صوفی و ملاملوکیت کے بندے ہیں تمام-نور اللہ جاوید

جی ہاں میری بنیادی تعلیم مدرسہ سے ہوئی ہے اور میں ایشیا کی عظیم درس گاہ دارلعلوم دیوبندکا فیض یافتہ ہوں اورعصری درسگاہوں میں بھی شعو ر و آگہی کی منزلیں طے کی ہیں اوران درس گاہوں نے مجھے وسعت نظری اور فکری اعتدال اورپاکیزگی عطاکی ہے۔لیکن نسبت فروشی کی دوکان آراستہ کرکے نقد عزت و شرف کے حصول میں یقین نہیں رکھتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ اسلام نے ساری نسبتوں اور امتیازوں کو مٹاکر بنی نوع انساں کو جو ایک نسبت عطا کی ہے،اس نسبت سے بڑھ کر دنیا کی کوئی اور نسبت نہیں ہوسکتی ہے۔یہی وہ نسبت ہے جس کی تلاش ہر ایک مسلمان کو ہونی چاہیے۔ایک انسان کیلئے معیار شرف ’جوہر ذاتی‘ اور اپنا حاصل کردہ ’علم و عمل‘ ہوتا ہے۔ اسلاف کی روایات پارینہ اورنسبت کا غرور باطل ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ آج میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں؟ اس کی ضرورت ہی کیوں آن پڑی ہے؟در اصل حالیہ دنوں میں میرے کچھ مضامین اور سوشل میڈیا پر کچھ تبصروں کو بنیاد پر کچھ لوگ میر ے خلاف مہم چلارہے ہیں اور یہ باور کرارہے ہیں کہ مدرسہ کا فیض یافتہ ہونے کے باوجود علمائے کرام کی توہین کرکے نمک حرامی کررہا ہوں، مدعیان علم و مشیخت اور زہد فروشان سجادۂ طریقت کی غلط کاریوں پر انگلیاں اٹھا کر گناہ عظیم کا ارتکاب کررہا ہوں۔حد تو اس وقت ہوگئی جب ایک”علامۂ وقت“ نے بدلہ لینے کیلئے ایک صاحب کو گالی گلوج اور دھمکی دینے پر مامور کردیا۔سرراہ گالیاں سننے کے بعد میں صبر کرگیا۔اس طرح کی باتیں کوئی نئی نہیں ہیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور سچ بولنا کوئی آسان کام بھی نہیں ہے۔سچ بولنے کی قیمت تو چکانی پڑتی ہے۔جولوگ سچ بولتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی قیمت نہیں چکانی ہوگی تو وہ تاریخ سے نابلد ہیں۔اس لئے اس طرح کی مہم سے نہ ماضی میں گھبرایا ہوں اور نہ مستقبل میں گھبرانے والا ہوں۔
مگر ان دنوں عظمت و تقدس کے جو بت تراشے جارہے ہیں۔وہ انتہائی خطرناک ہے۔ فکری گمراہی اورجمود طاری کرکے بھگتی کا سبق پڑھایا جارہا ہے کہ علمائے کرام معصوم عن الخطا ہیں، ان کے کسی بھی قول و عمل پر شبہ کا اظہار کرنا تو دوران کے مقابل میں کوئی مشورہ دینابھی گناہِ عظیم ہے۔ برہمنیت اور پوپ ازم کو رائج کیا جارہا ہے۔ در اصل ایک طرف مذہب کے دوکاندار ہیں جنہوں نے جہل و تقلید اور تعصب وہواپرستی کو مذہب کا نام دے رکھا ہے تو دوسری طرف روشن خیالی وتحقیق جدید کے عقل فروشوں نے الحاد و بے دینی کو حکمت واجتہاد کے لباسِ فریب سے سنواررکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں غلط ہیں۔بقول مولانا آزاد ”نہ مدرسہ میں علم ہے، نہ محراب مسجد میں اخلاص،نہ مے کدہ میں رندان بے ریا۔ ارباب صدق وصفا ان سب سے الگ ہیں اور سب سے پناہ مانگتے ہیں ان کی راہ دوسری ہے“۔فریبِ عقل اور فتنۂ دانش و آزادی“ کے علم برداروں نے جو گند مچائی ہے اس سے کہیں زیادہ ”تسبیحِ زور اور خرقۂ ثالوث“ نے اسلام کے آفاقی پیغام کو مسخ کیا ہے۔خدائے واحد کی عبادت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی دعوت دینے کے بجائے شخصیت پرستی اور اندھ بھگتی اس طرح پھیلائی جارہی ہے کہ گویا حضرت کی شخصیت ہی دین بن گئی ہے۔
یقینا علمائے کرام قابل قدر ہیں، آج جو اسلام ہم تک پہنچا ہے وہ ان حضرات کی سعی جمیلہ کی مرہون منت ہے۔ان کی قربانیوں کی پوری تاریخ ہے۔ہردور میں علمائے کرام اور صوفیائے عظام کی ایک ایسی جماعت رہی ہے جس نے بے خوفی سے حکمرانوں کی غلط کاریوں اور باطل قوتوں کا مقابلہ کیا ہے مگر تاریخ میں علما کی ایک ایسی جماعت بھی ملے گی جس نے حق وصداقت کا ساتھ دینے کے بجائے حکمرانوں کی اطاعت کو ہی دین بنایا۔صدق و صفا کے پیکر علمائے حق کی راہوں میں ایسی ایسی رکاوٹیں کھڑی کی ہیں کہ ان کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہرعہد اور ہردور میں جس قدر بربادیاں ہوئی ہیں، علما کے اسی طبقے کے ہاتھوں ہوئی ہیں اور اسی جماعت کو علمائے سو کہا جاتا ہے۔جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو تیسری صدی ہجری سے لے کر آج تک اس طبقے کے جبراور مشیخت فروشی کی پوری تاریخ نگاہوں کے سامنے ہے۔تیسری صدی ہجری کے اوائل میں جب خلق قرآن کا فتنہ کھڑا ہوا تو اس وقت اساطین علم و فن و اکابر فضل وکمال کی ایک پوری جماعت موجود تھی خود بغداد اہل سنت علما کا مرکز تھا، مگر عزیمت و دعوت،قیام حق و ہدایت فی الارض صرف ایک ہی شخص کے حصے میں آیا وہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تھے۔اس وقت علمائے حق کیلئے دوہی راستے تھے اصحاب بدعت کے سامنے سرجھکاکرمسئلۂ خلق قرآن پر حکومت کے موقف کی تائید کریں یا پھر قید خانے میں رہ کر ہر روز ہزاروں کوڑوں سے پیٹا جانا قبول کرلیں۔اس وقت بہتوں کے قدم لڑکھڑا گئے کچھ نے تو استقامت کی جرأت دکھائی مگر بعد میں یہ کہتے ہوئی رخصت کوا پنا لیا کہ” ھذا زمان السکوت و ملازمۃ البیوت” یہ زمانہ خاموشی کا ہے اور اپنے دروازے بند کرکے بیٹھنے کا ہے۔کسی نے کہا کہ” ھذازمان حدیث،انما ھذا زمان بکاء و تضرع و دعاء "کہ یہ زمانہ درس واشاعت علوم سنت کا نہیں ہے بلکہ اللہ سے تضرع کرنے کا ہے“۔ مگر اس پوری جماعت میں صرف امام احمد ؒ کی شخصیت تھی جس نے فتن و بدعت کے آگے نہ سر جھکایا اور نہ خاموشی اختیار کی اور نہ بند کمرے میں بیٹھ کر دعاؤ ں کا سہارا لیا بلکہ دین خالص کے قیام کی راہ میں اپنے نفس اور وجود کو قربان کردیا۔امام بن تیمیہ کو بھی اسی امتحان سے گزرنا پڑا۔ہندوستان میں مغل شہنشاہ اکبر کو امامت کبری پرفائز کرنے والے اور امامت کے محضرپر دستخط کرنے والے بھی علمائے کرام تھے۔جن صاحبان صدق و صفا اور علما نے دستخط سے انکار کردیا ان کی زندگی کو عذاب بنانے والے بھی یہی لوگ تھے۔سلیم شاہ کے دربار میں ولی کامل شیخ علائی کی تذلیل وتعذیب کرنے والے یہی علما تھے۔ انگریزی استعمار کے خلاف جہاں علما قربانیاں دے رہے تھے وہیں انہیں سند جواز بخشنے میں بھی کچھ علما شامل تھے۔علمائے سو اور عبید الدنیا کے سیاہ کرتوتوں کی ایک پوری تاریخ ہے اور یہ کردار آج بھی ہرجگہ اور ہرمقام پرموجودہے اور آج بھی اس کردار کے حاملین ارباب صد ق و صفاکی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔
عقیدت و احترام کا بت تراشنے والے کون لوگ ہیں؟تنقید اور غلطیوں کی نشاندہی کرنے والوں کی زبان خاموش کرانے کیلئے پولس اور صاحب اقتدار کی قربت کی بدولت جھوٹے مقدمات کرنے والے وہی ہیں جو ہمیشہ حکمرانوں کے دسترخوان پر ضیافت کا لطف اٹھاتے رہے ہیں اور ان کی غلط کاریوں کی تائید کی ہے۔طرفہ تماشا دیکھئے کہ حکومتیں آئی اور گئیں، سیاسی لیڈران ابھرے اورزوال کا شکار ہوگئے مگریہ طبقہ آج بھی موجود ہے۔ہر ابھرتے ہوئے لیڈر کے ارد گرد حلقہ بگوش نظر آتا ہے۔بے بسی کا عالم دیکھئے کہ کولکاتا کا ملی الامین کالج مسلمانوں سے چھین لیا گیا، مغربی بنگال کے مشہور تاریخی ہگلی مدرسہ پر تالا لگ گیا۔وقف جائداد میں گھپلے کی جانچ کی تحریک دم توڑگئی۔2011سے قبل تحریک چلانے والے سب حکومت کی قربت کا فائدہ اٹھارہے اور دسترخوان پر بوٹیاں توڑ رہے ہیں۔سچر رپورٹ کو 15سال بیت گئے مگر بنگال کے مسلمانوں کی حالت میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے۔مسلمانوں کیلئے کام کرنے کی دعویدار تنظیمیں اور جماعتیں و جمعیتیں اور کونسل آج صرف مسلمانوں کو سلاطین کا پرستار بنانے میں لگی ہوئی ہیں۔ْخانقاہوں کے سجادہ نشینوں نے اپنی سجادیت کا سودا کرلیا ہے۔آج مسلم ادارے حکمرانوں کے ہاتھوں کھلونا بن چکے ہیں۔مسلم اداروں کی قسمت ان کے ہاتھوں میں ہے۔مسجد کا امام کون بنے گا یہ فیصلہ بھی آج حکمراں کررہے ہیں۔کئی سال قبل ایک امام نے”ایک عظیم خاتون“ کو راکھی باندھی تھی مگر مسلمانوں کی غیرت نہیں جاگی،اس کے بعد بھی وہ کئی سالوں تک امامت پرفائز رہے،مگر جب وہی امام محترم سیاسی بیانات و عزائم کا اظہار کرنے لگے تو ایک اشارے پر صحافت، سیاست اور”صاحب جبہ و دستار“اس امام کی معزولی کیلئے جٹ گئے۔اس سے بڑھ کر تنزلی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔ حکمراں جماعت کے سیاسی پروگرام میں دست بستہ کھڑے ہوکر قرآن خوانی کرنے والے یہ ائمہ کرام کی‘سیاسی اپروچ‘ اس وقت بونی ہوجاتی ہے جب تلنی پاڑہ، حاجی نگر، دے کنگا اورمرشدآباد میں مسلمان ظلم و تشدد اور فرقہ واریت کے شکار ہوتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کی قیادت و سیادت کے زعم میں مبتلا ائمہ اور مدعیان علم و مشیخت اور زہد فروشان سجادۂ طریقت تسبیح کے دانے گننے میں لگ جاتے ہیں۔شاعر نے صحیح کہا ہے:
ہم بڑی چیز سمجھتے تھے، یہ مے خانے میں
نکلا اک جام کی قیمت بھی نہ ایماں اپنا
اور علامہ اقبال نے یہ کہا تھا:
فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جومسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
میرا قصور یہی ہے کہ میں نے مسلمانوں کو سلاطین کا پرستار بنانے والوں کی راہوں میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں، حکومت کے اشاروں پر منصب امامت کی توہین کرنے والوں کو آئینہ دکھا یا ہے۔مساجد کو سیاسی اکھاڑہ بنانے والوں کی کلائی پکڑی ہے۔عید جیسی عبادت کا سیاسی کرن کئے جانے پر انگشت نمائی کی ہے۔میرا جرم یہ ہے کہ پوری قوت کے ساتھ لکھا کہ انتخابی سیاست میں مساجد و مدارس کا کردار غیر جانبدارہونا چاہیے اور پارٹی خاص کیلئے اپیل کرکے فرقہ پرستوں کو فائدہ نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔چند ہزار روپے کی خاطر ائمہ مساجد کو صفوں میں کھڑا کرکے تذلیل وتحقیر پر آواز بلند کی ہے۔ سیاست کے طالع آزماؤں کے ذریعہ مسلم اداروں پر قبضہ کئے جانے کے خلاف آواز بلند کی ہے۔اگر یہ سب جرم ہے تومیں یہ کہتا ہوں کہ اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرتا رہوں گا۔چاہے اس کیلئے جوبھی قیمت چکانی پڑے اور یہ ایک کھلا چیلنج ہے:
ہزار دام سے نکلا ہوں اک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے، کرے شکار مجھے
جہاں تک علمائے کرام کی توقیر کی بات ہے،ا س سلسلے میں حجت الاسلام علامہ ابن قیم نے کئی صدی قبل ہماری رہنمائی کردی ہے کہ صحیح راہ حق و اعتدال کی ہے اور دونوں کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ایک یہ کہ ہرحال میں کتاب و سنت نصوص شرعیہ کو مقدم رکھنا چاہیے،اور اسی حکم پر عمل کرنا چاہے دوسری یہ کہ تمام ائمہ اسلام اور علمائے حق سے حسن ظن و محبت و ارادت رکھنا چاہیے۔مگر ائمہ و اکابرین کی پیروی اور محبت و اعتقاد کا یہ معنی ہرگز نہیں ہے کہ احکام شرعیہ و نصوص کو تابع ومحکوم بنادیا جائے اورچند غیر معصوم انسانوں کی خاطر کتاب وسنت کو ترک کرکے ”اتخذو ا احبارھم و رھبانہم اربابا من دون اللہ“ کی سرحد کو عبور کرلیا جائے۔جہاں تک عزت و احترام کی بات ہے تو علمائے کرام ہی کیوں قرآن کریم نے ہمیں یہ دعا سکھلائی ”لاتجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنو“جب عام مومن سے بعض و غل رکھنے کی اجازت نہیں ہے تو اصحاب علم و فضل سے غل اور بعض رکھنا کب جائز ہوسکتا ہے۔مگرشرط یہ ہے کہ وہ حق کے راہی ہوں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)