سوشل میڈیا پر رحم دل بنیں !- امِ ہشام

سوشل میڈیا پر رحم دل بننے کا تعلق اس رویے سے ہے جو عموما لوگ یہاں دوسروں کے تئیں اپناتے ہیں۔ چونکہ یہاں موجود لوگوں سے ہمارا کوئی ذاتی تعلق نہیں،کوئی جان پہچان نہیں، یہاں ہر کوئی ایک دوسرے سے ناواقف ، لاعلم ہے۔اس لیے ہم کسی پر بھی تبصروں کے ذریعے ذاتی حملہ کر سکتے ہیں ۔
یہ ایک ایسا رویہ ہے جس میں کم تعلیم یافتہ انسان سے لے کر ذہین وفطین باشعور و باصلاحیت ، سنجیدہ لوگوں کو بھی ملوث ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
کسی وائرل ویڈیو پر ، کہیں کسی سماجی وسیاسی خبر پر گاوں دیہات کی خواتین کے خلوت کے انتہائی گھٹیا وائرل ویڈیوز پر تبصرے جھاڑنا ، کسی ناچنے گانے والی یا پبلک فگر خواتین پر پھبتیاں کسنا ، لعنت ملامت بھیجنا عین اسی جگہ جاکر پردے کے فضائل بیان کرنا اور گندی گندی گالیاں دے کر انہیں جہنم رسید کرانا۔ یہ اخلاقیات اور انسانیت سے گرے ہوئے رویے ہیں جو کافی تشویش ناک اور افسوس ناک ہیں ۔
لمحے میں انسان کی برسوں کی کمائی ہوئی عزت کو کڑوے کسیلے تبصروں سے ملیامیٹ کردینا ، ہاتھ دھوکر کسی ناپسندیدہ قلم کار کے پیچھے لگ جانا ، اختلاف ہونے کی صورت میں دادا باوا تک چڑھ جانا ۔ مغلظات بکنا، ذاتیات پر حملے کرنا، پستیِ کردار کا پروانہ تقسیم کرنا ، انباکس یا گروپس بناکر غیبتیں کرنا، اسکرین شارٹس پھیلانا، سیاسی و جماعتی پلیٹ فارم پر خیالات کے اختلاف کی بنا پر ان کی پوسٹس پر گندی گالیوں کی بوچھار کرنا ۔ مذکورہ باتیں سوشل میڈیا ٹرولنگ کے زمرے میں آتی ہیں ۔ ہم کوشش کریں کہ ہم سے ایسے گھٹیا کام سرزد نہ ہوں۔
اسکرین پر ہم بھلے ہی کسی سے یکسر انجان و اجنبی ہوں، لیکن اسکرین کے پیچھے جو موجود ہے وہ ایک گوشت پوست کا انسان ہے، اس کے بھی سینے میں دل دھڑکتا ہے اور اسے بھی تکلیف ہوسکتی ہے۔ وہ ہرٹ ہوسکتا ہے اور ڈپریشن اور احساس کمتری کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ یہ پہلا قدم ہوسکتا ہے انسانیت کی طرف ۔ ہم صلاحیتوں کو صیقل کرنے والے بنیں ، نہ کہ لوگوں کی اینگزائٹی اور ڈپریشن بڑھانے کی وجہ بنیں۔
یہاں ایک قلم کار کو کئی سالوں سے پڑھ رہی ہوں ۔پہلے ان کی تحریریں بامقصد، نکھری نکھری اور منفرد ہوا کرتی تھیں۔ پھر دیکھا کہ کسی معمولی اختلاف پر لوگوں نے ان کی ٹرولنگ شروع کردی ۔اب احساس کمتری کی شکار ان کی تحریروں میں بے مقصد باتیں ، ہر وقت کی اپنی صفائیاں اور بات بات پر طنزیہ تبصرے ہی بچے ہیں،
ہم نے انہیں کھودیا۔ سوشل میڈیا ڈمپنگ گراونڈ نہیں ہے ۔اسے استعمال کرنے والے زیادہ آلودہ ہیں۔ اس طرح ہم سب مل کر نہ جانے کتنی صلاحیتوں کو رفتہ رفتہ موت کے گھاٹ اتاردیں گے ۔