سوشل میڈیا سٹریس-سیماب عارف

اکیسویں صدی کا سب سے فضول مگر خطرناک سٹریس،سوشل میڈیا سٹریس ہےـ ایک اجنبی فرد کا ایک بے تکا فضول کمنٹ، ایک "ٹرول”(تضحیک، ٹھٹھہ)،ایک بے کار، بےفائدہ اور بے نتیجہ بحث آپ کا پرسکون خوشگوار اور خوبصورت دن برباد کرنے کے لیے کافی ہےـ آخر کیوں؟؟؟ کسی بھی ثقل،خجل،درہم،برہم اور خواہ مخواہ کو کس نے اجازت دی کہ وہ ہماری زندگی پہ اتنا حاوی ہوجائےـ
(ناموں کی یہ مماثلت محض اتفاقی ہو گی ورنہ لکھاری نے اصلی کرداروں کو فرضی ناموں سے بدل دیا ہے)
کس نے اجازت دی؟
ہم نے
جی ہاں! ہمی نے مندرجہ بالا لوگوں اور بقیہ ایروں غیروں اور نتھو خیروں کو اتنی اہمیت دی کہ وہ ہماری ذاتی زندگیوں میں گھسیں اور فسادن خالہ کا کردار ادا کریں ـ
(خالہ کا استعمال بھی محض فرضی ہے کیونکہ اس سے پہلے پھپھو کے لفظ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے)
تو بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس بات کا احساس پیدا کریں کہ ہمارا کوئی جملہ،کوئی ٹھٹھہ،کوئی بے تکی بحث یا تبصرہ کسی دوسرے فرد کے لیے زہرآلود تیر نہ بنےـ کسی کے لیے احساسِ کمتری،تکلیف یا سٹریس اور پریشانی کا باعث نہ ہو ـ وہیں دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم اپنی زندگی کے صرف وہ پہلو سوشل میڈیا تک لے جائیں جن میں پبلک کی مداخلت ہمارے لیے ناگواری کا باعث نہ بن جائے اور اگر اپنی زندگی کو سوشل میڈیا سے جوڑیں تو پھر ان سب سے بے نیاز ہوجائیں ـ لوگوں کے رویوں اور الفاظ کو خود پر اثرانداز نہ ہونے دیں کہ یہ "سوشل” میڈیا ہے،لوگ تو آئیں گے،بنا دستک،بلا ضرورت،بغیر اجازت ـ سو اپنے موڈ اور احساسات کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں،اپنی زندگی کی گاڑی کا سٹیئرنگ کسی اور کے ہاتھ میں نہ دیں اور سب سے بڑھ کر اپنے ساتھ وقت گزاریں،سوشل میڈیا کو ایک tool بنائیں،نشہ نہیں،زندگی نہیں، ورنہ یہ منہ زور سیلاب آپ کا سب کچھ بہا لے جائے گاـ آپ کا ٹیلنٹ بھی اور آپ کا سکون بھی ـ
قدرتی ماحول اور فطری مناظر سے رابطہ جتنا مضبوط ہوگا،مصنوعی دنیا اتنی کم اثراندازہوگی ـ سکرین سے دور بھی ایک زندگی ہے اور بہت دلچسپ بھی،بس توجہ ادھر ہو ذراـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*