سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ سے نمٹنے کے لیے حکومت ویب سائٹ بنانے پر غور کر رہی ہے

 

نئی دہلی:میڈیاکوکنٹرول کرنے کے بعدسوشل میڈیانشانے پرہے۔جہاں بی جے پی آئی ٹی سیل کوتوپوری آزادی ہے لیکن اپوزیشن کے کسان ا حتجاج پرپوسٹ پربھی کارروائی ہورہی ہے۔اب سوشل میڈیاکوقابوکرنے کی مبینہ کوششیں جاری ہیں۔حکومت نے قابل اعتراض آن لائن پوسٹوں پرروک لگانے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ فی الحال شکایت کنندہ یا تو ان موادکوعدالت میں چیلنج کرسکتا ہے یا جارحانہ ، دھمکی آمیز پوسٹوں سے پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرنے کے لیے سوشل میڈیا ہینڈل کو رپورٹ کرسکتا ہے۔اب آئی ٹی ایکٹ میں نظر ثانی کے عمل میں تیزی آرہی ہے ، مرکزی حکومت سائبراسپیس سے متعلق امور کو تیزی سے نمٹانے کے لیے ایک متبادل نظام پر غور کررہی ہے۔متبادل نظام کو اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قابل اعتراض مواد کے خلاف شکایات پر سخت کارروائی کرے۔ذرائع کے مطابق حکومت ایسے آپشن پر غور کر رہی ہے کہ جو لوگ آن لائن پرتشدد مواد کے بارے میں عدالتوں یاپولیس سے رابطہ نہیں کرنا چاہتے وہ انصاف پائیں یا اپنی شکایات کا جلد ازالہ کرسکیں۔بی جے پی آئی ٹی سیل کے متنازعہ کمنٹ بھرے پڑے ملتے ہیں۔ ویب سائٹ بنانے کے لیے ایسے ہی ایک آپشن پر غور کیا جارہا ہے۔ جہاں آن لائن تشددیاقابل اعتراض پوسٹ کے متاثرین کی شکایات کا بروقت حل کیا جاسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ایسے معاملات میں حل کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت کی حد 48 گھنٹے ہوں گے۔وزارت داخلہ کے مطابق پچھلے تین سالوں میں ساٹھ ہزار سے زیادہ سائبر جرائم درج کیے گئے ہیں۔وزارت نے کہاہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورویعنی این سی آر بی کے مطابق سال 2016 سے 2018 میں سائبر کرائم کے 27،248 واقعات درج کیے گئے ہیں۔