سوشل میڈیاپرجعلی خبروں کے خلاف سپریم کورٹ میں قانون سازی کی درخواست

نئی دہلی:سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریگولیٹری لگا کر جعلی میڈیا اور نفرت انگیز مواد پرروک لگانے کے لیے قانون بنانے کے لیے دائردرخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور دیگر کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی سربراہی میں بنچ نے اس معاملے میں مرکز اور دیگر افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کیس کو زیر التواء درخواست کے ساتھ ٹیگ کیا ہے۔ پہلے سے دائر درخواست میں کہاگیاتھاکہ میڈیا ، چینلز اور نیٹ ورکس کے خلاف شکایات کے لیے میڈیا ٹریبونل تشکیل دیاجائے اوراس معاملے میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو پہلے ہی نوٹس جاری کردیا ہے۔عدالت عظمیٰ میں درخواست گزار ایڈووکیٹ ونیت جندال کے ذریعہ دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت سے قانون کی ہدایت کرنے کو کہا گیا ہے۔ درخواست گزار نے کہاہے کہ جو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیزجعلی خبریں پھیلانے کا ذمہ دار ہے اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ درخواست میں کہاگیاہے کہ ایسا طریقہ کارہونا چاہیے کہ جعلی خبروں کو خود ہی مختصر وقت میں ختم کردیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اظہار رائے کا حق ایک پیچیدہ حق ہے اور اس میں مناسب پابندی ہے۔ یہ قطعی حق نہیں ہے اور اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی طے کی گئی ہے۔ روایتی میڈیا کے مقابلے میں سوشل میڈیا کی رسائی بہت زیادہ ہے۔ سوشل میڈیاکا غلط استعمال کرتے ہوئے متعددبارتشدد ہوا ہے۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت ، پریس کونسل آف انڈیا اور این بی اے سے اس درخواست پر جواب داخل کرنے کوکہاتھا کہ میڈیا ، چینلز اور نیٹ ورکس کے خلاف شکایات سننے کے لیے ایک آزاد میڈیا ٹریبونل تشکیل دیا جائے۔ 25 جنوری کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی سربراہی میں بنچ کے سامنے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک سابق چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے جسٹس میڈیا بزنس قواعد سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں پر غور کریں اور ہدایت نامے تجویزکریں۔ان کی سربراہی میں اسے تشکیل دیاجائے۔