سیاسی و سماجی ہنماؤں کی حکومت ہند سے اپیل، فلسطینیوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی جائے

نئی دہلی :ملک کے سیاسی و سماجی تنظیموں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر مشترکہ طور پر اپیل کیا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد بھیجی جائے ۔ اسرائیل ۔ فلسطین تنازعہ کے تازہ ترین مرحلے کے بعد، ہم غزہ میں فلسطینیوں شہریوں کی حالت زار پر آپ کی توجہ دلاتے ہوئے حکومت ہند سے ساز گار اقدامات کی امید کرتے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے ہم یو این ایس سی میں فلسطینیوں کے جائز حقوق کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے تنازعہ کے خاتمے پر زور دینے کے ہندوستانی سرکاری موقف کی ستائش کرتے ہیں۔ یہ راحت اور امید کی بات ہے کہ دونوں فریقوں نے جنگ بندی کو قبول کرلیا اور خطے کی صورتحال آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوتی جارہی ہے۔ فلسطینیوں کو خاص طور پر غزہ کے رہائشیوں کو انسانی جانوں اور املاک کا بے پناہ نقصان اور اب تک کا بہت بڑا انسانی بحران ہے اور ایسے میں تمام ممالک کی سرکاری اور غیر سرکاری حمایت چاہتا ہے۔ سینکڑوں یتیم بچوں اور بیوائوں کو اپنانے کے علاوہ ، راتوں رات بے گھر ہونے والے ہزاروں باشندوں کی باز آبادکاری اور نجی اور عوامی بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر نو بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ درحقیقت، غزہ کی 41کلو میٹر چھوٹی الگ تھلگ پٹی میں یہ کام صرف اور صرف ان کے قائدین ہی انجام نہیں دے سکتے ہیں۔ اتنے بھاری جانی و مالی نقصان کے باوجود بھی ان کی طرف سے جو عزم اور ہمت کا مظاہر ہ کیا گیا ہے اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جو بھی بیرونی مدد حاصل ہو اس سے وہ غزہ کی تعمیر نو اور بازآباد کاری کا کام مکمل کرلیں گے۔ ا س سلسلے میں ہم حکومت ہند کے سامنے مندرجہ ذیل درخواستیں پیش کرتے ہیں۔ 1)۔فلسطین کے عوام کو ہندوستانی روایتی حمایت کے مدنظر ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ غزہ کو خاطر خواہ رقم، ادویات اور سازو سامان بھیج کر امداد کی جائے ۔ 2)۔ چونکہ بہت سارے غیر سرکار ی تنظیمیں اور مخیر جماعتیں ہیں جو پیسوں اور اشیاء کے ذریعہ انسانی بحران کے وقت غزہ کو مدد فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں ، لہذا ، ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ مطلوبہ انتظامی احکامات جاری کرکے ان کو سہولیات فراہم کی جائے ۔ 3 )۔جیسا کہ معلوم ہوا ہے کہ غزہ میں موجودہ انتظامیہ میں فلسطینی اتھارٹی کا کردار بہت محدود ہے۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس کو یقینی بنائے کہ سرکاری امداد براہ راست وہاں پہنچ جائے اور دلچسپی رکھنے والی ہندوستانی این جی او ز اور گروپس کو امداد براہ راست غزہ بھیجنے کی اجازت دی جائے ۔ خط میںمندرجہ ذیل سماجی و سیاسی تنظیموں کے رہنمائوں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جنر ل سکریٹری ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ، ممتاز اسلامی اسکالر، مولانا اصغر امام مہدی، جنرل سکریٹری مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مسٹر کنور دانش، لوک سبھا ایم پی ، مسٹر ناصر حسین، رکن راجیہ سبھا، ایم کے فیضی ، قومی صدر سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، ڈاکٹر ایس کیو آرالیاس، صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، ڈاکٹر روی نائر، ڈائرکٹرSAHRDC، ڈاکٹر جان دیال، سکریٹری جنرل ، آل انڈیا کرسچن کونسل، مولانا توقیر رضا، ممتاز اسلامی اسلامی اسکالر اور کمیونٹی لیڈر، مفتی مولانا ارشد فاروقی ، دارلعلوم دیو بند وقف، مولانا عطاء الرحمن قاسمی، ڈائرکٹر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ، ڈاکٹر اسمی زہرہ، چیف کوآرڈنیٹر ویمن ونگ ، آل انڈیا مسلم پرسنسل لاء بورڈ، مسنر عظمی ناہید ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، پروفیسر حیسنہ ہاشیہ ، ممبر ملی کونسل، شبیر انصاری ، صدر AIMOBCآرگنائزیشن، او ایم اے سلام، چیئرمین پاپولرفرنٹ آف انڈیا، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن، مجتبی فاروق، ڈائرکٹر پی آر جماعت اسلامی ہند، نوید حامد ، صدر مجلس مشاورت، مولانا شمشاد رحمانی ، نائب امیر شریعت بہار، مولانا محمود دریا بندی، صدر علماء کونسل ، ممبئی، سید تنویر ہاشمی، سجادہ نشین خانقہ ہاشمیہ گلبرگہ، پروفیسر اختر الواسع، صدر مولانا آزاد یونیورسٹی ، جودھ پور، مولانا شبلی قاسمی ، ناظم امارت شریعہ ، مولانا طاہر مدنی، ناظم جامعتہ الفلاح، اعظم گڑھ، مولانا حافظ اطہر علی، ناظم جامعہ محمدیہ ممبئی ، مولانا شبیر ندوی، مہتمم ، مدرسہ اصلاح البنات، بنگلور ، نے دستخط کیا ہے۔