصلے کا اعلان کردیا۔ پس منظر سے اس کے سوتیلے باپ کی گالی گلوچ کی آوازیں اس کے کان میں متواتر ہتھوڑے برسا رہی تھیں۔ لیکن آج اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اگر آج اسے کچھ سمجھ آرہا تھا تو صرف اتنا کہ اس کے برے دن بیت چکے تھے اور سنہرا مستقبل اسے بہت قریب سے آواز دے رہا تھا۔ اسے بانہیں پھیلائے اپنی طرف بلارہا تھا۔ وہ آج سب کچھ بھول کر ان سنہرے سپنوں میں کھوجانا چاہتی تھی۔

وہ اپنی زندگی، خود اپنی مرضی سے جینا چاہتی تھی۔

اسے اپنا جیون ساتھی خود چننا تھا۔ اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جب تک وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوجاتی وہ شادی نہیں کرے گی۔ وہ ایک بار پھر اپنی ماں کی کہانی دہرانا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اپنی دنیا خود آباد کرنا چاہتی تھی۔ اسے ایک نئی دنیا کی تلاش تھی۔ جہاں اس کی سوچ پر کسی اور کا پہرہ نہ ہو۔ جہاں وہ کھل کر جی سکے، جہاں وہ کھلی فضا میں سانس لے سکے۔

اسے معلوم تھا کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کو شراب کی لت سے کوئی بچا نہیںسکتا۔ شراب کی عادت سے اگر کوئی نہیں بچاسکتا۔ جہاں مزدور کی محنت کا پورا حق نہیں ملتا۔ وہ جیتے جی موت کے منھ میں چلا جاتا ہے۔ اس کا منگیتر ایک مزدور کا بیٹا اور خود بھی کوئلے کی کان میں کان کنی کرنے والا مزدور تھا۔

اچانک روتی بلکتی ہوئی اس کی ماں کی آواز نے اسے چونکا دیا۔

’’ارے ابھاگن! اگر تو شادی بھی نہیں کرے گی تو ان روپیوں سے آخر کرے گی کیا؟ کیا تو چاہتی ہے کہ تیرا باپو مارتے مارتے مجھے جان سے مارڈالے؟ ان روپیوں سے کیا تو میرا گورکفن کرے گی—؟‘‘

سونیا نے یکایک اپنی ماں پر اٹھے ہوئے سوتیلے باپ کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا۔ ’’بس باپو! بس بہت ہوچکا اور ایک بھی ہاتھ اٹھایا، ماں پر تو ہم برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

آج تو سونیا کے تیور ہی کچھ اور تھے۔ اس نے اپنے سوتیلے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا۔

’’عورت پر ہاتھ اٹھانا کہاں کی مردانگی ہے؟‘‘

سونیا کے سوتیلے باپ کو آچ پہلی بار اتنا کرارا جھٹکا لگاتھا۔ وہ بھیگی بلی کی طرح ایک کونے میں دُم دباکر بیٹھ گیا۔

ساتھ ہی سونیا کو آج پہلی بار اپنے اندر اتنی بے خوفی اور طاقت محسوس ہوئی تھی۔ وہ حیران تھی کہ آج اس کے اندر یہ تبدیلی، یہ شکتی اچانک کہاں سے آگئی تھی۔

سونیا کو محسوس ہورہا تھا گویا این جی او والی سنیتا میڈم اس کی پیٹھ پر کھڑی ہے اور وہ غصے کے عالم میں بولتی ہی چلی جارہی ہے۔

’’مرد تو وہ ہوتے ہیں جو اپنی بیوی بیٹیوں کی دل سے عزت کرتے ہیں۔ان پر ہاتھ نہیں اٹھاتے ہیں، ان سے روپے نہیں مانگتے ہیں، سمجھے؟‘‘

اس واقعہ سے چند ہی ہفتوں بعد لوگ باگ بھیڑ لگاکر اس کے چھوٹے سے مکان کے سامنے کھڑے تھے۔ آج اس کے گھرمیںمعمول کے برخلاف تماشہ ہی کچھ اور تھا۔

رنگ و روغن سے سجے کمرے میں دوچمچماتی ہوئی سیلائی مشینیں رکھی تھیں اور کھپریل کی چھت سے لگی سیڑھی پر اس کا سوتیلا باپ کھڑا سائن بورڈ لگارہا تھا۔ جس پر جلی حروف میں لکھا تھا۔

’’ سونیا بوٹیک‘‘

اور ٹھیک اس کے نیچے لکھا تھا۔ یہاں شلوارقمیض اور کرتے سستے داموں میں سلے جاتے ہیں۔

ہاں! سونیا آج بہت خوش تھی۔ اس دونوں شانوں پر کپڑے ناپنے کا فیتہ پڑا ہوا میں لہرارہا تھا اور این جی او والی سنیتا میڈم ہاتھ میں قینچی لیے دکان کی اُدگھاٹن کے لیے ربن کاٹنے کو تیار کھڑی تھی۔

  • Faisal Hashmi
    12 ستمبر, 2020 at 21:34

    اچھا افسانہ ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہے۔ جب ان کے یہاں گور کفن نہیں ہوتا تو اس کی ماں گور کفن والا محاورہ کیوں بولی؟ کریا کرم بول دیتی۔

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*