سوشل میڈیا جمہوریت کا خون کررہاہے-ویر سنگھوی

ترجمہ:نایاب حسن

پچھلے ہفتے ادھو ٹھاکرے کوخود اس خبر کی تردید کرنا پڑی کہ ممبئی میں 15 جون سے دوبارہ لاک ڈاؤن لگایا جائے گا۔ ایسی خبروں کا زمینی سطح پر اتنا اثر تھا کہ پورے شہر میں لوگ سامانوں کی ذخیرہ اندوزی کرنے لگے تھے اور حیرت کا اظہار کررہے تھے کہ کیا انھوں نے دوبارہ بہت جلدی اپنے کام شروع کر دیے ہیں؟اسی طرح دہلی میں بھی 15جون سے دوبارہ لاک ڈاؤن لگائے جانے کی خبریں گشت کر رہی تھیں،البتہ ان کا دائرہ ممبئی جتنا وسیع اور تیز نہیں تھا،پھر بھی وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ کو ایسی خبروں کی تردید کرنا پڑی۔ان خبروں کی خاص بات یہ تھی کہ ان کا کوئی قابلِ اعتماد سورس نہیں تھا،نہ ان کی نسبت کسی ایسے شخص کی طرف کی گئی تھی،جو اس قسم کا فیصلہ لینے کا اختیار رکھتا ہے یاجو سچ جانتا ہے۔یہ خبریں ٹی وی چینلز یا اخبارات میں بھی شائع نہیں ہوئی تھیں؛بلکہ ان کی اشاعت فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے ہوئی تھی اور فیس بک یا واٹس ایپ پر تو آپ آزاد ہیں،آپ کو کوئی حوالہ دینے یا کسی ماخذ کا ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔لوگ جو کچھ اپنے موبائل پر دیکھتے ہیں اسے سچ مان لیتے ہیں اور اگر اسے وہ پوری طرح سچ نہ مانیں پھر بھی ان کے دماغ میں اس کے اثرات باقی رہ جاتے ہیں۔
واٹس ایپ پر شائع ہونے والی خبروں کی اثر اندازی کوئی نئی بات نہیں ہے۔واٹس ایپ کو سیاسی پارٹیوں اور متعصب جماعتوں کی جانب سے مسلسل فوٹو شاپڈ تصاویر اور فرضی خبریں عام کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا رہاہے۔واٹس ایپ فاورڈ کے نتیجے میں کئی فسادات رونما ہوچکے اور فرضی خبروں کی وجہ سے بہت سی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔مگر گزشتہ چند ماہ کے دوران ،صرف واٹس ایپ نہیں،فیس بک کی سطح پر بھی،سوشل میڈیا کی معتبریت میں زبردست گراوٹ آئی ہے اوراسے مخصوص ایجنڈا سیٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔امریکہ میں جارج فلائڈ کے قتل کے بعد لوگوں کے جذبات بر انگیختہ کرنے کے لیے مینی پولیس (امریکی شہر)کے ایک پولیس افسر کے ذریعے فیس بک پر نہایت بوگس معلومات پر مبنی پوسٹس استعمال کی گئیں۔مگر حسنِ اتفاق کہ اس کی وجہ سے امریکہ میں فیس بک کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجات ہوئے اور ٹی وی چینلز و اخبارات کے ذریعے ایسی معلومات کی واضح تردید کی گئی۔افسوس ہے کہ ہمارے یہاں ہندوستان میں امریکہ جیسا کوئی ایسا اصول یا میزان نہیں،جس کےذریعے ایسی خبروں اور معلومات کی چھان پھٹک کی جاسکے۔
ایک زمانہ تھا جب ٹی وی نیوز چینلوں کی دلچسپی اس میں ہوتی تھی کہ ہندوستان میں کیا ہورہاہے؟وہ سچ دکھانے کی کوشش کرتے تھے۔تجارت میں ان کا خزانہ سچائی تھی،جذبات کی کھیتی نہیں۔مگر گزشتہ چند سالوں کے دوران خبروں سے نیوز چینلوں کی دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔خاص طورپر اس کا انطباق بہت سے مقامی نیوز چینلوں پر ہوتا ہے،گرچہ زیادہ تر تجزیہ کار قومی سطح کے ہندی و انگریزی نیوز چینلوں پر فوکس کرتے ہیں۔ٹی وی چوں کہ ایک تجارتی میڈیم ہے؛ لہذا خرچے میں کمی کرکے آمدنی کو بڑھانے کے جتن کرنا منطقی ہے۔خبریں شائع کرنے میں پیسے خرچ ہوتے ہیں؛اس لیے بہت سے چینلز نے کم خرچ والا فارمولا اپناتے ہوئے اسٹوڈیو ڈبیٹس(مباحثوں)کا کلچر اپنا لیاہے۔اس صورت میں بڑا خرچہ صرف اسٹوڈیو اوراور اینکر پرکرنا پڑتا ہے۔پرانے زمانے میں چینلزاُن کمپیئر پرسنز کو تنخواہیں دیتے تھے،جو اسٹوڈیو سے باہر جاکر مہمانوں سے مذاکرہ کرتے تھے،مگر اب زوم،اسکائپ آگئے ہیں اور مہمانوں کو آن ایئر لینے کا خرچہ زیرو ہوگیا ہے۔
1970کی دہائی میں میڈیا پنڈت مارشل مکلوہان(Marshall Mcluhan)نے لکھا تھاکہ’’ ریڈیو ایک ’’ہاٹ‘‘میڈیم ہے جو لوگوں کے جذبات بھڑکا سکتا ہے(جیسا کہ اڈولف ہیٹلر اور ونسٹن چرچل نے اپنے ریڈیو خطابات کے ذریعے کیاتھا)اور ٹی وی ایک ’’کولڈ‘‘میڈیم ہے،جو معقول تجزیے کے لیے زیادہ موزوں ہے‘‘۔مگر ہم جانتے ہیں کہ آج کی دنیا میں اس کی یہ بات بالکل غلط ہے۔آج تو ٹی وی’’سب سے زیادہ گرم اور اشتعال انگیز‘‘میڈیم ہوگیا ہے،جوزیادہ تر جذبات انگیزی اور خوف پھیلانے میں مشغول رہتا ہے۔یہ اسی وقت ٹھیک طرح کام کرتا ہے جب اسٹوڈیو میں تصادم اور کشمکش کا ماحول ہو؛چنانچہ یہ حقیقی خبروں کی بجاے جذباتی ایشوز کو چھیڑنا زیادہ پسند کرتا ہے۔اس سے ٹی وی نیوز چینلوں کا خرچہ ہی کم نہیں ہوتا،آمدنی بھی بڑھتی ہے۔سچائی یہ ہے کہ ناظرین اسی قسم کی چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔وہ ان چیزوں کو اہتمام اور دلچسپی سے دیکھتے ہیں،انھیں اس سے کوئی مطلب نہیں کہ چینل پر دکھائی جانے والی چیز واٹس ایپ فارورڈ یا اس سے بھی کم درجے کی سچائی رکھتی ہے۔
ایسے ماحول میں ایک ہی میڈیم تھاجس کے بارے میں ایسا احساس تھا کہ وہ صحیح خبریں فراہم کرتا ہے اور وہ مطبوعہ اخبارات کی صورت میں تھا۔مگر اس وقت ساری دنیا کے اخبارات کو زبردست چیلنجز کا سامنا ہے،کچھ بڑے اخبارات ہی ہیں،جو صحیح خبریں شائع کرنے کے اپنے عہد پر کسی نہ کسی طرح قائم ہیں۔میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ ہندوستان میں بھی ایک دن ایسا ہی ہوگا۔مگرکووڈ۔19 نے ساری چیزیں بدل دی ہیں۔ متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ یہ وائرس کاغذ پر زیادہ دیر باقی نہیں رہتا(اور کچھ تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ اخبارات پر تو یہ وائرس سرے سے اثر انداز نہیں ہوتا)مگر اس کے باوجود ہندوستانی مڈل کلاس کے دل دماغ میں یہ خیال جاگزیں ہے کہ اخبارات انفیکشن کا سب سے بڑا ذریعہ ہوسکتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ متعدد ریاستوں میں وہاں کی حکومتوں نے اخبارات کے سرکولیشن پر روک لگا رکھی ہے،جبکہ دوسری کئی جگہوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ریسیڈنٹس ویلفیئر اسوسی ایشنز نے ان پر پابندی لگا رکھی ہے۔اکثر تو پابندی لگانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی،بہت سے واٹس ایپ فارورڈز ہیں جن میں یہ کہاگیا کہ ڈلیوری بوائز کورونا پازیٹیو ہیں اور وہ جان بوجھ کر اسے پھیلا رہے ہیں۔میں ایسے کئی مڈل کلاس دانش وروں کو جانتاہوں جو اس قسم کی طبقاتی بکواس میں یقین رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے انھوں نے اپنے گھروں میں اخبارپہنچانے والوں کو بین کر رکھا ہے۔اس کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ ملک کے زیادہ تر لوگ اخبار نہیں دیکھ پارہے ہیں اور نہ انھیں ٹی وی کے ذریعے خبریں ملتی ہیں(کیوں کہ چند ایک چینلوں کو چھوڑکر کوئی بھی چینل خبروں سے واسطہ نہیں رکھتا)۔ایسے میں ان کی معلومات کا بنیادی وسیلہ سوشل میڈیا بن گیا ہے۔کچھ نیوز ویب سائٹس بھی ہیں،مگر قارئین و ناظرین کے مابین سوشل میڈیا جیسا اثر و رسائی ان میں سے چند ایک کو ہی حاصل ہوگی۔
الغرض بہ تدریج ہم ایک ایسے معاشرے میں بدلتے جارہے ہیں،جسے یہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں کہ حقیقتِ واقعہ کیا ہے؟اسے یہ بھی پتا نہیں کہ خبر کیا ہوتی ہے؟اور وہ پوری طرح ایسے کسی بھی شخص کے رحم و کرم پر منحصر ہوگیا ہے،جو سوشل میڈیا پر فرضی خبریں اور جھوٹ پھیلاتا رہتا ہے۔سچائی کے بغیر جمہوریت کا کوئی وجود نہیں ہوسکتا اور سچائی بغیر حقائق کے اپنا وجود نہیں رکھتی، جبکہ اس وقت وطنِ عزیز کی صورتِ حال یہ ہے کہ نہ یہاں سچائی ہے،نہ حقائق ہیں،ہر چہار جانب مفروضات، پروپیگنڈہ اور فیک نیوز کا بول بالا ہے۔مجھے امید ہے کہ اس وبا کے گزرنے کے بعد حالات میں کچھ تبدیلی آئے گی،مگر ممکن ہے کہ تب تک کافی تاخیر ہوچکی ہواور ہم ایک ایسے معاشرے میں بدل چکے ہوں،جو سچائی اور حقائق کو قبول کرنے سے معذور اور سوشل میڈیاکو مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کا شکار ہوچکا ہو۔یہ تویقینی طورپر جمہوریت کے قتل کا راستہ ہے۔

(مضمون نگار انگریزی کے مشہور صحافی و ٹی وی اینکراور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ان کا اوریجنل مضمون17؍جون کو روزنامہ ’’ہندوستان ٹائمس‘‘ میں شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*