سوشل میڈیا پر گھناؤنا کھیل !ـ شکیل رشید

یہ نیا بھارت ہے۔ خدارا جاگ جائیے!
میرے واٹس ایپ پربرادرِ اکبر فرید احمدکی بھیجی ہوئی ایک پوسٹ کی مذکورہ سطر نے مجھے پوری پوسٹ پڑھنے اور اُس پوسٹ سے متعلق ویڈیو دیکھنے پر مجبور کر دیا ۔پوسٹ پڑھی اور ویڈیو دیکھی تو غصے اور شرم کی ملی جلی ایسی کیفیت طاری ہوئی جسے میں کوئی نام دینے سے قاصر ہوں ۔پوسٹ کی شروعات بھیجے گیےاس ویڈیو کے جملوں سے کی گئی تھی ،جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے ۔جملے نیوز چینل ’سی این این ‘ کی ڈیفینس ایڈیٹر شریا ڈھونڈھیال کے تھے ،اور یوں تھے:’’ایک صبح آپ جاگتی ہیں تو خود کو ’’آنلائن‘‘ سیل پر پاتی ہیں، یعنی آپ کی تصویر اور دوسری تفصیلات ، آپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے چرا کر’’ سُلّی ڈیل‘‘ نام کے ویب سائٹ پر آپ کی نیلامی ہو رہی ہے اور لوگ بولیاں لگا رہے ہیں اور آپ پر غیر مہذبانہ تنقید اور تشریح کر رہے ہیں۔ سلّی مسلم عورتوں کو کہا جاتا ہے اور ڈیل بمعنی کاروبار ۔ یہ معاملہ اسی ہفتہ سیکڑوں مسلم لڑکیوں کے ساتھ ہوا تھا ۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کون تھا لیکن صرف مسلم لڑکیاں ہی ٹارگٹ کی گئی تھیں تو یہ سوال بےمعنی ہو جاتا ہے۔‘‘ پوسٹ بھیج کر یہ کمنٹ کیا گیا تھا کہ ’’ بہتر ہوگا کہ ہماری بچیاں اب سوشل میڈیا کا کھیل بند کر دیں ورنہ مستقبل بڑا ہی بھیانک دِکھ رہا ہے۔‘‘ میں نے مذکورہ پوسٹ کے بعد ’’ سلّی ڈیل ‘‘ کی کچھ تفصیلات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ دہلی پولیس کے سائبر کرائم سیل نے اس معاملہ میں ایک ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور باقاعدہ اس کے لیے ایک ٹیم تیار کی گئی ہے۔ ایک اوپن سورس پلیٹ فارم GitHub پر مذکورہ ایپ پوسٹ کیا گیا تھا ،اور اس کے ذریعے مسلم لڑکیوں کی تصویروں پر،جو ٹوئٹر سے چوری کی گئی تھیں ،بولیاں لگائی جا رہی تھیں ۔کوئی ۸۰ لڑکیوں کی تصویریں لوڈ کی گئی تھیں ،جنہیں اپنی تصاویر کے چوری ہو جانے کی اور ایک ایپ پر ان تصویروں کی نیلامی کی کوئی خبر نہیں تھی۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جون کے دوسرے ہفتے میں اس ایپ کو شروع کیا گیا اور ۴ سے ۵ جولائی کے درمیان اسے خوب دیکھا گیا ، جب اس تعلق سے ٹوئٹر پر کچھ ہلچل شروع ہوئی تو یہ ایپ لوگوں کی نظر میں آیا اور اس کے خلا ف شکایتیں کی گئیں ، ممبئی اور نوئیڈا میں بھی شکایات سامنے آئی ہیں ۔ حالانکہ مذکورہ پلیٹ فارم سے اس ایپ کو ہٹالیا گیا ہے مگر اُس پلیٹ فارم کی سی ای او ایریکا بریزیا نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اس انتہائی قابلِ نفرت ایپ کی ہوسٹنگ کے پیچھے کون ہے؟ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پورے بیس دنوں تک یہ شرمناک ایپ چلتا رہا ،اسے بند کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی ۔اور اگر ’کے‘ نامی ایک خاتون نے ، اپنی تصویر پر بولی لگنے کی شرمناک حرکت خود نہ دیکھی ہوتی ،اور اس پر شدید ردِ عمل کا اظہار نہ کیا ہوتا تو شاید یہ مذموم ایپ سامنے آتا ہی نہیں۔ فاطمہ خان نام کی ایک جرنلسٹ اس ایپ پر اپنی تصویر دیکھ کر دنگ رہ گئی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنا سب ہوگیا کیا اس پر کوئی شدید ردعمل آیا ؟ وہ جو مسلم خواتین کے غم میں گھلے جا رہے تھے ،کیا انہوں نے اس معاملے کی کوئی خبر لی؟ خواتین کے قومی کمیشن نے خیر دہلی پولیس کو اس معاملہ میں نوٹس بھیج دیا ہے ،لیکن کیا ہمارے پی ایم نے ،جو مسلم خواتین کو طلاقِ ثلاثہ سے چھٹکارہ دلا کر مبارک بادیاں لوٹ چکے ہیں ،کسی طرح کے ردعمل کا اظہار کیا؟افسوس یہی ہے کہ کسی جانب سے کوئی آواز نہیں اٹھی ہے۔ مسلم خواتین کو ایک ایسے موقعے پر بےیار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے جب انہیں اس کی زیادہ ضرورت تھی ۔ یرقانیوں کو چھوڑیں اس معاملہ میں مسلم تنظیمیں اور جماعتیں بھی خاموش ہیں ،جبکہ یہ بہترین موقع جھوٹے کو پکڑ کر گھر تک پہنچانے کا ہے۔ بس ایک آخری بات: کیا یہ ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی تصویریں اور اپنے تعلق سے ہر طرح کی معلومات شیئر کی جائیں ؟ یہ سوال مسلم خواتین سےبھی ہے اور مسلم مردوں سے بھی ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)